متاع البیت کا حکم:
Question
جس گھر میں میاں بیوی رہتے تھے بعد الطلاق اس گھر کے سامان کے بارے میں کیا حکم ہے؟ شوہر بیوی میں سے کون زیادہ حقدار ہے؟ مثلا گھڑی، بیڈ شیٹ وغیرہ کیا بیوی رکھے گی یا شوہر کو واپس کر دے گی؟
Answer
بصورتِ مسئولہ جن اشیاء کے متعلق معلوم ہے کہ شوہر کی ملکیت ہے، وہ شوہر کی ہیں، اور جن اشیاء کے متعلق معلوم ہے کہ بیوی کی ملکیت ہے، وہ بیوی کی ہیں، مثلاً بیوی کو والدین کی جانب سے ملی ہوئی چیزیں بیوی کی ہیں، یا بیوی کے رشتہ داروں نے شادی کے وقت بیوی کے نام سے دی ہیں، وہ سب بیوی کی ہیں، نیز جو سامان بیوی نے اپنی رقم سے خریدا وہ بھی بیوی کا ہے، یا شوہر نے کوئی چیز ہبہ کی ہے، وہ بھی بیوی کی ہیں، اور جس سامان کے متعلق معلوم نہ ہو یا اس کے بارے میں اختلاف ہو اور کسی کے پاس گواہ نہ ہو اس میں تفصیل یہ ہے کہ جو سامان مرد کے استعمال کے قبیل سے ہے تو وہ سامان قسم کے ساتھ مرد کو ملے گا، اور جو عورتوں کے استعمال کی چیزیں ہیں وہ قسم کے ساتھ بیوی کو ملیں گی، اور جو دونوں کے استعمال کی چیز ہے وہ قسم کے ساتھ شوہر لیگا، جب گھڑی وغیرہ کے بارے میں معلوم ہے کہ شوہر کے ہیں تو شوہر کو دینا لازم ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں البحر الرائق میں ہے:
قوله "وله فيما يصلح لهما" أي القول له في متاع يصلح للرجل وللمرأة، لأن المرأة وما في يدها في يد الزوج، والقول في الدعاوي لصاحب اليد، بخلاف ما يختص بها لأنه يعارضه ظاهر أقوي منه، ولا فرق بين ما إذا كان الاختلاف حال قيام النكاح أو بعد ما وقعت الفرقة، وما يصلح لهما: الفرش والأمتعة والأواني والرقيق والمنزل والعقار والمواشي والنقود كما في الكافي، وبه علم أن البيت للزوج إلا أن يكون لها بينة، وعزاه في خزانة الأكمل إلى الإمام الأعظم، وفي الخانية: ولو أقاما البينة يقضي ببينتها، لا نها خارجة معني. (البحر الرائق: ۷/۲۲٦، باب التحالف، كوئته).
وفيه أيضاً: (وإن اختلف الزوجان في متاع البيت فالقول لكل واحد منهما فيما يصلح له) لأن الظاهر شاهد له، والمتاع لغة: كل ما ينتفع به كالطعام والبر وأثاث البيت، وأصله ما ينتفع به من الزاد
قالوا: والصالح له العمامة والقباء والقلنسوة والطيلسان والسلاح والمنطقة والكتب والفرس والدرع الحديد، فالقول في ذلك له مع يمينه، وما يصلح لها: الخمار والدرع والأساورة وخواتم النساء والحلي والخلخال ونحوها، فالقول لها فيها مع اليمين، قالوا: إلا إذا كان الزوج يبيع ما يصلح لها فالقول له لتعارض الظاهرين، وكذا إذا كانت تبيع ما يصلح له لا يقبل قوله لما ذكرنا. (البحر الرائق: ۷/۲۲۵، باب التحالف)
(وكذا في الدر المختار: ۸/۲۹. وفتح القدير: ۸/۲۳٦، دار الفكر. ومجمع الأنهر في شرح ملتقي الأبحر ۲/۲٦۸).
واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.