سالی سے زنا کرنے پر حرمتِ مصاہرت کا حکم:
Question
دو بہنیں ہیں، دونوں کی شادی ہو چکی ہے اب چھوٹی بہن کا شوہر بڑی بہن کے ساتھ ناجائز کاموں میں ملوث ہے، حتی کہ زنا کاری تک نوبت پہونچ چکی ہے، تو کیا ایسی حالت میں اس کی اصلی عورت نکاح سے خارج ہو جائے گی یا نہیں؟ اور اگر وہ نکاح سے خارج ہو جائے تو اس کو اب کیا کرنا چاہیے؟ شریعت کی روشنی میں تشفی بخش جواب مرحمت فرمائے، عین کرم ہوگا ۔
Answer
صورتِ مسئولہ میں چھوٹی بہن کے شوہر کا بڑی بہن کے ساتھ ملوث ہونا اور زنا کاری کرنا ناجائز بلکہ حرام ہے، اس فعل بد سے توبہ کرنا لازم ہے، اور بڑی بہن سے خلط و اختلاط رکھنا ہی نہیں چاہیے، اور اس سے دور رہنا ضروری ہے، تاہم شرعاً دونوں بہنوں کے نکاح پر کوئی اثر مرتب نہیں ہوا، اور ہر ایک بہن اپنے شوہر کے نکاح میں بدستور رہے گی ۔
ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:
وفي الخلاصة: وطئ أخت امرأته لا تحرم عليه امرأته. وفي الشامي: هذا محترز التقييد بالأصول والفروع وقوله: لا تحرم أي لا تثبت حرمة المصاهرة، فالمعني: لا تحرم حرمة مؤبدة. (الدر المختار مع الشامي: ۳/۳٤، فصل في المحرمات، سعيد).
البحر الرائق میں ہے:
أراد بحرمة المصاهرة الحرمات الأربع حرمة المرأة على أصول الزاني وفروعه نسباً ورضاعاً وحرمة أصولها وفروعها على الزاني نسباً ورضاعاً كما في الوطئ الحلال ويحل لا صول الزاني وفروعه أصول المزني بها وفروعها. (البحر الرائق: ۳/۱۰۱، فصل في المحرمات، كوئته).
فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
سالی سے زنا کرنے میں زوجہ اس کی اس پر حرام نہیں ہوئی، کیوں کہ کوئی وجہ حرمت کی اس میں پائی نہیں گئی ۔ (فتاوی دار العلوم: ۷/٦٤٤، ۳۲۸، مدلل و مکمل ۔ و کذا فی فتاوی محمودیہ: ۱۱/٤۰۹، مبوب و مرتب) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.