خون دینے سے حرمتِ رضاعت کا حکم:
Question
بہت سی مرتبہ علاج و معالجہ کے طور پر ایک شخص کا خون دوسرے آدمی کے جسم میں چڑھایا جاتا ہے، کیا ایسی صورت میں ایک دوسرے کے نسب اور حرمت پر کچھ فرق پڑے گا یا نہیں؟ جب کہ فقہاء دودھ کی وجہ سے حرمت اور ثبوتِ نسب کے قائل ہیں۔
Answer
بصورتِ مسئولہ علاج و معالجہ کے طور پر خون چڑھانے سے حرمت ثابت نہ ہو گی، اس لیے کہ دودھ کی وجہ سے حرمت کا پیدا ہو جانا خلاف قیاس نص سے ثابت ہے، اس لیے اس پر دوسری چیزوں کو قیاس نہیں کیا جا سکتا، نیز شیر خوار بچے کو دودھ دینا بطورِ غذا اور نشوونما کے ہے نہ کہ بطورِ دوا و علاج کے، جب کہ خون چڑھانا دوا و علاج کے طور پر ہے، اسی وجہ سے مدت رضاعت یعنی دو سال گزرنے کے بعد حرمت ثابت نہیں ہوتی، اور مدتِ رضاعت کے بعد اگر دوا کے طور پر عورت کا دودھ استعمال کرے تب بھی حرمت پیدا نہیں ہوتی۔
ملاحظہ ہو حدیث شریف میں ہے:
عن أم سلمة أنه ﷺ قال "لا يحرم من الرضاع إلا ما فتق الأمعاء في الثدي وكان قبل الفطام" وقال الترمذي: حديث حسن صحيح. وفي سنن أبي داود من حديث ابن مسعود يرفعه "لا يحرم من الرضاع إلا ما أنبت اللحم وأنشر العظم" يروي بالراء المهملة: أي أحياه، ومنه قوله تعالى: ﴿ثم إذا شاء أنشره﴾. (فتح القدير: ۳/٤٤۵، كتاب الرضاع، دار الفكر).
وفي الدر المختار: ويثبت التحريم في المدة فقط. وفي الشامية: أما بعدها فإنه لا يوجب التحريم، بحر. (الدر المختار مع رد المحتار: ۳/۲۱۱، سعيد).
علامہ عینی رحمه الله بنایہ میں فرماتے ہیں:
إن الحرمة لا تتعلق بصورة الإرضاع ووجود اللبن كما في الكبير بالإجماع بل يتعلق باعتبار إنشاز العظم وإنبات اللحم. (البناية في شرح الهداية: ٤/۸۲۱).
مزید ملاحظہ ہو: (فتاوی فریدیہ: ۵/۱۳۸، و جدید فقہی مسائل، جلد اول: ۱۵۱)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.