بوقتِ مس شہوت نہ ہو تو حرمتِ مصاہرت کا حکم:

2 min readFatwa Vol 3 #402Urdu
Vol. 3كتاب النكاحباب (۲): فیما ینعقد بہ النکاح و ما لا ینعقد

Question

ایک شخص نے چچی سے کپڑا وغیرہ کچھ لیتے وقت اس کے ہاتھ کو چھو لیا بغیر کسی شہوت کے پھر بعد میں یہ وسوسہ رہا یہاں تک کے شہوت ہوئی اور انتشار بھی ہوا، اب یہ شخص اس چچی کی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہے تو نکاح کر سکتا ہے یا نہیں؟ جب کہ اس کو یقین ہے کہ مس کے وقت بالکل شہوت نہیں تھی ۔ برائے مہربانی حکم شرعی سے مطلع فرمائے ۔

Answer

صورتِ مسئولہ میں حرمتِ مصاہرت ثابت نہ ہونے کی وجہ سے شخصِ مذکور کے لیے چچی کی لڑکی سے شادی کرنے کی اجازت ہے، کیوں کہ بعد میں شہوت کا اعتبار نہیں مس کے وقت شہوت کا اعتبار ہے جو نہیں پائی گئی ۔
ملاحظہ ہو فتح القدیر میں ہے:

قوله بشهوة في موضع الحال فيفيد اشتراط الشهوة حال المس، فلو مس بغير شهوة ثم اشتهي عن ذلك المس لا تحرم عليه. (فتح القدير: ۳/۲۲۲، فصل في بيان المحرمات، دار الفكر).
البحر الرائق
میں ہے:

والعبرة لوجود الشهوة عند المس والنظر حتى لو وجدا بغير شهوة ثم اشتهي بعد الترك لا تتعلق به حرمة. (البحر الرائق: ۳/۱۰۱، فصل في المحرمات، كوئته).

فتاوی ہندیہ میں ہے:

والشهوة تعتبر عند المس والنظر حتى لو وجدا بغير شهوة ثم اشتهي بعد الترك لا تتعلق به الحرمة. (الفتاوى الهندية: ۱/۲۷۵، القسم الثاني المحرمات بالصهرية. ومثله في الشامي: ۳/۳۳، فصل في المحرمات، سعيد).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.