عالم بیداری کی زیارت پر ایک شبہ کا ازالہ:

5 min readFatwa Vol 1 #13Urdu
Vol. 1كتاب الإيمان والعقائدباب (۲): آنحضرت ﷺ کی سیرت و حالات کا بیان

Question

اگر رسول اللہ ﷺ کی رؤیت حالت یقظہ میں ہو سکتی ہے تو پھر بریلوی لوگ جو آپ ﷺ کے لیے کرسی خالی رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ ﷺ اس پر تشریف لا تے ہیں تو ہمارے اکابر اس کی تردید کیوں کرتے ہیں؟

Answer

وہ لوگ آپ ﷺ کی تشریف آوری کا دعوی بغیر کسی دلیل کے کرتے ہیں ۔ آپ ﷺ کو کوئی نہیں دیکھتا اور وہ خواہ مخواہ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ تشریف لا ر ہے ہیں ۔ ان کا کہنا "
من كذب على متعمدا فليتبوأ مقعده من النار" (رواه البخاري: ۱/۲۱)
میں داخل ہے ۔
اور ہم ان اکابر کی بات کو تسلیم کرتے ہیں جنہوں نے آپ ﷺ کی زیارت کی تھی ۔ یہ زیارت یا روح کے متشکل ہونے کے ساتھ یا روح مبارک جسد مثالی میں آ جاتی ہے ۔ اس قسم کے بہت سارے واقعات کتابوں میں مذکور ہیں ۔ علامہ سعد الدین تفتازانی رحمہ اللہ عالم بیداری میں آنحضرت ﷺ کی زیارت سے مشرف ہوے ۔ ملاحظہ ہو:

قد ذكر ابن العماد في شذرات الذهب (۳۲۱) عند ابتدائه في طلب العلم، فقال: وحكي بعض الأفاضل أن سعد الدين كان في ابتداء طلبه للعلم بعيد الفهم جداً ولم يكن في جماعة العضد أبلد منه ومع ذلك فكان كثير الاجتهاد لكنه لم يؤيسه جمود فهمه من الطلب وكان العضد يضرب به المثل بين جماعته في البلادة، فاتفق أن أتاه في خلوته رجل لا يعرفه فقال له: قم يا سعد الدين لنذهب إلى السير فقال: ما للسير خلقت أنا لا أفهم شيئاً مع المطالعة فكيف إذا ذهبت إلى السير ولم أطالع فذهب وعاد وقال له: قم بنا إلى السير فأجابه بالجواب الأول ولم يذهب معه، فذهب الرجل وعاد وقال له مثل ما قال أولاً فقال: ما رأيت أبلد منك ألم أقل لك ما للسير خلقت، فقال له: رسول الله ﷺ يدعوك فقام منزعجاً ولم ينتعل بل خرج حافياً حتى وصل به إلى مكان خارج البلد به شجيرات فرأي النبي ﷺ في نفر من أصحابه تحت تلك الشجيرات فتبسم له وقال له: نرسل إليك المرة بعد المرة ولم تأت فقال: يا رسول الله ما علمت أنك المرسل وأنت أعلم بما اعتذرت به من سوء فهمي وقلة حفظي وأشكو إليك ذلك، فقال له رسول الله ﷺ: افتح فمك وتفل له فيه ودعا له ثم أمره بالعود إلى منزله وبشره بالفتح فعاد وقد تضلع علماً ونوراً (شذرات الذهب في أخبار من ذهب: ٦/۳۲۰، دار الكتب العلمية).

نیز ہمارے اکابر رحمہ اللہ نے بعض بزرگوں کی زیارت حالت یقظہ میں کی تھی ۔ مثلاً شاہ عبد القادر رائے پوری رحمہ اللہ نے فرمایا: شاہ عبد الرحیم صاحب دہلوی رحمہ اللہ طالبِ علمی کے زمانہ میں اکبر آباد میں میر زاہد رحمہ اللہ سے منطق و فلسفہ اور معقولات وغیرہ پڑھا کرتے تھے ۔ ایک روز سبق پڑھ کر آ رہے تھے اور ایک لمبے کوچے سے گزرتے ہوے شیخ سعدی رحمہ اللہ کے اشعار پڑھتے جا رہے تھے: ؎
جزِ یادِ دوست ہر چہ کنی عمر ضائع است جزِ سرِ عشق ہر چہ بخوانی بطالت است
سعدؔی بشوئی لوحِ دل از نقشِ غیرِ حق علمے کہ رہ بہ حق نہ نماید جہالت است
پہلے تین مصرعے تو پڑھ لیے مگر چو تھا مصرعہ یاد نہیں آ رہا تھا، اچانک ایک بزرگ سفید ریش سامنے آئے اور چو تھا مصرعہ پڑھا: ؎
علمے کہ رہ بہ حق نہ نماید جہالت است ۔
اس سے بہت خوشی ہوئی، ان کا شکریہ ادا کیا اور پان کی ڈبیا پیش کی ۔ انہوں نے کہا یہ اجرت ہے؟ کہا نہیں شکریہ کے طور پر پیش کرتا ہوں، فرمایا ہم نہیں کھاتے ۔ پوچھا کیا ناجائز ہے؟ فرمایا یہ بات تو نہیں ہم ویسے ہی نہیں کھایا کرتے ۔ پھر انہوں نے فرمایا مجھے جلدی جانا ہے اور ایک قدم اٹھایا اور کوچے کے آخری کونے میں رکھا ۔ شاہ صاحب سمجھ گئے کہ کسی بزرگ کی روح ہے، جلدی سے آواز دی کہ حضرت یہ تو بتاتے جائیں کہ آپ کون ہیں؟ فرمایا: سعدی ہ میں فقیر است ۔
فرمایا: یہ روح متجسد اور متمثل ہو گئی جیسا کہ آخرت میں سب اعراض جواہر بن جائیں گے ۔ (نفحاتِ طیبہ تلخیص حیاتِ طیبہ ص ۱٤۸، حالات و ارشادات حضرت مولانا شاہ عبد القادر رائے پوری رحمہ اللہ) ۔
نیز آپ ﷺ نے لیلۃ المعراج میں انبیائے کرام کی امامت فرمائی تھی یا تو ان کی ارواح متشکل ہو گئی تھیں یا ارواح جسد مثالی میں آ گئی تھیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے علاوہ کہ وہ آسمان پر حیات ہیں ۔

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.