بے جا اور بلا وجہ شرعی ہونے والی طلاق روکنے کی تدبیر:
Question
میاں بیوی آپس میں معاہدہ کر لے کہ اگر شوہر نے بے جا یا بلا وجہ شرعی تین طلاق دے دیں تو شوہر پر یہ لازم اور ضروری ہے کہ بیوی کو مکان دے یا گاڑی دے یا بڑی رقم دے کر رہا کرے، تو کیا بنگاہِ شریعت اس طرح معاہدہ کرنے کی گنجائش ہو گی یا نہیں؟
Answer
اگر شوہر کو طلاق کے بے جا استعمال سے روکنے کے لیے بوقتِ عقدِ نکاح کسی ایسے معاہدہ کا پابند کیا جائے کہ جس کے مطابق وہ عورت کو جلد بلا قصور طلاق دے دے تو بطورِ متعہ ایک خطیر رقم کی ادائیگی اس کے ذمہ لازم قرار دی گئی ہو تو یہ صورت غالباً اوفق بالقرآن بھی ہو گی، جیسا کہ ارشاد باری ہے:
﴿وللمطلقات متاع بالمعروف حقاً علي المتقين﴾
۔
(سورة البقرة:).
اور طلاق شدہ عورتوں کے لیے معروف طریقہ پر متعہ دینا پرہیز گاروں پر لازم ہے، اگر چہ حسبِ تصریحاتِ فقہاء متعہ کی یہ صورت صرف مستحب کے درجہ میں ہے، تاہم معاہدہ کے بعد اس کا لازم الوفاء ہونا ارشادِ نبوی کے عین موافق ہوگا ۔
بخاری شریف میں ہے:
عن عقبة بن عامر رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول الله ﷺ: "أحق ما أوفيتم من الشروط أن توفوا به ما استحللتم به الفروج
۔ (
رواه البخاري: ۲/۷۷٤/۴۹۵۷، باب الشروط في النكاح، فيصل).
وعدہ کو پورا کرنا بعض صورتوں میں لازم ہوتا ہے، جب کہ وعدہ عقد میں ہو ۔
ملاحظہ فرمائیں قاضی خان میں ہے:
وإن ذكر البيع من غير شرط ثم ذكر الشرط على وجه المواعدة جاز البيع ويلزمه الوفاء بالوعد لأن المواعدة قد تكون لا زمة فتجعل لا زمة لحاجة الناس. (قاضيخان على هامش الهندية: ۲/۱٦۵، فصل في الشروط المفسدة، تحت مسألة بيع الوفاء).
نیز یہاں یہ کہہ سکتے ہیں کہ جس طرح عقدِ بیع میں وعدہ پورا کرنا لازم ہے، اسی طرح عقد نکاح میں بھی مصلحت کی وجہ سے لازم الوفاء قرار دے سکتے ہیں ۔
ملاحظہ ہو شرح سیر کبیر میں ہے:
۳۵۷۰. فإن شرطوا في أمان الرسل ألا يأخذ عاشر المسلمين منهم شيئاً، فإن كانوا يعاملون رسلنا بمثل هذا فينبغي للمسلمين أن يشترطوا لهم هذا ويوفوا به.
لأن هذا شرط موافق لحكم الشرع يجب الوفاء به. (شرح كتاب السير الكبير لمحمد بن الحسن الشيباني رحمه الله: ۵/۱۷۹۰، باب الشروط في المواعدة وغيرها).
آیتِ
كريمه﴿وأوفوا بعهد اللّه﴾
۔
(سورة النحل: ۹۱).
کے تحت علامہ قرطبی فرماتے ہیں:
لفظ عام لجميع ما يعقد باللسان ويلتزمه الإنسان من بيع أو صلة أو موافقة في أمر موافق للديانة. (الجامع لا حكام القرآن: ۱۰/۱۱۱، بيروت).
مزید ملاحظہ فرمائیں: (جدید فقہی مباحث: ۱۱/۱٤۳، ادارۃ القرآن ۔ و جدید فقہی مسائل: ۳/۳۳ ۔ ٦۰، اشتراط فی النکاح) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.