غیر فطری طریقہ پر دودھ دینے سے ثبوتِ حرمت کا حکم:
Question
فطری طریقہ یہ ہے کہ بچہ ماں کے پستان سے دودھ پیے لیکن اگر کسی وجہ سے دودھ نکال کر بچہ کے منہ میں ڈالا جائے یا ناک کے ذریعہ چڑھایا جائے یا کوئی اور غیر فطری طریقہ اختیار کرے تو حرمت ثابت ہو گی یا نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ ماں کا دودھ نکال کر غیر فطری طریقہ سے بچہ کو مدت کے اندر پلایا یا چڑھایا جائے تب بھی حرمت ثابت ہو جائے گی یہاں تک کہ امام محمد رحمه الله کے نزدیک حقنہ کے ذریعہ بھی حرمت ثابت ہو جاتی ہے۔
ملاحظہ ہو فتاوی عالمگیری میں ہے:
كما يحصل الرضاع بالمص من الثدي يحصل بالصب والسعوط والوجور
وعند محمد رحمه الله يثبت بالحقنة كما في التهذيب. (الفتاوى الهندية: ۱/۳٤٤، كتاب الرضاع. وكذا في فتاوى قاضيخان على هامش الهندية: ۱/٤۱۷، باب الرضاع).
مزید ملاحظہ ہو: (جدید فقہی مسائل، جلد اول: ۱۵۳)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
باب حقوق الزوجين
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.