لڑکے کی شادی کے بعد گھر دینے کا حکم:
Question
لڑکے کی شادی کے اخراجات اور شادی کے بعد گھر کا انتظام والد کے ذمہ لازم ہے یا نہیں؟
Answer
بالغ لڑکے کا نفقہ وغیرہ باپ پر لازم نہیں ہے، ہاں اگر وہ کسی مرض وغیرہ کی وجہ سے کسب پر قادر نہ ہو تو اس کا نفقہ والد پر لازم ہے ۔ اور نفقہ میں کھانا کپڑا وغیرہ لازم ہے، لیکن شادی کے بعد الگ مکان باپ کے ذمہ لازم نہیں ہے، نیز شادی کے اخراجات مثلاً مہر، زوجہ کا نفقہ وغیرہ باپ کے ذمہ واجب نہیں ہے، ہاں اگر والد صاحبِ استطاعت ہے تو بیٹے کے لئے مکان کا انتظام کرنا کارِ خیر اور باعثِ ثواب ہے، اگر چہ واجب اور لازم نہیں ۔
ملاحظہ فرمائیں فتاویٰ قاضيخان میں ہے:
ولا يجب عليه نفقة الذكور الكبار إلا أن يكون الولد عاجزاً عن الكسب لزمانة أو مرض، فتكون نفقته على والده. (فتاوى قاضي خان على هامش الهندية: ۱/٤٤۵، فصل في نفقة الأولاد).
فتح القدیر میں ہے:
أما الكبار فعلى الظاهر وإن لم يكونوا عاجزين لا نفقة لهم. (فتح القدير: ٤/٤۱۰، دار الفكر).
احسن الفتاویٰ میں ہے:
بالغ لڑکے کا نفقہ والد پر نہیں، البتہ اگر وہ کسی مرض وغیرہ کی وجہ سے کسب پر قادر نہ ہو، یا طالبِ علمِ دین ہو، اور اس کا اپنا مال نہ ہو تو اس کا نفقہ والد پر ہے ۔ اولاد کی شادی کے مصارف والد پر نہیں، لڑکی کی شادی پر تو کوئی خرچ ہے ہی نہیں، اس پر شادی کی وجہ سے کوئی چیز واجب نہیں ہوتی، بلکہ اس کے مصارف بھی شوہر کے ذمہ ہو جاتے ہیں، البتہ لڑکے کی شادی کے مصارف ہیں، جن میں سے مہر اور بیوی کا نفقہ واجب ہے، اور ولیمہ سنت ہے، ان میں سے کوئی خرچ بھی والد کے ذمہ نہیں ۔ (احسن الفتاویٰ: ۵/٤٦٤) ۔
واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.