والدین کا مرتد لڑکے سے نفقہ قبول کرنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 4 #204Urdu
Vol. 4كتاب الطلاقباب (۱۵): نفقہ اور سکنی کا بیان

Question

مسلمان والدین مرتد لڑکے سے نفقہ قبول کر سکتے ہیں یا نہیں؟ جب کہ اس کے علاوہ ان کے لیے اور کوئی ذریعہ معاش نہیں ہے۔

Answer

مرتد اگر اسلام میں واپس نہ آئے تو اس کی سزا شرعاً قتل ہے، لیکن غیر مسلم ممالک میں سزا کا قانون نہیں ہے اس لیے مرتد کافر کے حکم میں ہوگا اور کافر سے تو ہدیہ قبول کرنا جائز ہے، لیکن مرتد کے ساتھ بائیکاٹ کرنا چاہیے، اور اس سے نفقہ قبول نہیں کرنا چاہیے، اور مسلمانوں کو چاہیے کہ اس کے والدین کے لیے نفقہ کا انتظام کر لیں۔ ملاحظہ ہو فتاوی شامی میں ہے:

قوله مع الاختلاف ديناً أي كالكفر والإسلام، فلا يجب على أحدهما الإنفاق على الآخر، وفيه إشعار بأن نفقة السكني على المسر الشيعي كما يشير إليه في التكميل قهستاني، والمراد الشيعي المفضل، بخلاف الساب القاذف فإنه مرتد يقتل إن ثبت عليه ذلك، فإن لم يقتل تساهلاً في إقامة الحدود فالظاهر عدم الوجوب، لأن مدار نفقة الرحم المحرم على أهلية الإرث، ولا توارث بين مسلم ومرتد، نعم لوكان يجحد ذلك ولا بينة يعامل بالظاهر وإن اشتهر حاله بخلافه، والله سبحانه أعلم. (فتاوى الشامي: ۳/٦۳۱).

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب رحمه الله فرماتے ہیں:
غیر مسلم کے ساتھ کھانا پینا جائز ہے مگر مرتد کے ساتھ جائز نہیں ۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل: ۱/٦۹)۔
دوسری جگہ فرماتے ہیں: غیر مسلم کا ہدیہ قبول کرنا جائز ہے، بشرطیکہ ناپاک نہ ہو۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل: ۱/٦۷)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.