عزل کے علاوہ دوسرا طریقہ استعمال کرنے کا حکم:
Question
طریقہ (عزل) کے علاوہ جو طریقے مانعِ حمل کے اس جیسے ہیں کیا وہ بھی جائز ہیں مثلاً (Barrier Methods) وغیرہ؟
Answer
عزل کے علاوہ منع حمل کے اور جو طریقے ہیں وہ انجیکشن کی شکل میں ہو یا گولیوں کی شکل میں ہو ان تمام کو اگر عذر شرعی کی وجہ سے کیا جائے تو گنجائش ہو گی، اور اگر کسی دوا کے استعمال کی وجہ سے جسمانی صحت پر منفی اثرات بھی پڑتے ہوں (جن کو سائڈ ایفکٹ (Side Effect) کہا جاتا ہے) تو ماہر طبیب کے مشورہ کے بغیر استعمال نہیں کرنا چاہیے، کیوں کہ قرآن و سنت کی رو سے انسانی صحت کی حفاظت ضروری ہے ۔
لیکن اگر مادر رحم میں مادۂ منویہ کے پہونچ جانے کے چند ہفتے بعد ہو تو اس کو عزل نہیں کہتے، اس کا حکم یہ ہے کہ بغیر کسی سخت مجبوری اور ماہر طبیب کے مشورہ کے نہیں کرنا چاہیے ۔
ملاحظہ ہو جدید فقہی مسائل میں ہے:
ضبط تولید کی دوسری صورت یہ ہے کہ "مادۂ منویہ" تو رحم میں پہنچ جائے مگر ایسی دواؤں کا استعمال کیا جائے کہ استقرار حمل نہ ہو سکے، فقہی نظائر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ صورت بھی عام حالات میں ناجائز ہے اگر چہ یہ صحیح ہے کہ ابھی مادہ روح اور زندگی سے خالی ہے، اس لیے اس کو برباد کر دینا "اصطلاحی قتل" کے زمرہ میں نہیں آئے گا لیکن اگر اس کو اپنی حالت پر چھوڑ دیا جاتا تو کچھ مدت گزرنے پر وہی ایک زندہ نفس کی شکل اختیار کر لیتا اس لیے مآل کو ملحوظ رکھتے ہوے اس کو نفس کشی کے مترادف سمجھا جائے گا ۔
فقہاء نے اس کی یہ نظیر پیش کی ہے کہ اگر کوئی شخص حالت احرام میں چڑیا کا انڈا توڑ دے تو جس طرح چڑیا کا مارنا دم اور کفارہ کا موجب ہوتا ہے، اسی طرح محض انڈا توڑ دینا بھی موجب دم ہوگا ۔ ۔ ۔
اس لیے کسی غیر معمولی عذر کے بغیر محض اولاد سے بچنے کے لیے ایسے ذرائع کا استعمال روا نہیں ہے، ہاں اگر کسی بڑی مضرت کا اندیشہ در پیش ہو تو ایسی صورت میں اس کم تر نقصان کو گوارا کر کے اس سے بڑے دوسرے نقصان سے بچا جائے گا، مثلاً معتبر طبی اندازہ کے مطابق بچہ کی پیدائش کی صورت میں زچہ کی موت کا اندیشہ ہو یا خود زیر حمل بچہ کے سنگین موروثی مرض میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہو یا زنا کا حمل ہو تو ایسے مانع حمل ذرائع کے استعمال کی اجازت ہو گی ۔ (جدید فقہی مسائل: ۵/۱۲۷ ۔ ۱۳۰، مانع حمل دوائیں) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.