نذر بالمعصیۃ لعینہٖ پر ایک شبہ کا ازالہ:

2 min readFatwa Vol 4 #261Urdu
Vol. 4كتاب الأيمان والنذورباب (۲): نذر سے متعلق احکام

Question

حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب مد ظلہ نے قاموس الفقہ (۵/۱۸۳) میں تحریر فرمایا ہے کہ معصیت کی نذر میں معصیت کو ترک کرنا واجب ہے اور نذر کا پورا کرنا حرام ہے، البتہ کفارۂ قسم ادا کرنا واجب ہے، جب کہ فقہاء اور اکابر کی مذکورہ بالا تصریحات سے معلوم ہوا کہ کفارہ بھی لازم نہیں ہے اس کا کیا جواب ہے؟

Answer

بظاہر حضرت مولانا کی عبارت محل نظر ہے اور فقہاء کی تصریحات کی روسے صحیح معلوم نہیں ہوتی، غالباً حضرت مولانا کا ذہن نذرِ معصیت کی تقسیم کی طرف نہیں گیا ہوگا ۔
مولانا کی عبارت ملاحظہ ہو قاموس الفقہ میں ہے:
جس چیز کی نذر مانی گئی ہو وہ معصیت ہو، جیسے شراب پینے کی نذر ایسی نذر کو پورا کرنا حرام اور ترک کرنا واجب ہے اور اس پر امت کا اجماع ہے، البتہ جیسا کہ اس سے پہلے مذکور ہوا اس صورت میں کفارہ قسم ادا کرنا واجب ہوتا ہے، آج کل میلاد منعقد کرنے کی نذر مانتے ہیں یہ سب اس حکم میں ہے اور اس کو پورا کرنا جائز نہیں بلکہ کفارہ قسم ادا کر دینا چاہیے اور آئندہ ایسی نذر سے توبہ کرنا چاہیے ۔ (قاموس الفقہ: ۵/۱۸۳) ۔
مذکورہ بالا عبارت میں مولانا نے معصیت لعینہٖ کی مثال پیش کی ہے، و بعد ازاں وجوبِ کفارہ کا حکم تحریر فرمایا ہے، جب کہ فقہاء کی عبارات کے پیش نظر مسئلہ برعکس معلوم ہوتا ہے، لہذا صحیح اور راجح یہی ہے کہ معصیت لعینہٖ کی نذر منعقد ہی نہیں ہوتی اور کفارہ بھی واجب نہیں ہوتا ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.