مجبوری میں بلا شہود نکاح کا حکم:

3 min readFatwa Vol 3 #552Urdu
Vol. 3ابواب الصوم سے متعلق متفرق مسائل:ابواب النکاح سے متعلق متفرق مسائل؛

Question

اگر سمندری جہاز ٹوٹ جائے اور اس کے ایک تختے پر ایک مرد و عورت رہ جائیں اور کسی جزیزے میں پہونچے، جہاں پر کوئی تیسرا مسلمان موجود نہ ہو اب یہ زنا سے بچنے کے لیے کیا تدبیریں کریں، متعہ حرام ہے، نکاح کے لیے شہادت ضروری ہے اور زنا کا خطرہ سر پر منڈلا رہا ہے، پس چہ باید کرد؟

Answer

یہ مسئلہ مودودی صاحب کا فرضی مسئلہ ہے جب کوئی مرد و عورت ایسی جگہ میں رہ جائیں تو ان کو اپنی جان بچانے اور کھانے پینے کی فکر کرنی چاہیے ہم بستری کی خواہش کہاں ہو گی، تاہم اگر ایسا واقعہ ہو جائے اور کسی قسم کے گواہ میسر نہ ہوں اور وہ نکاح میں دلچسپی رکھتے ہوں اور زنا میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہو تو صورتِ مسئولہ میں ان کو امام مالک رحمه الله کے مذہب کے مطابق بغیر گواہوں کے نکاح کر لینا چاہیے، بوقتِ ضرورت امام مالک رحمه الله کے قول پر عمل کرنے کی اجازت ہے جیسے مفقود وغیرہ کے مسائل میں ہمارے علماء نے امام مالک رحمه الله کے قول پر فتویٰ دیا ہے ۔

قال في الشامية: مطلب في الإفتاء بمذهب مالك رحمه الله في زوجة المفقود؛ قوله: (خلافاً لما لك رحمه الله) فإن عنده تعتد زوجة المفقود عدة الوفاة بعد مضي أربع سنين

لكنه اعترض على الناظم بأنه لا حاجة للحنفي إلى ذلك أي لأن ذلك خلاف مذهبنا فحذفه أولى. وقال في الدر المنتقى: ليس بأولي لقول القهستاني: لو أفتي به في موضع الضرورة لا بأس به على ما أظن. قلت: ونظير هذه المسألة عدة ممتدة إلى الطهر التي بلغت برؤية الدم ثلاثة أيام ثم امتد طهرها فإنها تبقي في العدة إلى أن تحيض ثلاث حيض وعند مالك رحمه الله تنقضي عدتها بتسعة أشهر. وقد قال في البزازية: الفتوى في زماننا على قول مالك رحمه الله، وقال الزاهدي: كان بعض أصحابنا يفتون به للضرورة. (فتاوى الشامي: ٤/۲۹٦، سعيد).

فتاوی ہندیہ میں ہے:

وذكر في الذخيرة: ولو قضي بجواز النكاح بغير شهود نفذ قضاؤه وهكذا في جامع الفتاوى. (الفتاوى الهندية: ۳/۳٦۲).

مذہبِ احناف کے مطابق بغیر گواہوں کے نکاح نہیں ہوتا ۔ ملاحظہ ہو ہدایہ میں ہے:

ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين

اعلم أن الشهادة شرط في باب النكاح لقوله عليه السلام: لا نكاح إلا بشهود وهو حجة على مالك رحمه الله في اشتراط الإعلان دون الشهادة. (الهداية: ۲/۳۰٦، شركة علمية).
قال في البدائع: قال عامة العلماء: إن الشهادة شرط جواز النكاح وقال مالك رحمه الله: ليست بشرط وإنما الشرط هو الإعلان. (بدائع الصنائع: ۲/۲۵۲، سعيد).
قال القهستاني: لو أفتي بقول مالك رحمه الله في موضع الضرورة ينبغي أن لا بأس به. (حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ۲/۵۰۸).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.