خانۂ کعبہ کی قسم کھانے کا حکم:

1 min readFatwa Vol 4 #250Urdu
Vol. 4كتاب الأيمان والنذورباب (۱): ایمان سے متعلق احکام

Question

خانۂ کعبہ کی قسم کھانے سے قسم ہو جاتی ہے یا نہیں؟ اور خانۂ کعبہ کی قسم کھانا درست ہے یا نہیں؟

Answer

شریعتِ مطہرہ نے غیر اللہ کی قسم کھانے سے منع کیا ہے، اور خانۂ کعبہ کی قسم کھانا غیر اللہ کی قسم کھانے کے مترادف ہے، لہذا قسم منعقد نہیں ہو گی، اور اس قسم سے بچنا ضروری ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں ہدایہ میں ہے:

ومن حلف بغير الله لم يكن حالفاً كالنبي ﷺ والكعبة لقوله عليه السلام من كان منكم حالفاً فليحلف بالله أو ليذر

الخ. (الهداية: ۲/٤۷۹).

اوجز المسالک میں ہے:

وقال الطبري في حديث الباب أن اليمين لا تنعقد إلا بالله، وان من حلف بالكعبة أو آدم أو جبرائيل أو نحو ذلك لم تنعقد يمينه ولزمه الاستغفار لا قدامه على ما نهي عنه ولا كفارة في ذلك. (أوجز المسالك: ۹/٦۷۹).

مزید ملاحظہ ہو: (الفقہ الاسلامی و ادلتہ: ۳/۳۸۷ ۔ و فتح الباری: ۱۱/۵۳٤ ۔ و الفتاوی الہندیۃ: ۲/۵۳ ۔ و قاموس الفقہ: ۵/۳۵٦) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.