آزاد بالغہ لڑکی کا نکاح غیر کفو میں منعقد ہونے کا حکم:

8 min readFatwa Vol 3 #418Urdu
Vol. 3كتاب النكاحباب (۳): فی الأولیاء و الأکفاء

Question

اگر مسلمان عاقلہ بالغہ لڑکی ولی کی اجازت کے بغیر غیر کفو میں نکاح کر لے تو کیا اولیاء کو اس پر اعتراض کا حق حاصل ہے یا نہیں؟ اور کیا یہ نکاح منعقد ہوا یا نہیں؟ جب کہ بہت سارے علماء اس نکاح کو باطل کہتے ہیں ۔

Answer

صورتِ مسئولہ میں ظاہر الروایہ کے مطابق آزاد عاقلہ بالغہ لڑکی کا نکاح غیر کفو میں منعقد ہو جاتا ہے، ہاں غیر کفو میں ہونے کی وجہ سے جب تک اس مرد سے اولاد نہ ہو اولیاء کو فسخ کرانے کا حق حاصل ہوگا، مجمع الفقہ الاسلامی الہند اور مفتی کفایت اللہ صاحب رحمه الله کا یہی فتویٰ ہے، اور نکاح کے بعد بیوی شوہر کے لیے حلال ہے، اگر والدین ناراض ہوں تو مقامی جمعیت یا حاکم، عالم کے سامنے یہ مسئلہ پیش کریں، اولاً والدین کو سمجھانے کی کوشش کریں، اور اگر نکاح قائم رکھنے کی کوئی شکل نہیں بنتی تو شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرے، اگر شوہر طلاق دینے سے انکار کرے تو پھر جمعیت یا حاکم، عالم اولیاء کے مطالبہ پر نکاح فسخ کر سکتے ہیں ۔
ملاحظہ فرمائیں ہدایہ میں ہے:

وينعقد نكاح الحرة العاقلة البالغة برضائها وإن لم يعقد عليها ولي بكراً كانت أو ثيباً عند أبي حنيفة رحمه الله وأبي يوسف رحمه الله في ظاهر الرواية وعند محمد رحمه الله ينعقد موقوفاً

ثم في ظاهر الرواية لا فرق بين الكفو وغير الكفو لكن للولي الاعتراض في غير الكفو

ويروى رجوع محمد رحمه الله إلى قولهما. (الهداية: ۲/۳۱۳، باب في الأولياء والأكفاء).

فتح القدیر میں ہے:

ورواية رجوعه إلى ظاهر الرواية فتحصل أن الثابت الآن هو اتفاق الثلاثة على الجواز مطلقاً من الكفء وغيره. (فتح القدير: ۳/۲۵٦، دار الفكر).

شرح عنایہ میں ہے:

قوله ولكن للولي الاعتراض في غير كفء) يعني إذا لم تلد من الزوج، وأما إذا ولدت فليس للأولياء حق الفسخ كي لا يضيع الولد عمن يربيه. (شرح العناية على هامش فتح القدير: ۳/۲۵۸، دار الفكر).

فتاوی عالمگیری میں ہے:

ثم المرأة إذا زوجت نفسها من غير كفو صح النكاح في ظاهر الرواية عن أبي حنيفة رحمه الله وهو قول أبي يوسف رحمه الله آخراً وقول محمد رحمه الله آخراً أيضاً، حتى أن قبل التفريق يثبت فيه حكم الطلاق والظهار والإيلاء والتوارث وغير ذلك، ولكن للأولياء حق الاعتراض. (الفتاوى الهندية: ۱/۲۹۲. وفتاوى قاضيخان: ۱/۳۵۱).

بدائع الصنائع میں ہے:

الحرة العاقلة البالغة إذا زوجت نفسها من رجل أو وكلت رجلاً بالتزويج فتزوجها أو زوجها فضولي فأجازت، جاز في قول أبي حنيفة رحمه الله وزفر رحمه الله وأبي يوسف رحمه الله الأول سواء زوجت نفسها من كفؤ أو غير كفؤ بمهر وافر أو قاصر، غير أنها إذا زوجت نفسها من غير كفؤ فللأولياء حق الاعتراض. (بدائع الصنائع: ۲/۲٤۷، سعيد. وكذا في البحر الرائق: ۳/۱۲۸، كوئته).

حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب رحمه الله تحریر فرماتے ہیں:
صحتِ نکاح کے لیے مرد و عورت کا مسلمان ہونا، اور عورت کا محرمات میں سے نہ ہونا، فی حد ذاتہ کافی ہے، قرآن مجید کے نصوصِ صریحہ اس پر دال ہیں،
﴿وأحل لكم ما وراء ذلكم أن تبتغوا بأموالكم﴾، ﴿فانكحوا ما طاب لكم من النساء﴾
اور سنتِ نبویہ نے عملی طور سے اس کی تصدیق کر دی، آپ ﷺ نے زینب ہاشمیہ رضي الله عنه کا نکاح زید معتَق رضي الله عنه سے باوجود زینب کی طرف سے انشراحِ قلب نہ ہونے کے کر دیا اس کے علاوہ بھی بہت سی مثالیں صحابہ کرام کے افعال اور طرز عمل میں موجود ہیں کہ نسبی تفاوت کے باوجود نکاح ہو گئے، بس نصوصِ قرآنیہ اور تعاملِ صحابہ و سلف صالحین اس امر پر دلیل قاطع ہے کہ کفاءت نسبی فی حد ذاتہ مستحب ہے انعقادِ نکاح کی شرط نہیں، اسی وجہ سے غیر کفو کا نکاح جب کہ منکوحہ اور ولی منکوحہ راضی ہو جائے صحیح اور نافذ ہو جاتا ہے. (کفایت المفتی: ۵/۲۰۹، دار الاشاعت).
مجموعہ قوانین اسلامی میں ہے:
حق کفاءت زوجہ کو اور اس کے اولیاء کو بھی حاصل ہے، لہذا اگر کسی عورت نے اپنا نکاح جان بوجھ کر کسی غیر کفو میں کر لیا تو اولیاء کو نکاح فسخ کرانے کا اختیار ہوگا. (مجموعہ قوانین اسلامی: دفعہ ۱۲۲، ص ۹۸).
مجمع الفقہ الاسلامی کے گیارہویں سیمینار منعقدہ اپریل ۱۹۹۹؁ء میں اس مسئلہ پر تفصیلی بحث کے بعد اکثر شرکاء حضرات کی رائے جو سامنے آئی وہ درج ذیل ہے:
"بغیر کفو کے نکاح صحیح ہے، اور اولیاء کو اعتراض کا حق حاصل ہے"
ملاحظہ ہو: جدید فقہی مباحث: ۱۷/۲۵۱-۲٦٦، ادارۃ القرآن).
نیز شریعتِ مطہرہ میں دیگر امثلہ موجود ہیں جن میں غیر کفو میں نکاح منعقد ہوا۔
(۱) حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ تعالی عنہا کا نکاح جیسا کہ مذکور ہوا۔
(۲) حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالی عنہا کا نکاح حضرت اسامہ بن زید کے ساتھ قرار پایا. (مسلم شریف: ۱/۴۸۵).
(۳) حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ نے عرب خاتون سے شادی فرمائی. (مبسوط: ۵/۲۳، باب الکفاءت).
(٤) حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی دختر نیک اختر کو پیغامِ نکاح دیا اور منظور بھی ہو گیا مگر بتقدیر الٰہی نکاح منعقد نہیں ہوا. (مبسوط: ۵/۲۳، باب الکفاءت).
علامہ شامی رحمه الله نے غیر کفو میں نکاح کا قول حسن رحمه الله سے نقل کیا اور اس پر فتویٰ دیا یہ ان کے زمانہ کی مصلحت ہو گی، ملاحظہ در مختار میں ہے:
ويفتى في غير الكفؤ بعدم جوازه أصلاً، وهو المختار للفتوى لفساد الزمان، وفي الشامية: وقال شمس الأئمة: وهذا أقرب إلى الاحتياط. (الدر المختار مع الشامي: ۳/۵٦، سعيد).
وفيه أيضاً: أما على رواية الحسن المختار للفتوى من أنه لا يصح. (فتاوى الشامي: ۳/۸٤، سعيد).

لیکن موجودہ دور کی مصلحت یہ ہے کہ ظاہر الروایہ پر فتویٰ دیا جائے، کیوں کہ دن بدن ایسے سیکڑوں نکاح ہو رہے ہیں، اگر نکاح منعقد تسلیم نہ کیا جائے تو سب زنا میں مبتلا ہوں گے، نیز نکاح کے ارکان و شہادت کی موجودگی میں نکاح کا منعقد نہ ہونا سمجھ میں نہیں آتا.
حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام صاحب رحمه الله "کتاب الفسخ و التفریق" کے حاشیہ میں تحریر فرماتے ہیں:
نکاح غیر کفو میں منعقد ہوگا یا نہیں؟ اس مسئلہ میں ظاہر الروایہ یہی ہے کہ نکاح منعقد ہو جائے گا، البتہ ولی کو حق اعتراض ہوگا، حسن بن زیاد رحمه الله کی روایت یہ ہے کہ نکاح سرے سے منعقد ہی نہیں ہوگا جس پر اس زمانہ کے عام علماء نے فسادِ زمان کو سامنے رکھتے ہوئے فتویٰ دیا ہے، مصنف علام نے بھی اسی قول کو ہے.
اس حقیر کو اس رائے سے اختلاف ہے، میرے نزدیک ظاہر الروایت پر ہی عمل ہونا چاہیے، اس لیے کہ شرائطِ انعقادِ نکاح میں سے کوئی شرط مفقود نہیں ہے اور آج کے موجودہ حالات میں بھی جب کہ خاندانی بندھنیں کمزور پڑ گئی ہیں اور غیر کفو اور کفو میں شادی کا تصور آہستہ آہستہ مٹتا جا رہا ہے، ایسی حالت کا بھی تقاضہ ہے کہ جو نکاح ہو چکا اسے منعقد تسلیم کیا جائے اور اگر کسی کو ضرر پہنچتا ہے تو اس کو قاضی کے سامنے اعتراض پیش کرنے کا حق دے کر اس ضرر کو دور کرنے کا راستہ نکالا جائے. (حاشیۃ کتاب الفسخ و التفریق از مولانا عبد الصمد رحمانی رحمه الله: ص ۱۲۰، حاشیہ نمبر ۱؎).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.