بغیر کسی عذر کے ۳/٤ سال کے وقفہ کا حکم:
Question
آج کل اکثر شادی شدہ اپنی ذاتی پلاننگ کر لیتے ہیں جیسے اولاد کے لیے ۳/٤ سال کا وقفہ ضروری سمجھتے ہیں، کسی طبی مجبوری کے بغیر، یہ جائز ہے یا نہیں؟ جب کہ معاش کا خطرہ بھی ذہن میں نہیں ہوتا ۔
Answer
بہت سے لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ابھی سے کیوں اولاد کا بار گردن پر ڈالا جائے چند سال آزادی کی زندگی گزاری جائے، اور وہ منع حمل کی تدبیر اختیار کرتے ہیں، بظاہر یہ غرض کوئی ایسی غرض نہیں جو شریعت کے خلاف ہو اس لیے قواعد کی رو سے اس کی اجازت معلوم ہوتی ہے، لیکن چونکہ اولاد سے اعراض کی شکل بنتی ہے اس لیے قباحت سے خالی نہیں ۔ (بحث و نظر: ۲/۳۵۳، ضبط ولادت اسلامی نقطہ نظر سے، زیر نگرانی حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام صاحب قاسمی رحمه الله ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.