عاقلہ بالغہ کا خود اپنی مرضی سے نکاح کرنے کا حکم:
Question
ایک لڑکی بالغہ ہے اور وہ خود اپنا نکاح کسی بالغ لڑکے کے ساتھ کرنا چاہتی ہے لیکن اس لڑکی کے والدین ناراض ہیں، والدین چاہتے ہیں کہ اپنی لڑکی کا نکاح اس لڑکے کے ساتھ نہ ہو، تو کیا بالغہ اپنی مرضی سے نکاح کر سکتی ہے یا نہیں؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں عاقلہ بالغہ لڑکی اپنے نکاح کی خود مختار ہے، والدین یا ولی کی اجازت ضروری نہیں ہے، نیز بلا وجہ شرعی والدین کو ناراض بھی نہیں ہونا چاہیے ہونا چاہیے، ہاں اگر کوئی شرعی وجہ سے اعتراض کرے مثلاً غیر کفو میں نکاح کر لیا تو والدین یا ولی کو فسخ نکاح کا حق حاصل ہوگا ۔
ملاحظہ ہو تبیین الحقائق میں ہے:
(نفذ نكاح حرة مكلفة بلا ولي) وهذا عند أبي حنيفة رحمه الله وأبي يوسف رحمه الله في ظاهر الرواية وكان أبو يوسف رحمه الله أولاً يقول: إنه لا ينعقد إلا بولي إذا كان لها ولي ثم رجع وقال: إن كان الزوج كفوء اً لها جاز وإلا فلا، ثم رجع وقال: جاز سواء كان الزوج كفوء اً أو لم يكن. (تبيين الحقائق: ۲/۱۱۷، باب الأولياء والأكفاء، ملتان).
شامی میں ہے:
فنفذ نكاح حرة مكلفة بلا رضا ولي والأصل أن كل من تصرف في ماله تصرف في نفسه ومالا فلا. (رد المحتار: ۳/۵۵، سعيد ومثله في در الحكام شرح غرر الأحكام، الجزء الاول، تحت باب الولي والأكفاء).
مبسوط میں ہے:
ألا تري أنها لو زوجت نفسها طائعة من غير كفوء كان للأولياء حق الاعتراض فهنا أيضاً لم يوجد من الأولياء الرضا بسقوط حقهم في الكفاءة والزوج لا يتمكن من إزالة عدم الكفاءة فيكون للأولياء أن يفرقوا بينهما سواء رضي بأن يتم لها مهر مثلها أو لم يرض بذلك. (المبسوط للإمام السرخسي رحمه الله الجزء الرابع والعشرون).
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
صورتِ مسئلہ میں جب لڑکا اور لڑکی بالغ ہیں اور خاندان دینداری، اور پیشہ کے لحاظ سے لڑکا پست اور گرا ہوا نہیں ہے کہ لڑکی کے اولیاء کے لیے باعث عار ہو تو والدین رضامند ہوں یا ناراض دونوں کا نکاح درست ہے، اور بلا وجہ شرعی والدین کو ناراض نہ ہونا چاہیے ہونا چاہیے، اور نکاح کر دینا چاہیے، ورنہ گنہ گار ہوں گے، حدیث میں ہے:
"من ولد له ولد فليحسن اسمه وأدبه فإذا بلغ فليزوجه فإن بلغ ولم يزوجه فأصاب إثماً فإنما إثمه على أبيه (مشكوة شريف: ۲۷، كتاب النكاح)
اور ارشاد فرمایا رسول اللہ ﷺ نے: "
إذا خطب إليكم من ترضون دينه وخلقه فزوجوه أن لا تفعلوه تكن فتنة في الأرض وفساد عريض. (مشكوة شريف: ۲٦۷، كتاب النكاح). (
فتاوی رحیمیہ: ۵/۲۵۷) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.