کفو کا معیار:

5 min readFatwa Vol 3 #417Urdu
Vol. 3كتاب النكاحباب (۳): فی الأولیاء و الأکفاء

Question

جن چیزوں میں کفو کا اعتبار ہے وہ کیا ہیں؟ یعنی کفو کا معیار کیا ہے؟

Answer

مذہب احناف کے مطابق ٦، امور میں کفو کا اعتبار ہے، جن کو علامہ حموی رحمه الله نے شعر میں بیان فرمایا ہے:

إن الكفاءة في النكاح تكون في ست لها بيت بديع قد ضبط
نسب وإسلام كذلك حرفة حرية وديانة مال فقط
(فتاوى الشامي: ۳/۸٦، باب الكفاءة، سعيد).

ہدایہ میں ہے:

الكفاءة في النكاح معتبرة قال عليه السلام: "ألا لا يزوج النساء إلا الأولياء ولا يزوجن إلا من الأكفاء

ثم الكفاءة تعتبر في النسب

فقريش بعضهم أكفاء لبعض والعرب بعضهم أكفاء لبعض

والكفاءة في الحرية

وتعتبر أيضاً في الدين أي الديانة وهذا قول أبي حنيفة رحمه الله وأبي يوسف رحمه الله هو الصحيح لأنه من أعلي المفاخر والمرأة تعير بفسق الزوج فوق ما تعير بضعة نسبه

وتعتبر في الصنائع

وعن أبي يوسف رحمه الله أنه لا يعتبر إلا أن يفحش كالحجام والحائك والدباغ. (الهداية: ۲/۳۲۰، ۳۲۱، باب الأولياء والأكفاء).

فتاوی عالمگیری میں ہے:

الكفاءة تعتبر في أشياء منها النسب

ومنها إسلام الآباء من أسلم بنفسه وليس له أب في الإسلام لا يكون كفأ لمن له أب واحد في الإسلام كذا في فتاوى قاضيخان، ومن له أب واحد في الإسلام لا يكون كفأ لمن له أبو ان فصاعداً في الإسلام كذا في البدائع، والذي أسلم بنفسه لا يكون كفأ للتي لها أبو ان أو ثلاثة في الإسلام ويكون كفأ لمثله هذا إذا كان في موضع قد تباعد عهد الإسلام وطال، وأما إذا كان العهد قريباً بحيث لا يعير ولا يكون ذلك عيباً فإنه يكون كفأ كذا في السراج الوهاج

ومنها الحرية

ومنها الكفاءة في المال

ومنها الديانة

ومنها الحرفة. (الفتاوى الهندية: ۱/۲۹۰، ۲۹۱، الباب الخامس في الأكفاء).

مجموعہ قوانین اسلامی میں ہے:
اصطلاح شرع میں چند خاص امور میں شوہر کا بیوی کے ہم پلہ اور برابر ہونا کفاءت ہے ۔
کفاءت کا اعتبار مندرجہ ذیل امور میں کیا جائے گا:
(۱) لڑکا دینداری اور تقوی میں لڑکی کا ہم پلہ ہو ۔
(۲) مالیت:
(الف) شوہر بیوی کی حیثیت کے مطابق نفقہ پر قادر ہو ۔
(ب) دونوں کی مالی حیثیت میں ایسا فرق نہ ہو جو لڑکی کے لیے باعث عار بنے ۔
(۳) نسب میں کفاءت کا اعتبار عرب، خاص کر قریش، اور عجم کے ان خاندانوں میں کیا جائے گا جنہوں نے اپنے نسب کو محفوظ رکھا ہے، بقیہ سارا عجم ایک دوسرے کا کفو ہے، اسی اصول کے پیش نظر لڑکی اپنے ولی کا غیر کفو میں کرایا ہوا نکاح فسخ کرا سکتی ہے، اور اسی کفاءت فی النسب کے پیش نظر کسی بالغہ کے غیر کفو میں کیے ہوئے نکاح کو فسخ کر دینے کا اختیار ولی کو حاصل ہوگا ۔
حرفت اور پیشہ میں فرق کی وجہ سے لڑکی یا اس کے ولی کو نکاح فسخ کرانے کا اختیار نہیں ہوگا، مگر یہ کہ کوئی پیشہ معاشرہ میں بہت گرا ہوا سمجھا جاتا ہو ۔
نو مسلم اور خاندانی مسلمان ایک دوسرے کے کفو ہیں ۔

إن أبا حنيفة رحمه الله وصاحبيه رحمه الله اتفقوا أن الإسلام لا يكون معتبراً في حق العرب لأنهم لا يتفاخرون به وإنما يتفاخرون بالنسب، فعلى هذا لو تزوج عربي له أب كافر بعربية لها آباء في الإسلام فهو كفوء. (البحر الرائق: ۳/۱۳۲).

یہ حکم اہل عرب کے بارے میں ہے، اہل عجم اس سے قدرے مختلف ہیں ۔
چنانچہ ملاحظہ ہو جدید فقہی مسائل میں ہے:
عجمیوں کے بارے میں تفصیل یہ ہے کہ جس شخص نے خود اسلام قبول کیا ہو اور اس کے والدین کافر ہوں، اور جس کے والدین کافر ہوں اور خود مسلمان ہو وہ امام ابو حنیفہ رحمه الله اور امام محمد رحمه الله کے نزدیک ایسے شخص کا کفو نہیں جس کے خاندان میں دو پشتوں سے اسلام ہو ۔ (جدید فقہی مسائل: ۳/۷۵، اسلام میں کفاءت) ۔
باب کفاءت میں مرد کا عورت کے ہم پلہ ہونا ضروری ہے، عورت کا مرد کے ہم پلہ ہونا ضروری نہیں ہے ۔
کفاءت کا اعتبار بوقت عقد نکاح ہے، اگر شوہر نکاح کے وقت کفو تھا لیکن بعد میں کفو نہیں رہا، تو نکاح فسخ کرانے کا اختیار نہیں ہوگا ۔ (مجموعہ قوانین اسلامی: ۹۵ ۔ ۹۷، باب ہفتم کفاءت کا بیان) ۔
نوٹ: عرفِ عام میں لڑکے والے لڑکی والوں سے کمتر سمجھے جاتے ہوں تو یہ نکاح بھی غیر کفو میں سمجھا جائے گا ۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: جدید فقہی مسائل: ٦۳ ۔ ۱۰۵، مسئلہ کفاءت پر ایک نظر) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.