بیٹے کی ساس کے ساتھ نکاح کرنے کا حکم:
Question
ایک لڑکی مسماۃ نذیرہ کی شادی احمد سے ہوئی اس کے بعد نذیرہ کے والدین کے درمیان طلاق ہو گئی اب احمد کے والد کا نکاح نذیرہ کی والدہ سے صحیح ہے یا نہیں؟ یعنی اپنے بیٹے کی ساس کے ساتھ نکاح کرنا درست ہے یا نہیں؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں بیٹے کی ساس کے ساتھ نکاح کرنا در ست ہے ۔
شامی میں ہے:
قال الخير الرملي: ولا تحرم بنت زوج الأم ولا أمه، ولا أم زوجة الأب ولا بنتها ولا أم زوجة الابن ولا بنتها. (فتاوى الشامي: ۳/۳۱، سعيد).
فتح القدیر میں ہے:
فلذا أجاز التزويج بأم زوجة الابن وبنتها، وجاز للابن التزوج بأم زوجة الأب وبنتها. (فتح القدير: ۳/۲۱۱، فصل في المحرمات، دار الفكر).
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
لڑ کے کی ساس کے ساتھ باپ کا نکاح درست ہے یا نہیں؟
الجواب: ہاں، یہ رشتہ حرام نہیں حلال ہے ۔ (فتاوی رحیمیہ: ۲/۱۰۰ ۔ و فتاوی حقانیہ: ٤/۳۵٤) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.