بانجھ پن میں دودھ اترنے سے ثبوتِ رضاعت کا حکم:
Question
ایک شخص کی بیوی بانجھ ہے، سالہا سال سے ان کے یہاں کوئی اولاد نہیں ہے، اس عورت نے ایک بچی کو تربیت کے لئے لیا، اور اس کے منہ میں اپنے پستان دیتی رہی، کچھ دنوں کے بعد اس عورت کے سینے میں دودھ پیدا ہو گیا، اب اس عورت کا شوہر اس لڑکی کا رضاعی باپ بن گیا یا نہیں؟ اور اگر عورت کے شوہر کا دوسری بیوی سے بیٹا ہو تو اس کے ساتھ اس لڑکی کا نکاح ہو سکتا ہے یا نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ اس عورت کے شوہر سے اس لڑکی کا نکاح جائز نہیں، کیوں کہ وہ اس کی ربیبہ کہلاتی ہے، اور ربیبہ کے ساتھ نکاح نہیں ہو سکتا۔
﴿وربائبكم التي في حجوركم﴾
کے تحت نکاح حرام ہے۔ الا یہ کہ ربیبہ کی ماں سے خلوت اور جماع ہی نہیں ہوا ہو تو پھر نکاح جائز ہے۔
اور اس کے لڑکے کے نکاح کا مسئلہ: تو اس میں کوئی وجہ حرمت نہیں، کیوں کہ یہ لڑکا ربیبہ کی ماں سے نہیں بلکہ اگلی عورت کا ہے، اور ربیبہ کی ماں کو شوہر کی وجہ سے دودھ نہیں اترا۔
ملاحظہ ہو شامی میں ہے:
قوله "طلق ذات لبن" أي منه بأن ولدت منه، لأنه لو تزوج امرأة ولم تلد منه قط ونزل لها لبن وأرضعت ولداً لا يكون الزوج أباً للولد، لأن نسبته إليه بسبب الولادة منه، وإذا انتفت انتفت النسبة فكان كلبن البكر، ولهذا لو ولدت للزوج فنزل لها لبن فأرضعت به ثم جف لبنها ثم درّ فأرضعته صبية فإن لابن زوج المرضعة التزوج بهذه الصبية، ولو كان صبياً كان له التزوج بأولاد هذا الرجل من غير المرضعة. بحر عن الخانية. (فتاوى الشامي: ۳/۲۲۱، باب الرضاع، ط: سعيد).
فتح القدیر میں ہے:
وبخلاف ما لو ولدت للزوج فنزل لها لبن فأرضعت به، ثم جف لبنها ثم درّ لها فأرضعت به صبية، فإن لولد زوج المرضعة من غيرها التزوج بهذه الصبية، لأن هذا ليس لبن الفحل ليكون هو أباها كما لو لم تلد من الزوج أصلاً ونزل بها لبن فإنه لا يثبت بإرضاعها تحريم بين ابن زوجها ومن أرضعته، لأنها ليست بنته، لأن نسبته إليه بسبب الولادة منه، وإذا انتفت انتفت النسبة فكان كلبن البكر. (فتح القدير: ۳/٤٤۹، ط: دار الفكر. وكذا في فتاوى قاضيخان على هامش الهندية: ۱/٤۱۷، باب الرضاع).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.