عزل کا حکم:

4 min readFatwa Vol 3 #445Urdu
Vol. 3كتاب النكاحباب (٦): نکاح کے متفرق مسائل

Question

کیا اپنی بیوی سے عزل کرنا درست ہے یا نہیں؟ دور نبوی میں اس کی کوئی مثال ملتی ہے یا نہیں؟ اگر کوئی اولاد کے وقفے کے لیے عزل کرے تو کیا حکم ہے؟

Answer

حضور ﷺ کے عہد میں منع حمل کی جو صورت مروج تھی اس کو فقہی اصطلاح میں عزل کہتے ہیں، اور رسول اللہ ﷺ نے جو ارشادات اس کے متعلق مختلف سوالوں کے جواب میں فرمائے وہ ایسے ہیں کہ نہ ان سے صاف طور پر ممانعت معلوم ہوتی ہے اور نہ صریح طور سے جائز مستفاد ہوتا ہے، البتہ اتنا ضرور واضح ہو جاتا ہے کہ آپ نے اس عمل کو پسند نہیں فرمایا، اسی لیے اس مسئلہ میں ائمہ سلف میں اختلاف رہا، بعض نے مطلقاً ناجائز قرار دیا، اور بعض نے کہا کہ یہ عمل فی نفسہ ناپسندیدہ ہے مگر خاص خاص ضرورتوں کے ماتحت اجازت بھی دی جا سکتی ہے، اور اگر کسی غرض فاسد کی وجہ سے کیا جائے تو ناجائز ہے، مثال کے طور پر یہ خیال ہو کہ لڑکی ہو گئی تو بد نامی ہو گی تو اس عمل کو جائز نہیں کہا جا سکتا، اس لیے کہ اس کی بناء وہ نظریہ ہے جس پر قرآن کریم نے جاں بجا نکیر فرمائی ہے، اسی طرح کوئی شخص مفلسی کے وہم سے یہ کام کرے تو بھی جائز نہ ہوگا، کیوں کہ اس کا مقصد اسلام کے بنیادی اصولوں کے بالکل خلاف ہے ۔
ان اعذار کا تذکرہ جن کو شریعت میں معتبر سمجھا گیا ہیں:
عورت اتنی کمزور ہے کہ بارِ حمل کا تحمل نہیں کر سکتی، یا کسی دور دراز کے سفر میں ہے یا کسی ایسے مقام میں ہے جہاں پر قیام و قرار کا امکان نہیں، خطرہ لاحق ہے، یا زوجین کے باہمی تعلقات ہموار نہیں، جدائی کا قصد ہے، اسی طرح اگر ماحول کے بگاڑ اور فساد زمانہ کی وجہ سے اولاد کے بگڑ جانے کا قوی امکان ہو تو ایسی صورت میں بھی عزل جائز ہوگا ۔
رد المحتار میں مرقوم ہے:

وفي الفتاوى إن خاف من الولد السؤء في الحرة يسعه العزل بغير رضاها لفساد الزمان، ويحتمل أنه أراد الحاق مثل هذا العذر به كأن يكون في سفر بعيد، أو في دار الحرب فخاف على الولد، أو كانت الزوجة سيئة الخلق ويريد فراقها فخاف أن تحبل. (رد المحتار: ۳/۱۷٦، سعيد).

ان سب اعذار کا خلاصہ یہ ہے کہ شخصی اور انفرادی طور پر کسی شخص کو عذر پیش آ جائے تو عذر کی حد تک اس طرح کے عمل کی گنجائش ہو گی، عذر رفع ہونے کے بعد اس کے لیے بھی درست نہیں اور عام لوگوں کے لیے اجتماعی طور پر اس کی ترویج بہرحال ناپسندیدہ اور مکروہ ہے ۔ (ضبط ولادت کی عقلی و شرعی حیثیت از مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله از ص۱۳تا ۲۰) ۔
کتاب الفتاوی میں ہے:
جو صورت آپ نے ذکر کی ہے، اس کو عربی زبان میں عزل کہتے ہیں، محض اس خوف سے عزل کرنا کہ اگر بچے پیدا ہوئے تو اس کی روٹی روزی کا کون نظم کرے گا؟ جائز نہیں ہے، لیکن طبی ضرورت کے تحت عزل کرنا جائز ہے ۔ (کتاب الفتاوی: ٤/٤٤٤، متفرقاتِ نکاح) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.