نذر بالمعصیۃ کا حکم:

10 min readFatwa Vol 4 #260Urdu
Vol. 4كتاب الأيمان والنذورباب (۲): نذر سے متعلق احکام

Question

اگر کسی نے گناہ کی نذر مان لی کہ اگر میرا کام ہو گیا تو میں ناچ گانا کراؤں گا، یا شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ کے لئے بکرا ذبح کروں گا، یا قبر پر غلاف چڑھاؤں گا، یا قبر پر گنبد بناؤں گا، یا عیدالفطر یا عید الاضحی کے دن روزہ رکھوں گا، طلوع یا غروب شمس کے وقت نماز پڑھوں گا، تو شرعاً اس کا کیا حکم ہے؟

Answer

معصیت اور گناہ دو قسم کے ہیں: (
۱
) معصیت لذاتہ جیسے صورتِ مسئولہ میں ناچ گانا، شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ کے نام پر بکرا ذبح کرنا، قبر پر غلاف، چادریں ڈالنا اور چراغ روشن کرنا، یا گنبد بنانا، یہ تمام چیزیں معصیت لذاتہا ہیں یعنی صرف گناہ ہی گناہ ہیں، ان میں طاعت یا عبادت کا کوئی پہلو نہیں ہے، لہذا نذر منعقد نہیں ہو گی، اور کفارہ بھی لازم نہیں ہوگا، مگر یمین کی نیت کرے یعنی قسم کا پہلو بھی ساتھ شامل ہو تو کفارۂ یمین لازم ہوگا ۔
(
۲
) معصیت لغیرہ: یعنی اصلاً تو مشروع ہو، لیکن خارجی شیٔ ممنوع کی مجاورت کی وجہ سے ممنوع ہو گئی ہو مثلاً صورتِ مسئولہ میں عید الفطر یا عید الاضحی کے دن روزہ رکھنا یا طلوع یا غروب شمس کے وقت نماز پڑھنا، تو روزہ اور نماز اصل کے اعتبار سے عبادت ہیں، لیکن ممنوع اوقات کے ساتھ ملنے کی وجہ سے ممنوع ہو گئے، لہذا نذر منعقد ہو جائے گی، البتہ ان اوقات میں روزہ نماز سے روکا جائے گا، اور ان کا توڑنا واجب ہوگا، اور توڑنے کی بنا پر کفارہ لازم ہوگا، لیکن اگر کسی دوسرے دن روزہ رکھ لیا یا دوسرے اوقات میں نماز پڑھ لی تو کفارہ لازم نہیں ہوگا ۔
ملاحظہ فرمائیں حدیث شریف میں ہے:

عن عائشة زوج النبي ﷺ أن النبي ﷺ قال: من نذر أن يطيع الله فليطعه ومن نذر أن يعصيه فلا يعصه. قال محمد رحمه الله وبهذا نأخذ من نذر نذرا في معصية ولم يسم فليطع الله وليكفر عن يمينه وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.
وبهامش الموطأ: إن ظاهر الحديث أن مراده ﷺ الإطلاق سمي أو لم يسم. (الموطأ للإمام محمد مع الحاشية: ص ۳۲۷، باب من حلف أو نذر في معصية، قديمي).

در مختار میں ہے:

وفي البحر الرائق شرائطه خمس فزاد أن لا يكون معصية لذاته فصح نذر صوم يوم النحر لأنه لغيره، وفي الشامي: قال في الفتح: وأما كون المنذور معصية يمنع انعقاد النذر فيجب أن يكون معناه إذا كان حراماً لعينه أو ليس فيه جهة قربة. فإن المذهب أن نذر صوم يوم العيد ينعقد ويجب الوفاء بصوم يوم غيره ولو صامه خرج عن العهدة ثم قال بعد ذلك قال الطحاوي: إذا أضاف النذر إلى المعاصي كلله على أن أقتل فلاناً كان يميناً ولزمته الكفارة بالحنث. (الدر المختار مع فتاوى الشامي: ۳/۷۳٦، سعيد).

علامہ سرخسی رحمه الله فرماتے ہیں:

ذكر الطحاوي رحمه الله أنه لو أضاف النذر إلى ما هو معصية وعني به اليمين بأن قال لله تعالى على أن أقتل فلاناً كان يميناً ويلزمه الكفارة بالحنث لقوله عليه الصلاة والسلام النذر يمين وكفارته كفارة اليمين. (المبسوط للإمام السرخسي: ۸/۱۳۹).

لیکن امام طحاوی اور امام محمد رحمه الله کی عبارات سے یہ وہم ہوتا ہے کہ معصیت چاہے لعینہٖ ہو یا لغیرہ ہو بہر صورت کفارہ لازم ہوگا ۔
ملاحظہ فرمائیں مؤطا امام محمد میں ہے:

قال محمد: وبقول ابن عباس رضي الله عنه نأخذ وهذا مما وصفت لك أنه من حلف أو نذر نذراً في معصية فلا يعصين، وليكفرن عن يمينه. (الموطأ للإمام محمد مع الحاشية: ص ۳۲۸، باب من حلف أو نذر في معصية، قديمي).

اور امام طحاوی رحمه الله کی عبارت محقق ابن ہمام رحمه الله نے فتح القدیر میں نقل فرمائی ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں:

قال الطحاوي: إذا أضاف النذر إلى سائر المعاصي كلله على أن أقتل فلاناً كان يميناً ولزمته الكفارة بالحنث. (فتح القدير ۵/۹۲، فصل في الكفارة، دار الفكر).

اس کا بہترین جواب حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مد ظلہ نے تکملہ فتح الملہم میں دیا ہے ۔ ملاحظہ فرمائیں:
تفصیلی کلام فرمانے کے بعد بطور خلاصہ تحریر فرماتے ہیں:

فالحاصل: أنه لا كفارة عند الحنفية إذا نذر الرجل فعلاً هو معصية بعينه، وأما إذا كان معصية لغيره، كصوم يوم النحر، فإنه تلزمه الكفارة إذا لم يقض صوماً آخر مكانه، وأما إذا أراد بالنذر يميناً، فيلزمه الحنث والكفارة في الصوم كلها، فاغتنم هذا التحرير، والله الموفق. (تكملة فتح الملهم: ۲/۱٦۵، تحقيق مذهب الحنفية في وجوب الكفارة في النذر بالمعصية. وكذا في الفقه الحنفي وأدلته: ۲/۳۱۸، بيروت).

حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں:
کسی عورت نے یہ منت مانی کہ فلان کام اگر ہو جائے تو مولود پڑھواؤں گی، یا فلانے مزار پر چادر چڑھاؤں گی، یا بڑے پیر کی گیارہویں کروں گی، تو یہ منت صحیح نہیں ہے، اس کے ذمہ کچھ واجب نہیں ہوا ۔ (دین کی باتیں: ص۳۱۷، منت ماننے کا بیان) ۔
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
سوال: ایک شخص نے اس طرح نذر مانی "اے بزرگ میرا فلاں کام ہو جائے گا، تو میں آپ کے نام پر بکرا ذبح کروں گا، کیا اس طرح کی نذر اور منت ماننا مزار پر بکرا ذبح کرنا جائز ہے؟
الجواب: صورتِ مسئولہ میں نذر صحیح نہیں کہ یہ امر معصیت ہے، اور معصیت کی نذر منعقد نہیں ہوئی اس نذر کا پورا کرنا جائز نہیں ہے ۔ در مختار میں ہے: "وأن لا یکون معصیۃ لذاتہ" ۔
حضرت شاہ محمد اسحاق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
نذر کر دن بایں طور کہ اگر حاجتِ من خدا بر آرد بمزارِ فلان ولی ایں قدر از نقد و جنس طعام پختہ برسانم درست نیست زیرا کہ در نذر کردن خدائے تعالیٰ چند شروط است اگر ہمہ متحقق شوند نذر لازم می شود والا لازم نیست إلی قولہ چہارم آنکہ منذور فی نفسہ گناہ نباشد اگر گناہ خواہد شد اصلاً در نذر کردن برو لازم نخواہد شد چنانچہ در فتاوی عالمگیری مرقوم است:
الأصل أن النذر لا يصح إلا بشروط

إلى قوله

والرابع: أن لا يكون المنذور معصية باعتبار نفسه، انتهي. (
فتاوی رحیمیہ: ۹/۲۳، مبوب) ۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
انعقادِ نذر کے لئے منذور بہ کا قربتِ مقصود ہونا ضروری ہے اور مجلس میلاد قربت مقصود نہیں ہے، پس صورتِ مسئولہ میں نذر منعقد نہیں ہوئی، لہذا ایفاء بھی واجب نہیں ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱٤/٦۱، مبوب و مرتب) ۔
خلاصہ یہ ہے کہ معصیت لعینہٖ کی نذر مانی تو اصل مذہب یہ ہے کہ کفارہ واجب نہیں ہے، اس لئے کہ نذر ہی منعقد نہیں ہوئی، لیکن اگر نذر سے یمین مراد لی تو کفارہ یمین واجب ہوگا، اور اگر معصیت لغیرہ کی نذر مانی مثلاً یوم النحر کے دن روزہ رکھنے کی اور کسی دوسرے دن روزہ نہیں رکھا تو کفارہ واجب ہوگا ۔
ایک اشکال اور جواب:
لیکن اور ایک اشکال باقی رہ جاتا ہے وہ یہ ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ایک عورت آئی اور مسئلہ دریافت کرتے ہوے کہا کہ میں نے نذر مانی کہ میں اپنے بیٹے کی قربانی کروں، حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب میں فرمایا بیٹے کی قربانی مت کر، اور قسم کا کفارہ ادا کر دے ۔ ملاحظہ ہو مؤطا امام محمد رحمه الله میں ہے:

أخبرنا مالك، أخبرني يحيي بن سعيد قال: سمعت القاسم بن محمد يقول: أتت امرأة إلى ابن عباس رضي الله عنه فقالت: إني نذرت أن أنحر ابني، فقال: لا تنحري ابنك، وكفري عن يمينك. (الموطأ للإمام محمد: ص ۳۲۷، باب من حلف أو نذر في معصية، قديمي).
وقال العلامة اللكنوي في تعليقه: وفي رواية عن ابن عباس رضي الله عنه: ينحر مائة من الإبل مقدار دية النفس، وروي عنه أيضاً: ينحر كبشاً أخذاً من فداء إسماعيل على نبينا وعليه الصلاة والسلام. (التعليق الممجد على موطأ محمد: ۳/۱۷۲، باب من حلف أو نذر في معصية).

علامہ شامی رحمه الله نے اس کا جواب تحریر فرمایا ہے ۔ ملاحظہ ہو:

ولأبي حنيفة أن وجوب الشاة عليها خلاف القياس عرفناه استدلالاً بقصة الخليل. (فتاوى الشامي: ۳/۷٤۰، سعيد. وكذا في الفقه الحنفي وأدلته: ۲/۳۱۸، باب النذر، دمشق بيروت).

تکملہ فتح الملہم میں ہے:

وأما وجوب الشاة فيما إذا نذر بذبح ولده فإنه خلاف القياس، وإنما صار إليه أبو حنيفة رحمه الله استحساناً لا ثر ابن عباس رضي الله عنه ما، وإلا فالقياس أن لا يجب فيه شيء لأنه معصية لعينه، كما صرح به السرخسي في المبسوط: (۸/۱۳۹)، وراجعه للتفصيل، والله أعلم. (تكملة فتح الملهم: ۲/۱٦٦).

خلاصہ یہ ہے کہ قیاس کے اعتبار سے کوئی چیز لازم نہیں ہونی چاہیے تھی ا س لئے کہ معصیت لعینہا ہے، لیکن خلاف قیاس استحساناً امام ابو حنیفہ رحمه الله نے اس کو ترجیح دی ۔ چونکہ حضرت ابراہیم علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ و السلام نے اپنے لختِ جگر نورِ نظر حضرت سیدنا اسماعیل علیہ السلام کے بدلہ آسمانی مینڈھا ذبح فرمایا تھا جو کہ خلافِ قیاس من جانب اللہ حکم تھا ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.