دوا اور انجیکشن کے ذریعہ دودھ پیدا ہو تو ثبوتِ رضاعت کا حکم:
Question
ایک عورت چھوٹی بچی کی پر ورش کر رہی ہے، اس کو دودھ نہیں اترتا، لیکن اگر دوا یا انجیکشن کے ذریعہ دودھ آنے لگے اور بچی کو پلا دے تو رضاعت ثابت ہو گی یا نہیں؟ نیز اس عورت کا شوہر بچی کا رضاعی باپ بنے گا یا نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ اگر دوا اور انجیکشن کے ذریعہ دودھ اترے اور بچی کو پلا دے تو بچی سے رضاعت ثابت ہو جائے گی، یعنی دودھ پلانے والی عورت بچی کی رضاعی ماں کہلائے گی، لیکن اس کا شوہر بچی کا رضاعی باپ نہیں بنے گا، کیوں کہ وہ دودھ اترنے کا سبب نہیں بنا، ہاں وہ عورت اس کی مدخولہ ہو تو وہ بچی اس کی ربیبہ بننے کی وجہ سے نکاح اس بچی کے ساتھ حرام ہوگا، لیکن اگر قبل الدخول خلوتِ صحیحہ طلاق واقع ہو گئی ہو تو پھر اس بچی کے ساتھ نکاح جائز ہے۔
ملاحظہ ہو فتاوی عالمگیری میں ہے:
بكر لم تتزوج لو نزل لها لبن فأرضعت صبياً صار أما للصبي وتثبت جميع أحكام الرضاع بينهما، حتى لو تزوجت البكر رجلا ثم طلقها قبل الدخول بها كان لهذا الزوج أن يتزوج الصبية، وإن طلقها بعد الدخول لا يكون له أن يتزوجها. كذا في خزانة المفتين. (الفتاوى الهندية: ۱/۳٤٤. وكذا في فتاوى قاضيخان على هامش الهندية: ۱/٤۱۷، باب الرضاع).
در مختار میں ہے:
ويثبت أبوة زوج مرضعة إذا كان لبنها منه وإلا لا. وفي الشامي: قوله "وأبوة زوج مرضعة لبنها منه" المراد به اللبن الذي نزل منها بسبب ولادتها من رجل زوج. (الدر المختار مع الشامي: ۳/۲۱۳، سعيد).
وفي الشامية: قوله "ولبن بكر" المراد بها التي لم تجامع قط بنكاح أو سفاح
والحرمة لا تتعدي إلى زوجها، حتى لو طلقها قبل الدخول له التزوج برضيعتها، لأن اللبن ليس منه. قهستاني. أما لو طلقها بعد الدخول فليس له التزوج بالرضيعة لأنها صارت من الربائب التي دخل بأمها. (فتاوى الشامي: ۳/۲۱۸، سعيد).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.