قسم میں تعیینِ زمانہ کا حکم:
Question
اگر کسی نے قسم کھائی کہ واللہ میں کل روزہ رکھوں گا، اور کل نہیں رکھا تو دوسرے دن رکھنے سے قسم پوری ہو گی یا نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ دوسرے دن روزہ رکھنے سے قسم پوری نہیں ہو گی، اس لیے کہ اس شخص نے کل روزہ رکھنے کی قسم کھائی تھی، اور کل گزرنے پر وہ شخص حانث ہو گیا، کیوں کہ کل سے مطلق مستقبل مراد نہیں لیا جا سکتا، اس لیے کہ قسم کا مراد عرف پر ہے اور عرف میں کل کے لفظ سے مستقبل مراد نہیں لیتے ہیں ۔
ملاحظہ ہو فتح القدیر میں ہے:
قوله وإن حلف ليأتين البصرة
فأما يطلقها أو يوقتها بوقت مثل لا فعلن غداً أو فيما بيني وبين يوم الجمعة
وفي المقيدة تتعلق بآخر الوقت، فلو مات قبل مضي الوقت ولم يفعل لم يحنث. (فتح القدير: ۳/۱۱۰).
تبيين الحقائق
کے حاشیہ میں ہے:
قال الاتقاني رحمه الله: وأما التوقيت في الإتيان كقوله والله لا كلن هذا الرغيف اليوم فإنه لا يحنث ما دام الحالف والمحلوف عليه قائمين واليوم باقٍ، أما إذا مضي اليوم يحنث وإن كانا قائمين لفوات البر ولفوات الوقت المعين
(حاشية الشلبي على تبيين الحقائق: ۲/۱٦۰).
قاموس الفقہ میں ہے:
اگر وقت و زمانہ کی قید کے ساتھ قسم کھائی گئی ہو، جیسے کہے کہ میں آج یہ روٹی کھا کر رہوں گا، تو جب تک حالف اور محلوف علیہ دونوں ہوں اور مقررہ وقت باقی ہو حانث نہیں ہوگا، اگر وقت گزر جائے اور یہ دونوں باقی ہوں تو بالاتفاق وہ حانث ہو جائے گا ۔ (قاموس الفقہ: ۵/۳۵۸) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
باب
(
۲
)
نذر كا بيان
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.