سوتیلی ماں سے زنا کرنے پر حرمتِ مصاہرت کا حکم:
Question
اگر کسی شخص نے سوتیلی ماں سے زنا کیا تو حرمتِ مصاہرت ثابت ہو گی یا نہیں؟ یعنی وہ عورت اس کے شوہر کے لیے حرام ہو جائے گی یا نہیں؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں حرمتِ مصاہرت ثابت ہو جائے گی یعنی سوتیلی ماں اس کے شوہر پر حرام ہو جائے گی ۔
ملاحظہ ہو شامی میں ہے:
قال في البحر: أراد بحرمة المصاهرة الحرمات الأربع حرمة المرأة على أصول الزاني وفروعه نسباً ورضاعاً وحرمة أصولها وفروعها على الزاني نسباً ورضاعاً كما في الوطئ الحلال ويحل لأصول الزاني وفروعه أصول المزني بها وفروعها. (فتاوى الشامي: ۳/۳۲، فصل في المحرمات، سعيد).
فتح القدیر میں ہے:
وثبوت الحرمة بمسها مشروط بأن يصدقها أو يقع في أكبر رأيه صدقها، وعلى هذا ينبغي أن يقال في مسه إياها، لا تحرم على أبيه وابنه إلا أن يصدقاه أو يغلب على ظنهما صدقه. (فتح القدير: ۳/۲۲۲، فصل في بيان المحرمات، دار الفكر).
فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:
وتحرم الموطوءة على أصول الواطئ وفروعه، ويحرم على الواطئ أصولها وفروعها وكذلك النظر إلى داخل الفرج بشهوة واللمس بشهوة. (الفتاوى التاتارخانية: ۲/٦۱۸، اسباب التحريم، إدارة القرآن).
فتاوی دار العلوم میں ہے:
سوال: اگر کوئی شخص اپنے باپ کی زوجہ یعنی سوتیلی ماں سے زنا کرے تو وہ عورت اس کے باپ کے واسطے حلال رہے گی یا نہیں؟
الجواب: وہ عورت باپ کے لیے حلال نہ رہے گی، لیکن اگر ثبوت زنا کا شہادتِ شرعیہ سے نہ ہو اور باپ اس کو تسلیم نہ کرے تو پھر باپ کے ذمہ علیحدہ کرنا اس کا لازم نہیں ہے، اور اس کے حق میں حرمت ثابت نہ ہو گی ۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند: ۷/۳٤۱، مدلل و مکمل) ۔
مزید ملاحظہ ہو: کفایت المفتی: ۵/۱۸۰، دار الاشاعت ۔ و فتاوی حقانیہ: ٤/٤۱٤) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.