کم سے کم مہر کی تحقیق:

4 min readFatwa Vol 3 #423Urdu
Vol. 3كتاب النكاحباب (۴): مہر کا بیان

Question

کم از کم مہر کتنا ہونا چاہیے؟ اس کی کیا مقدار ہے؟ کیا کسی حدیث سے ثابت ہے یا نہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ کم از کم مہر کی مقدار ۱۰ درہم ہے، اس سے کم جائز نہیں ہے، اور یہ تحدید حدیث سے ثابت ہے، اور جدید وزن کے حساب سے ۳۰ گرام ٦۱۸ ملی گرام ہوتا ہے. جدید حساب کی تفصیل کتاب الزکوٰۃ باب اول میں ملاحظہ فرمائیں.
ملاحظہ ہو فتح القدیر میں ہے:

رواه ابن أبي حاتم من حديث جابر رضي الله عنه عن عمرو بن عبد الله الأودي بسنده، ثم أوجدنا بعض أصحابنا صورة السند عن الحافظ قاضي القضاة العسقلاني رحمه الله الشهير بابن حجر. قال ابن أبي حاتم: حدثنا عمرو بن عبد الله الأودي حدثنا وكيع عن عباد بن منصور قال: حدثنا القاسم بن محمد قال: سمعت جابراً يقول: قال سمعت رسول الله ﷺ يقول: "ولا مهر أقل من عشرة" من الحديث الطويل، قال الحافظ: إنه بهذا الإسناد حسن ولا أقل منه. (فتح القدير: ۳/۲۹۲، باب الكفاءة، دار الفكر).

یہ روایت حسن ہے جیسا کہ حافظ ابن حجر رحمه الله نے فرمایا، اس لیے کہ اس کی سند میں مبشر بن عبید وغیرہ ضعیف راوی نہیں ہے. اس کے علاوہ بیہقی وغیرہ کی روایت جو مشہور ہے اس کی سند میں دو راویوں پر کلام ہے (۱) مبشر بن عبید (۲) حجاج بن ارطاۃ. لہذا یہ حدیث انتہائی ضعیف ہے، اگر چہ متعدد طرق کی وجہ سے اکثر علماء نے حسن قرار دیا ہے. نیز دیگر آثار سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے. تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: فتاوی دار العلوم زکریا جلد اول ابواب الحدیث: ص ۳٦۲.
فقہاء نے بھی حدیث بالا سے استدلال فرما کر دس درہم سے کم مہر جائز قرار نہیں دیا.
ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:

أقله عشرة دراهم لحديث البيهقي وغيره "لا مهر أقل من عشرة دراهم" وفي الشامي: قوله لحديث البيهقي وغيره، رواه البيهقي بسند ضعيف ورواه ابن أبي حاتم وقال الحافظ ابن حجر: إنه بهذا الإسناد حسن. (الدر المختار مع الشامي: ۳/۱۰۱، باب المهر، سعيد. والبحر الرائق: ۳/۱٤۲، كوئته).

ایضاح المسائل میں ہے:
شریعت اسلامی میں اقل مہر دس درہم ہے اس سے کم میں مہر کی تعیین صحیح نہیں ہو گی، دس درہم میں دو تولہ ساڑھے سات ماشہ چاندی ہوتی ہے اور یہ موجودہ گراموں کے حساب سے ۳۰ گرام ٦۱۸ ملی گرام ہوتا ہے اور دس گرام کے تولہ سے ۳ تولہ ٦۱۸ ملی گرام چاندی ہوتی ہے. (ایضاح المسائل: ۱۲۹).
مجموعہ قوانین اسلامی میں ہے:
مہر کی کم سے کم مقدار دس درہم ہے جس کا وزن دو تولہ ساڑھے سات ماشہ (۳۰ گرام ٦۱۸ ملی گرام) چاندی ہے لہذا کم کی مقدار ہر دور میں اور ہر ملک میں اس دور کے اور اس ملک کے وزن میں اتنی ہو گی، جس سے دو تولہ ساڑھے سات ماشہ (۳۰ گرام ٦۱۸ ملی گرام) چاندی حاصل ہو سکے، زیادہ کی کوئی حد نہیں ہے. (مجموعہ قوانین اسلامی: ۱۰۱، دفعہ ۱۲۹).
احسن الفتاوی (۵/۳۲) میں دس درہم کی مقدار جدید حساب سے ۳۴ گرام مرقوم ہے، لیکن عام علماء نے پہلے قول کو اختیار کیا ہے.
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.