رفاہی تنظیم میں زکوٰۃ دینے سے ادائیگی کا حکم:

14 min readFatwa Vol 3 #466Urdu
Vol. 3زكوة، صوم، حج اور نكاح سے متعلق متفرق مسائل:باب (٦): نکاح کے متفرق مسائل

Question

ہم نے ایک رفاہی تنظیم شروع کی ہے، جس میں لوگوں سے زکوٰۃ وصول کرتے ہیں اور مستحقین تک پہنچاتے ہیں، اور مستحقین دو قسم کے ہیں: متعین اور غیر متعین۔ متعین سے اجازت حاصل ہے کہ ہم ان کے لیے زکوٰۃ کی رقم جمع کرے اور ان پر خرچ کرے، کبھی کبھی خرچ کرنے کے بعد زکوٰۃ کی رقم بچ جاتی ہے اس کو غیر متعین پر خرچ کرتے ہیں۔ مستحقین غیر متعین کے بارے میں معلوم کرنا ہے کہ معطین کی زکوٰۃ کب ادا ہو گی، جب معطین فنڈ میں جمع کراتے ہیں یا جب مستحقین تک ہم پہنچاتے ہیں؟ بعض مرتبہ زائد رقم تقسیم کرنے میں پورا سال گزر جاتا ہے، کیا ایسا کرنا صحیح ہے یا نہیں؟

Answer

فی زماننا عرفِ عام میں رفاہی تنظیمیں عاملین کے حکم میں ہونے کی وجہ سے مستحقین کی طرف سے وکیل ہوتی ہیں۔ بنا بریں معطین کے فنڈ میں زکوٰۃ کی رقوم جمع کرانے سے زکوٰۃ ادا ہو جاتی ہے۔
اور متعین اور غیر متعین کا فرق اس وقت ہو گا جب کہ تعیین معطین کی طرف سے ہو، اگر معطی نے دیتے وقت یہ کہہ دیا کہ فلاں متعین اشخاص کو زکوٰۃ دی جائے تو پھر ان متعین ہی کو دینا ضروری ہوگا، اور اگر کوئی تصریح نہ ہو تو کسی بھی مستحق زکوٰۃ کو رقم دی جا سکتی ہے۔
صورتِ مسئولہ میں مستحقین کی تقسیم رفاہی تنظیم نے کی ہے، معطین کی طرف سے کوئی تعیین نہیں، اس لیے اس صورت میں متعین اور غیر متعین دونوں استحقاق میں یکساں ہیں۔ ہاں بلا عذر ادائیگی میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے، اور اگر تاخیر میں کوئی مصلحت ہو تو گنجائش ہے۔

قال في البحر الرائق: بخلاف ما إذا ضاعت في يد الساعي لأن يده كيد الفقراء كذا في المحيط. (البحر الرائق: ۲/۲۲۷، دار المعرفة). (وكذا في فتاوى الشامي: ۲/۲۷۰، سعيد).

ہمارے اکثر اہل فتاوی نے مہتمم کو طلبہ اور معطین دونوں کا وکیل تسلیم کیا ہے اور طلبہ کے وکیل ہونے کی وجہ سے مہتمم اور اس کے ماتحتی لوگوں کے قبضہ کرنے پر زکوٰۃ دہندگان کی زکوٰۃ اسی وقت ادا ہو جاتی ہے، لہذا اگر طلبہ پر خرچ ہونے سے قبل بلا تعدی ہلاک ہو جائے تو معطین کے وکیل اور امین ہونے کی وجہ سے ان پر کوئی تاوان لازم نہ ہوگا، اور طلبہ کے وکیل ہونے کی وجہ سے معطین کی زکوٰۃ ادا ہو جاتی ہے، نیز کئی سال سے جمع شدہ رقم پر کسی شخص حقیقی کی ملکیت تامہ نہ ہونے کی وجہ سے ان سالوں کی زکوٰۃ بھی ادا کرنا لازم ادا کرنا لازم نہ ہوگا، حضرت اقدس مولانا خلیل احمد صاحب محدث سہارنپوری قدس سرہ فرماتے ہیں کہ معطین کے حق میں اہل مدرسہ بیت المال کے عمال کے مثل ہیں، اور طلبہ اور آخذین کی طرف سے وکلاء ہیں، لہذا نہ اس پر زکوٰۃ واجب ہو گی اور نہ ہی معطین زکوٰۃ واپس لے سکتے ہیں۔
حضرت تھانوی رحمہ اللہ نے بھی امداد الفتاوی میں حضرت مولانا خلیل احمد صاحب کے مذکورہ جواب کو تحریر فرمایا ہے جس سے شبہ اور تردد بالکل مرتفع ہو جاتا ہے۔ حضرت کی عبارت ملاحظہ کیجیے:
مخدومنا و مقتدانا حضرت مولانا خلیل احمد صاحب دامت برکاتہم، السلام علیکم و رحمۃ اللہ اور دو مسئلہ فروع میں سے قابل تحقیق ہیں؛ اول مدرسہ میں جو روپیہ آتا ہے اگر یہ وقف ہے تو بقاء عین کے ساتھ انتفاع کہاں ہے، اور یہ ملک معطی کا ہے تو اس کے مر جانے کے بعد واپسی ورثاء کی طرف واجب ہے؟
جواب: مکرم و محترم حضرت مولانا الحافظ الحاج مولوی اشرف علی صاحب دام مجدہ۔ السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ عاجز کے نزدیک مدارس کا روپیہ وقف نہیں مگر اہل مدرسہ مثل عمالِ بیت المال معطین اور آخذین کی طرف سے وکلاء ہیں لہذا نہ اس میں زکوٰۃ واجب ہو گی اور نہ معطین واپس لے سکتے ہیں
(۱) عمالِ بیت المال منصوب من السلطان ہیں اور سلطان کی ولایتِ عامہ ہے اس لیے وہ سب کا وکیل بن سکتا ہے اور مقیس میں ولایتِ عامہ نہیں اس لیے آخذین کا وکیل کیسے بنے گا کیونکہ نہ توکیل صریح ہے نہ دلالۃً ہے اور مقیس علیہ میں دلالۃً ہے کہ سب وہ اس کے زیر طاعت ہیں اور وہ واجب الاطاعت ہے
بندہ کے خیال میں سلطان میں دو وصف ہیں ایک حکومت جس کا ثمرہ تنفیذِ حدود و قصاص دوسرا انتظامِ حقوقِ عامہ۔ امر اول میں کوئی اس کا قائم مقام نہیں ہو سکتا امر ثانی میں اہل حل و عقد بوقتِ ضرورت قائم مقام ہو سکتے ہیں وجہ یہ کہ اہل حل و عقد کی رائے و مشورہ کے ساتھ نصب سلطان وابستہ ہے جو بابِ انتظام سے ہے۔ لہذا مالی انتظام مدارس جو برضاء ملاک و طلبہ ابقائے دین کے لیے کیا گیا ہے بالاولیٰ معتبر ہوگا اور ذرا غور فرماویں انتظام جمعہ کے لیے عامہ کا نصب امام معتبر ہونا ہی جزئیات میں اس کی نظیر شاید ہو سکے فقط و السلام۔ خلیل احمد عفی عنہ۔ (امداد الفتاوی: ٦/۲۵۹۔۲٦۳)۔
اسی طرح تذکرۃ الرشید میں مرقوم ہے:
شبہ: مدرسہ میں جو چندہ وغیرہ کا روپیہ آتا ہے وہ وقف ہے یا مملوک؟ اگر وقف ہے تو بقاء عین واجب ہے اور صرف بالاستہلاک ناجائز، اگر مملوک ہے اور مہتمم صرف وکیل تو معطی چندہ اگر مر جائے تو غربا و ورثاء کا حق ہے اس کی تفتیش وکیل کو واجب ہے۔ زمانہ شارع علیہ السلام و خلفاء رضی اللہ عنہ میں جو بیت المال تھا اس میں بھی یہ اشکال جاری ہے بہت سوچا مگر قواعدِ شرعیہ سے حل نہ ہوا اور مختلف چندوں کو خلط کرنا استہلاک ہونا چاہیے ہونا چاہیے اور مستہلک ملک مستہلک ہو کر جو صرف کیا جائے اس کا تبرع ہوگا اور مالکوں کا ضامن ہوگا اگر یہ ہے تو اہل مدرسہ یا امین انجمن کو سخت دقت ہے امید ہے کہ جواب باصواب تشفی فرما دیں۔
الجواب: مہتمم مدرسہ کا قیم و نائب جملہ طلبہ کا ہوتا ہے جیسا امیر نائب جملہ عالم کا ہوتا ہے، پس جو شئی کسی نے مہتمم کو دی مہتمم کا قبضہ خود طلبہ کا قبض ہے اس کے قبض سے ملک معطی سے نکلا اور ملک طلبہ کا ہو گیا اگر چہ وہ مجہول الکمیت و الذوات ہوں مگر نائب معین ہے پس بعد موتِ معطی کے ملک ورثہ معطی کی اس میں نہیں ہو سکتی اور مہتمم بعض وجوہ میں وکیل معطی کا بھی ہو سکتا ہے بہر حال نہ یہ وقف مال ہے اور نہ ملک ورثہ معطی کی ہو گی اور نہ خود معطی کی ملک رہے، واللہ تعالی اعلم۔ (تذکرۃ الرشید، ص۱٦٤، شبہات فقہیہ و مسائل مختلف فیہا)۔
ان حضراتِ اکابر رحمہ اللہ کی تحقیق کے بعد حضرت مفتی محمد شفیع صاحب نے بھی اپنے سابقہ فتوے سے رجوع فرما لیا اور ان حضرات کی تحقیق کو تسلیم فرما کر امداد المفتین میں شائع فرما دیا۔ عبارت ملاحظہ کیجیے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم، الحمد للہ و کفی و سلام علی عبادہ الذین اصطفی۔ اما بعد؛ تملیکِ زکوٰۃ کے مسئلہ سے متعلق میرا رسالہ جو سن ۱۳٦۱ ہجری میں لکھا گیا تھا اور امداد المفتین کا جزو ہو کر بار بار شائع ہوا اس میں مہتممین مدرسہ کا حکم عاملین صدقہ کے حکم سے مختلف اس شبہ کی بنیاد پر لکھا گیا تھا جو خود سیدی حضرت حکیم الامت رحمہ اللہ نے پیش فرمایا لیکن جب اس شبہ کو خود حضرت نے رأس الفقہاء حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری رحمہ اللہ کے سامنے پیش فرمایا اور حضرت موصوف نے اس کا جواب تحریر فرمایا تو حضرت حکیم الامت کا وہ شبہ رفع ہو گیا اور وہ اسی حکم پر مطمئن ہو گئے جو حضرت ممدوح نے لکھا تھا یعنی آج کل کے مہتممین مدرسہ اور ان کے مقرر کردہ چندہ وصول کرنے والے عاملین صدقہ کے حکم میں داخل ہو کر فقراء کے وکیل ہیں، معطیین چندہ کی وکالت صرف اس درجہ میں ہے کہ انہوں نے ان حضرات کو وکیل فقراء تسلیم کر کے اپنا چندہ ان کے حوالے کر دیا تو جب بحیثیت وکیل فقراء رقم ان کے قبضہ میں چلی گئی تو وہ فقراء کی ملک ہو گئی اور زکوٰۃ دینے والوں کی زکوٰۃ ادا ہو گئی بات تو اتنے ہی سے صاف ہو گئی تھی لیکن اس کی مزید تائید و توثیق ابو حنیفہ رحمہ اللہ وقت حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ کے اس فتوے سے ہو گئی جو تذکرۃ الرشید میں مولانا صادق الیقین صاحب رحمہ اللہ کے ایک سوال کے جواب میں لکھا گیا جس میں اس کی تصریح ہے کہ اگر چہ یہ طلبہ فقراء مجہول الکمیت و الذوات ہیں اس کے باوجود ان کی وکالت مہتممانِ مدرسہ کے لیے عرفی طور پر ثابت ہو گئی اور ان کا قبضہ فقراء کا قبضہ ہو گیا۔
حضرت گنگوہی رحمہ اللہ کے اس مدلل فتوے اور حضرت مولانا خلیل احمد قدس سرہ کی تحقیق اور اس پر حضرت حکیم الامت رحمہ اللہ کی تسلیم و تصدیق کے بعد مسئلہ میں تو کوئی اشکال نہیں رہا تاہم احقر نے جب پاکستان آنے کے بعد کراچی میں دار العلوم قائم کیا تو احتیاطاً یہ صورت اختیار کی کہ جن طلبہ کو دار العلوم میں داخلہ دیا جاتا ہے ان کے داخلہ فارم پر یہ توکیل کا مضمون ہر طالبِ علم کی طرف سے برائے مہتممِ مدرسہ یا جن کو وہ مامور کرے طبع کر دیا گیا ہے اور ہر داخل ہونے والا طالبِ علم باقاعدہ مہتممِ مدرسہ کو اپنی طرف سے زکوٰۃ وصول کرنے کا بھی وکیل بناتا ہے اور عام فقراء کی ضرورتوں پر خرچ کرنے کا بھی اس طرح مہتممِ مدرسہ ہر سال داخل ہونے والے متعین طلباء کا وکیل ہوتا ہے، اور ان کی طرف سے تمام طلباء پر خرچ کرنے کا مجاز، اس طرح مجہول الکمیت و الذات ہونے کا شبہ بھی باقی نہیں رہتا اس لیے میں امداد المفتین میں اس مسئلہ سے متعلق شائع شدہ عبارت سے رجوع کر کے اسی فیصلہ کو تسلیم
كرتا ہ
وں جو فیصلہ ان سب اکابر کا ہے یعنی موجودہ زمانے کے مہتممانِ مدارس یا ان کے مامور کردہ حضرات جو چندہ یا زکوٰۃ وصول کرتے ہیں وہ بحیثیتِ وکیل فقراء کے وصول ہوتی ہے اور ان کے قبضہ میں پہنچتے ہی معطیین زکوٰۃ کی زکوٰۃ ادا ہو جاتی ہے۔
ضروری تنبیہ: اس تحقیق میں مہتممانِ مدارس کے لیے ایک تو آسانی ہو گئی کہ ان کو ہر ایک شخص کا مالِ زکوٰۃ اور اس کا حساب الگ الگ لکھنے کی ضرورت نہیں رہی اور قبل از خرچ معطی چندہ کا انتقال ہو جائے تو اس کے وارثوں کو واپس کرنے کی ضرورت نہ رہی معطیانِ چندہ کو بھی یہ فائدہ پہنچا کہ ان کی زکوٰۃ فوری طور پر ادا ہو گئی، لیکن مہتممانِ مدارس کی گردن پر آخرت کا ایک بڑا بوجھ آ پڑا کہ وہ ہزاروں فقراء کے وکیل ہیں جن کے نام اور پتے محفوظ اور یاد رکھنا بھی آسان نہیں کہ خدانخواستہ اگر اس مال کے خرچ کرنے میں کوئی غلطی ہو جائے تو ان سے معافی مانگی جا سکے اس لیے اگر مہتممانِ مدارس نے فقراء طلباء کی ضروریات کے علاوہ کسی کام میں اس مال کو خرچ کیا تو وہ ایسا ناقابل معافی جرم ہوگا جس کی تلافی ان کے قبضہ میں نہیں اسی لیے ان سب حضرات پر لازم ہے کہ مدارس کے چندہ کی رقم کو بڑی احتیاط کے ساتھ صرف ان ضروریات پر خرچ کیا جائے جن کا تعلق فقراء طلباء سے ہے مثلاً ان کا طعام و لباس اور دواء و علاج ان کی رہائشی ضرورتیں، ان کے لیے کتابوں کی خریداری وغیرہ۔ واللہ سبحانہ و تعالی اعلم۔ (امداد المفتین، ص۸۹۵، ط: دار الاشاعت)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.