بعض علماء کا یہ کہنا درست نہیں کہ عرفہ ایک ہے تو بقرہ عید سعودی عرب کے ساتھ ہونا ضروری ہے:
Question
بعض ملکوں کے علماء کہتے ہیں کہ عرفہ ایک ہے دو نہیں ہو سکتے یعنی جب سعودی عرب میں عرفہ کا دن ہو اور حاجی عرفات پر وقوف کرتے ہوں اسی دن ہمارا بھی عرفہ ہوگا، اس لیے وہ حضرات بقرہ عید میں سعودی عرب کے ساتھ اتفاق ضروری قرار دیتے ہیں تو کیا عرفہ اور عرفات ایک ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
واضح ہو کہ عرفہ اور عرفات دو لفظ ہیں: عرفات اس مکان کو کہتے ہیں جہاں پر حاجی ۹ ذی الحجہ کو وقوف کرتے ہیں اور حج کا ایک اہم رکن ادا کرتے ہیں ۔ اور عرفہ کے دو معنی ہیں: (۱) زمان ؛
اليوم التاسع من ذي الحجة،
یعنی ماہِ ذی الحجہ کی نویں تاریخ ۔ (۲) مکان یعنی میدانِ عرفات ۔ احادیث میں دونوں معنوں میں استعمال ہوا ہے ۔
شریعتِ مطہرہ نے عرفہ کے روزے کو مندوب قرار دیا ہے اس سے مراد یومِ عرفہ ہے یعنی زمان مراد ہے کہ ہر ملک میں قمری حساب سے نویں ذی الحجہ کو روزہ رکھنا مندوب ہوگا، سعودی عرب کی نویں تاریخ سے اس کا کوئی تعلق نہیں جیسے ہر ملک کا باشندہ اپنے ملک کے اوقات کے حساب سے نمازیں ادا کرتا ہے اوقات کا تعلق زمانہ سے ہے سعودی عرب سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔
حج کی کتابوں میں ایامِ حج کے اسماء :
يوم الزينة (
ساتویں ذی الحجہ)
يوم التروية (
آٹھویں)
يوم عرفة (
نویں ذی الحجہ)
يوم النحر (
دسویں ذی الحجہ عید کا دن)
يوم القر (
گیارہویں ذی الحجہ)
يوم النفر الأول (
بارہویں ذی الحجہ)
يوم النفر الثاني
(تیرہویں ذی الحجہ) ان ایام میں روزہ کا تعلق یومِ عرفہ یعنی نویں ذی الحجہ سے ہے، حاجیوں کے وقوف اور میدانِ عرفات سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔
قال ابن حجر رحمه الله في فتح الباري: تنبيه: لستة أيام متوالية من أيام ذي الحجة أسماء: الثامن: يوم التروية، التاسع؛ عرفة، والعاشر: النحر، والحادي عشر: القر، والثاني عشر: النفر الأول، والثالث عشر؛ النفر الثاني، وذكر مكي بن أبي طالب أن السابع يسمي يوم الزينة. (فتح الباري: ۳/۵۷۵، باب الخطبة أيام مني).
وينظر: (فتاوى الشامي: ۲/۵۰۳، مطلب في الرواح إلى عرفات، سعيد، وفتح الوهاب للشيخ زكريا الأنصاري: ۱۷۰۰۱، وإعانة الطالبين: ۲/۱۳٦).
عرفہ کا اطلاق زمان اور مکان دونوں پر ہے ۔ ملاحظہ کیجیے:
قال في المغرب: عرفات؛ علم للموقف ويقال لها عرفة أيضاً، ويوم عرفة؛ التاسع من ذي الحجة. (المغرب: ۲/۵۵).
وقال في المعجم الوسيط: عرفات؛ جبل قريب من مكة وموضع وقوف الحجيج، وهو على اثني عشر ميلاً من مكة، ويوم عرفات؛ اليوم التاسع من ذي الحجة. (المعجم الوسيط، ص ۵۹۵).
بخاری شریف میں روایت ہے:
عن جبير بن مطعم رضي الله عنه قال: أضللت بعيراً لي فذهبت أطلبه يوم عرفة ورأيت النبي ﷺ واقفاً بعرفة فقلت: هذا والله من الحمس فما شأنه ههنا. (رواه البخاري، رقم: ۱٦٦٤، باب الوقوف بعرفة).
مسلم شریف میں ہے:
عن أبي قتادة رضي الله عنه أن النبي ﷺ قال: صيام يوم عرفة أحتسب على أن يكفر السنة التي قبله والسنة التي بعده. (رواه مسلم: ۱/٤۳٦).
ترمذی شریف میں مذکور ہے:
عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال: وقف رسول الله ﷺ بعرفة فقال: هذه عرفة وهو الموقوف وعرفة كلها موقف
(رواه الترمذي، ۱۷۷، باب ما جاء أن عرفة كلها موقف).
مزید ملاحظہ کیجیے: (نظام الفتاوی، ص ٤۱۳ ۔ ٤۱۵) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.