غیر اللہ کی قسم کھانے کا حکم اور "أفلح وأبيه" کا جواب:
Question
رسول اللہ ﷺ نے غیر اللہ اور اپنے باپ کی قسم کھانے سے منع فرمایا، مختلف احادیث اس پر دال ہیں، مثلاً بخاری شریف میں ہے: "
قال رسول الله ﷺ: لا تحلفوا بآبائكم". (رواه البخاري: ۲/۹۸۳/٦٦۲۸).
دوسری جگہ مذکور ہے: "
ألا إن الله ينهاكم أن تحلفوا بآبائكم، من كان حالفاً فليحلف بالله أو ليصمت". (صحيح صحيح البخاري: ۲/۹۸۳/٦٦۴٦).
لیکن دوسری طرف صحیح مسلم شریف کی روایت میں
"أفلح وأبيه"
وارد ہوا ہے ۔ ان دونوں میں کیا تطبیق ہے؟ اور
"أفلح وأبيه" (
کامیاب ہوا اس کے باپ کی قسم) کا کیا جواب ہے؟
Answer
واضح ہو کہ قسم کی کل تین قسمیں ہیں: (۱) کسی کی تعظیم کرتے ہوے اس کو متصرف سمجھ کر قسم کھانا ۔ (۲) صرف استشہاد کے لئے قسم کھانا ۔ جیسے:
﴿والتين والزيتون﴾.
متنبی کہتے ہیں:
فومن أحب لا عصينك في الهوى
قسماً به وبحسنه وبهائه
عربی اور اردو شاعری اس قسم سے بھری ہوئی ہے ۔ مثلاً شاعر کہتا ہے:
اتنا ہوں تیری تیغ کا شرمندۂ احسان
سر میرا تیرے سر کی قسم اٹھ نہیں سکتا
وغیرہ وغیرہ ۔
فارسی میں ہے: قسم بلب میگون تو وزلف شبگون تو کہ تو محبوب دلربائی ۔
(۳) دعا برکت کے لئے قسم کھانا، جیسے قرآن میں ہے:
﴿لعمرك إنهم لفي سكرتهم يعمهون﴾.
اور "
أفلح وأبيه"
میں یہی قسم مراد ہے ۔ یعنی آپ کے باپ کی نسل میں اللہ تعالیٰ برکت دنیوی اور اخروی رکھ دے ۔
الغرض غیر اللہ کی قسم تعظیم کے لئے اور اس کو متصرف فی الامور سمجھتے ہوے ممنوع ہے، اور جہاں وارد ہے وہاں دعائے برکت کے لئے ہے، وہ ممنوع قسم میں شامل نہیں ہے ۔
دونوں روایتوں میں تطبیق:
شراحِ حدیث نے ان روایات کے مابین مختلف طریقوں سے تطبیق دی ہے، اکثر علماء کی توجیہات حسبِ ذیل دس تطبیق سے خارج نہیں ۔
ملاحظہ فرمائیں:
(۱) لفظ "
وأبيه"
بخاری شریف کی روایت میں موجود نہیں، اور بخاری کتب حدیث پر مقدم ہے ۔
(۲) در حقیقت قسم مقصود نہیں تھی بلکہ لفظ
"وأبيه"
عرب کی زبانوں پر عادۃً جاری تھا ۔
(۳) منسوخ ہے، یعنی ابتداء اسلام کے واقعات ہیں بعد میں نسخ ہوا ۔
(٤) غیر اللہ کی قسم سبقتِ لسانی سے صادر ہوئی ۔
(۵) یہ آپ ﷺ کے ساتھ خاص تھی ۔
(٦) بعض روایتوں میں تصحیف واقع ہوئی ہے ۔
(۷) لفظ
"وأبيه"
غیر محفوظ ہے، صحیح روایت میں واللہ کا لفظ وارد ہوا ہے ۔
(۸) "
وأبيه"
سے قبل رب مقدر ہے یعنی
"ورب أبيه"
مراد ہے ۔
(۹) یہ قسم بطورِ تعجب مستعمل ہوئی ہے ۔
(۱۰) محض تاکید کے لئے مستعمل ہوئی، پس پشت حقیقت مقصود نہیں تھی ۔
مذکورہ بالا توجیہات حسبِ ذیل کتب میں ملاحظہ کی جا سکتی ہیں:
(عمدة القاري: ۱/۳۹٦، دار الحديث ملتان
۔
وشرح النووي علي صحيح مسلم: ۲/٤٦، فيصل
۔
وإعلاء السنن: ۱۱/۳۵۰، إدارة القرآن
۔
وأوجز المسالك: ۹/٦۷٦، دار القلم دمشق
۔
وتكملة فتح الملهم: ۲/۱۷۵، مكتبه دار العلوم كراچي
۔
وتحفة الأخيار: ٦/۵۳
۔
وإكمال المعلم: ۵/٤۰۰، دار الوفاء
۔
وفتح الباري: ۱/۱۰۷، دار نشر كتب الإسلامية لاهور
۔
وسبل السلام: ٤/۱۹۷، دار الكتاب العربي
۔
والتعليق الممجد علي مؤطا محمد: ص ۳۲۸، قديم
۔
وفيض البخاري: ۱/۱۳۹، القاهرة
۔
وبذل المجهود: ۳/۱٤۸، إمدادية
۔
وكشف الباري: ۲/۵۱۲، مكتبة فاروقية
۔
وأنوار الباري: ۲/۱٤۷
۔
وفضل الباري: ص ۵۰۷
۔
وتحفة الأحوذي: ۵/۱۳۵، دار الفكر
۔
وعارضة الأحوذي: ۷/۲۱، دار الكتاب العربي)
۔
جن روایات میں غیر اللہ کی قسم کھائی گئی ہے ان کی تفصیل ملاحظہ فرمائیں:
(۱) مسلم شریف میں ہے:
جاء رجل إلى رسول الله ﷺ من أهل نجد ثائر الرأس
فقال رسول الله ﷺ: "أفلح وأبيه" إن صدق أو دخل الجنة وأبيه إن صدق". (صحيح مسلم: ۱/۳۰، فيصل).
(۲) مسلم شریف میں ہے:
قال رجل يا رسول الله من أحق الناس بحسن الصحبة، فقال: نعم وأبيك لتنبأن، قال: أمك ثم أمك ثم أمك ثم أباك ثم أدناك أدناك. (صحيح مسلم: ۲/۳۱۲، فيصل).
(۳)
جاء رجل إلى النبي ﷺ فقال: يا رسول الله أي الصدقة أعظم أجراً فقال أما وأبيك لتنبأنه أن تصدق وأنت صحيح شحيح تخشي الفقر وتامل البقاء ولا تمهل. (صحيح صحيح مسلم: ۱/۳۳۲، فيصل).
(٤) سنن کبریٰ میں ہے:
عن أبي العشراء الدارمي عن أبيه أنه قال يا رسول الله أما تكون الزكاة إلا في الحلق واللبة؟ وأبيه لو طعنت في فخذها لا جزأ عنك. (السنن الكبرى للبيهقي ۹/۲٤٦، دار المعرفة).
سنن دارمی کی روایت میں "
وأبيه"
کا لفظ نہیں ہے، ملاحظہ ہو سنن دارمی: (
۲/۱۱۳/۱۹۷۲، باب في ذبيحة المتردي في البئر).
وعلى هامشه قال: وفيه أبو العشراء، مجهول، وقال البخاري: في حديثه واسمه وسماعه من أبيه نظر. (حاشية سنن الدارمي: ۲/۱۱۳/۱۹۷۲، باب في ذبيحة المتردي في البئر).
الغرض "
أبو العشراء عن أبيه"
کی روایت ضعیف ہے، ملاحظہ ہو فتح المنان میں ہے:
وقال الخطابي: وضعفوا هذا الحديث لأنه من رواية مجهول وأبو العشراء الدارمي لا يدري من أبوه. ولم يرو عنه غير حماد بن سلمة. (فتح المنان شرح وتحقيق كتاب الدارمي: ۸/۵۹، باب في ذبيحة المتردي في البئر).
(۵) مسند أحمد میں ہے:
أن رسول الله ﷺ أتي بطعام من خبز ولحم فقال: ناولني الذراع
فقال: وأبيك لو سكت ما زلت أناول منها ذراعاً ما دعوت به. وقال شعيب الأرناؤوط في تحقيق هذ ا الحديث: قصة الذراع وإسنادها ضعيف. (مسند أحمد: ۱٦/٤۱۲).
(٦)
حیات الصحابہ میں ہے:
وأخرج ابن جرير عن ابن عباس رضي الله عنه قال: لما مرض أبو طالب دخل عليه رهط من قريش فيهم أبو جهل
وتكلم رسول الله ﷺ فقال: "يا عم! إني أريدهم على كلمة واحدة يقولونها تدين لهم بها العرب وتؤدي إليهم بها العجم الجزية" ففزعوا لكلمته ولقوله، فقال القوم: كلمة واحدة، نعم وأبيك عشراً. الحديث. وهكذا رواه الإمام أحمد والنسائي وابن أبي حاتم وابن جرير كلهم في تفاسيرهم، ورواه الترمذي وقال: حسن كذا في التفسير لا بن كثير، وأخرج البيهقي أيضاً والحاكم بمعناه، وقال: حديث صحيح الإسناد ولم يخرجاه، وقال الذهبي صحيح. (حياة الصحابة: ۱/٤۰، باب الدعوة إلى الله، المكتبة التجارية).
(۷) سنن ابی داود میں ہے:
حدثنا عقبة بن وهب بن عقبة العامري قال: سمعت أبي يحدث عن الفجيع العامري أنه أتي رسو ل الله ﷺ فقال: ما تحل لنا الميتة قال: ما طعامكم؟ قلنا نغتبق ونصطبح قال ابن نعيم فسره لي عقبة قدح غدوة وقدح عشية، قال ذلك وأبي الجوع، فأحل لهم الميتة على هذه الحال. (سنن أبي داود: ۲/۱۷۸، سعيد).
قال المنذري: في إسناده عقبة بن وهب قال ابن معين: صالح، وقال ابن المديني: قلت لسفيان بن عيينة فقال: ما كان ذلك فندري ما هذا الأمر ولا ما كان من شأنه يعني الحديث. (عون المعبود: ۱۰/۲۹۷).
الغرض کثیر تعداد میں روایتیں موجود ہیں جن میں
"أبيك"
کا لفظ آیا ہے، جو کتبِ حدیث سے شغف رکھنے والوں پر مخفی نہیں ہے، بطور "مشتے نمونہ از خروارے" چند سپردِ قرطاس کر دی گئیں ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.