ڈرامہ میں حکایۃً طلاق دینے سے وقوع طلاق کا حکم:

2 min readFatwa Vol 4 #8Urdu
Vol. 4كتاب الطلاقباب (۱): طلاق واقع ہونے نہ ہونے کا بیان

Question

اگر شوہر بیوی نے کسی ڈرامہ میں کام کیا اور اس میں کسی کہانی کے ضمن میں شوہر نے بیوی کو طلاق دی، تو یہ طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟ مثلاً لیلیٰ مجنون کی کہانی پیش کی، اور شوہر بیوی نے لیلیٰ مجنون کا کردار ادا کیا ۔

Answer

حضرت مفتی ولی حسن صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے تھے کہ اس میں طلاق واقع نہیں ہوتی، کیوں کہ یہ طلاق حکایت اور نقل کے طور پر ہے، گویا مجنون نے لیلیٰ کو طلاق دی یا فرہاد نے شیرین کو طلاق دی، جو فرضی واقعہ کی تصویر ہے یہ انشاء طلاق نہیں، دوسروں سے حکایت اور نقل ہے، جیسے صاحبِ مقامات نے ابو زید سروجی اور حارث بن ہمام کی حکایات کو فرضی طور پر نقل فرمایا، اس لیے صاحبِ مقامات پر جھوٹ کا گناہ بھی نہیں، کیوں کہ فرضی حکایات کسی امر واقع کی غلط خبر نہیں ۔
ملاحظہ فرمائیں الفقہ الاسلامی و ادلتہ میں ہے:

يشترط بالاتفاق القصد في الطلاق وهو إرادة التلفظ به ولو لم ينوه فلا يقع طلاق فقيه يكرره ولا طلاق حاك عن نفسه أو غيره لأنه لم يقصد معناه، بل قصد التعليم والحكاية. (الفقه الإسلامي وأدلته: ۷/۳٦۸، شروط الطلاق، دار الفكر).

فتح القدیر میں ہے:

لو كرر مسائل الطلاق بحضرة زوجته ويقول: أنت طالق ولا ينوى طلاقاً لا تطلق. (فتح القدير: ٤/٤، باب إيقاع الطلاق، دار الفكر).

مزید ملاحظہ فرمائیں: (الاشباہ و النظائر: ۱/۹۱ ۔ و فتاوی دار العلوم دیوبند: ۹/۲۸٤، مدلل و مکمل ۔ و فتاوی محمودیہ: ۱۲/۲٤۹، مبوب و مرتب) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.