گھر میں قدم نہ رکھنے کی قسم کھانے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 4 #248Urdu
Vol. 4كتاب الأيمان والنذورباب (۱): ایمان سے متعلق احکام

Question

جھگڑے میں زید نے فاروق سے کہا واللہ میں آپ کے گھر میں قدم نہیں رکھوں گا، اور ساتھ میں اشارہ نہیں کیا، اور یہ گھر نہیں کہا، اگر اس کے دوسرے مکان میں گیا جس میں اس کی رہائش نہیں ہے، تو کیا حکم ہے؟ نیز اگر گھر کو گرا کر نیا بنا لیا تو اس میں داخل ہونے کا کیا حکم ہے؟

Answer

صورت مسئولہ میں زید نے قسم کھاتے وقت مکان کی طرف اشارہ نہیں کیا تھا، اس لیے فاروق کے دوسرے مکان داخل ہونے سے حانث ہو جائے گا، اگر چہ فاروق کی رہائش اس مکان میں نہیں ہے، نیز تجدید عمارت کی صورت میں بھی حانث ہو جائے گا ۔
ملاحظہ فرمائیں فتح القدیر میں ہے:

إن الإشارة كما تفيد التعريف يحصل بها التخصيص أيضاً، وهذا لا يحصل بالإضافة وحدها، فإنه لو قال عبد فلان انعقدت على كل عبدله. انتهي. (فتح القدير: ۵/۱۵۳، باب اليمين في الكلام، دار الفكر).

عالمگیری میں ہے:

و لو حلف لا يدخل دار فلان ولم ينو شيئاً

وإن دخل داراً مملوكة لفلان وفلان لا يسكنها حنث أيضاً. (الفتاوى الهندية: ۲/۷۰، الباب الثالث في اليمين على الدخول).

البحر الرائق میں ہے:

قوله لا يأكل طعام زيد أو لا يدخل داره

وإن لم يشر لا يحنث بعد الزوال (أي الملك) وحنث بالمتجدد

والحاصل أنه إذا أضاف ولم يشر لا يحنث بعد الزوال

ويحنث في المتجدد بعد اليمين. (البحر الرائق: ٤/۳۳۷).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.