شریعت مطہرہ میں تعزیر بالمال کا حکم:

22 min readFatwa Vol 4 #306Urdu
Vol. 4كتاب الحدود والقصاصباب (۲): تعزیرات كا بيان

Question

اکثر و بیشتر حکومتیں مسلمان ہوں یا غیر مسلم قوانین کی خلاف ورزیوں پر مالی جرمانہ لگاتی ہیں ۔ بعض قبائل بھی قوانین کی خلاف ورزی پر یا خلافِ شریعت کام کے ارتکاب پر جرمانہ عائد کرتے ہیں، ہمارے ہاں پاکستان اور افغانستان کے درمیان والے قبائل میں جرگہ سسٹم رائج ہے اور اکثر قانون توڑنے پر مالی سزا دی جاتی ہے اس کی وجہ سے نظام ٹھیک چلتا ہے، مالی سزا کی دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ ان سے مال وصول کیا جائے بعض دفعہ ان کے گھر یا مال کو ضائع کر کے جلاتے ہیں، بعض مرتبہ دیر سے حاضری پر جرمانہ عائد کیا جاتا ہے، ان جرمانوں کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

Answer

مالی جرمانہ عائد کرنے میں فقہاء کا اختلاف ہے، امام ابو حنیفہ رحمه الله اور امام محمد رحمه الله کے نزدیک ناجائز ہے، اور امام ابو یوسف رحمه الله کے نزدیک جائز ہے ۔ علامہ شامی رحمه الله نے عدم جواز کو ترجیح دی ہے، بعض فقہاء نے امام ابو یوسف رحمه الله کے قول کی اس طرح وضاحت فرمائی ہے کہ دراصل یہ جرمانہ وقتی طور پر بطورِ تنبیہ عائد کیا جائے نہ بادشاہ خود لے سکتا ہے اور نہ قاضی، نہ بیت المال میں جمع کیا جا سکتا ہے، بلکہ محفوظ رکھا جائے گا، اور جرم سے باز آنے پر واپس کیا جائے گا ۔
عصر حاضر کے علماء اور مفتیانِ کرام کے درمیان بھی اختلاف پایا جاتا ہے، اکثر حضرات منع کرتے ہیں، لیکن بعض حضرات جواز کے قائل ہیں ۔ لہذا قولِ جواز کو مد نظر رکھتے ہوے صورتِ مسئولہ میں مالی جرمانہ کی گنجائش معلوم ہوتی ہے ۔
تعزیر بالمال کے دلائل ملاحظہ فرمائیں:
احادیث سے تعزیر بالمال کا ثبوت:

(۱) عن سعد رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ قال: "من أخذتموه يقطع من الشجر شيئاً يعني شجر حرم المدينة فلكم سلبه لا يعضد شجرها ولا يقطع". قال: فرأي سعد رضي الله عنه غلماناً يقطعون فأخذ متاعهم فانتهوا إلى مواليهم فأخبروهم أن سعداً رضي الله عنه فعل كذا وكذا فأتوه فقالوا: يا أبا إسحاق أن غلمانك أو مواليك أخذوا متاع غلماننا، قال: بل أنا أخذته، سمعت رسول الله ﷺ، يقول: "من أخذتموه يقطع من شجر الحرم فلكم سلبه" ولكن سلوني من مالي ما شئتم. (رواه البيهقي في سننه الكبرى: ۵/۱۹۹، باب ما ورد في سلب من قطع من شجر حرم المدينة، بيروت).
(۲) عن بهز بن حكيم عن أبيه عن جده أن رسول الله ﷺ قال: في كل سائمة إبل في أربعين بنت لبون لا يفرق إبل عن حسابها من أعطاها موتجراً قال ابن العلاء: موتجراً بها فله أجرها ومن منعها فإنا آخذوها وشطر ماله عزمة من عزمات ربنا عزوجل ليس لا ل محمد منها شيء. (رواه أبو داود: ۱/۲۲۱، باب في زكوة السائمة).
وكذا رواه النسائي في باب عقوبة مانع الزكوة: ۱/۳۳۵
۔
وابن خزيمة في صحيحه: ۱/۱۰۸۵، وقال الأعظمي: اسناده حسن
۔
واخرجه الحاكم في المستدرك في كتاب الزكوة: ۱/۵۲۲/۱٤٤۸، وقال: هذا حديث صحيح الاسناد
۔
ووافقه الذهبي
۔
ووالدارمي في سننه: ۱/٤۸٦، وعلي هامشه: اسناد حسن
۔
واحمد في مسنده، وقال شعيب الارنؤط: اسناده حسن: ۵/۲/۲۰۰۳۰)
۔

(۳) عن يحي بن عبد الرحمن بن حاطب أن غلمة لا بيه عبد الرحمن بن حاطب سرقوا بعيراً فانتحروه، فوجد عندهم جلده ورأسه فرفع أمرهم إلى عمر بن الخطاب رضي الله عنه فأمر بقطعهم فمكثوا ساعة وما نرى إلا أن قد فرغ من قطعهم، ثم قال عمر رضي الله عنه: على بهم ثم قال لعبد الرحمن: والله إني لا راك تستعملهم ثم تجيعهم وتسيء إليهم حتى لو وجدوا ما حرم الله عليهم لحل لهم، ثم قال لصاحب البعير: لم كنت تعطي لبعيرك؟ قال: أربع مائة درهم، قال لعبد الرحمن: قم فأغرم لهم ثمان مائة درهم. (المصنف لعبد الرزاق: ۱۰/۲۳۹/۱۸۹۷۸).
(٤) عن سليمان بن أبي عبد الله قال: رأيت سعد بن أبي وقاص رضي الله عنه أخذ رجلاً يصيد في حرم المدينة الذي حرمه رسول الله ﷺ فسلبه ثيابه فجاءوا مواليه فكلموه فيه فقال: إن رسول الله ﷺ حرم هذا الحرم وقال: من أخذ أحداً يصيد فيه فليسلبه فلا أرد عليكم طعمة أطعمنيها رسول الله ﷺ ولكن إن شئتم دفعت إليكم ثمنه. (السنن الكبرى للبيهقي: ۵/۱۹۹، باب ما ورد في سلب من قطع من شجر حرم المدينة).
وكذا في إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة للعلامة البوصيري: (۴/۱۵۹) باب في أسماء المدينة المشرفة وما جاء في صيدها، مكتبة الرشد، الرياض).
(۵) عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنه عن رسول الله ﷺ أنه سئل عن الثمر المعلق فقال: من أصاب بقية من ذي حاجة غير متخذ خبنة فلا شيء عليه ومن خرج بشيء منه فعليه غرامة مثليه والعقوبة

(رواه أبو داود: ۱/۲۴۰، كتاب اللقطة).
(٦) وعن معمر عن عمرو بن مسلم عن عكرمة أحسبه عن أبي هريرة رضي الله عنه أن النبي ﷺ قال: ضالة الإبل المكتومة غرامتها ومثلها معها. (رواه أبو داود: ۱/۲۴۱، كتاب اللقطة).

فقہی عبارات سے تعزیر بالمال کا ثبوت:
(۱) علامہ علاء الدین طرابلسی رحمه الله (م ۸۴۴) معین الحکام میں فرماتے ہیں:

يجوز التعزير بأخذ المال وهو مذهب أبي يوسف رحمه الله وبه قال مالك رحمه الله، ومن قال: إن العقوبة المالية منسوخة فقد غلط على مذهب الأئمة نقلاً واستدلالاً وليس بسهل دعوي نسخها، فعل الخلفاء الراشدين وأكابر الصحابة لها بعد موته ﷺ مبطل لدعوي نسخها، والمدعون للنسخ ليس معهم سنة ولا إجماع يصحح دعواهم

(معين الحكام فيما يتردد بين الخصمين من الأحكام: ۱۹۵، فصل في التعزير، دار الفكر).

(۲) علامہ ابن نجیم مصری رحمه الله البحر الرائق میں فرماتے ہیں:

وفي الخلاصة سمعت من ثقة أن التعزير بأخذ المال إن رأي القاضي ذلك أو الولي جاز ومن جملة ذلك رجل لا يحضر الجماعة يجوز تعزيره بأخذ المال له. (البحر الرائق: ٤/۴۱، فصل في التعزير، كوئته).

(۳) فتاوی بزازیہ میں ہے:

والتعزير بأخذ المال أن المصلحة فيه جائز ة

قالوا: ومن جملته من لا يحضر الجماعة يجوز تعزيره بأخذ المال. (الفتاوى البزازية على هامش الفتاوى الهندية: ٦/۴۲۷، كتاب الحدود).

(٤) فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:

ولم يذكر محمد رحمه الله في شيء من الكتب التعزير بأخذ المال، وقيل: روي عن أبي يوسف رحمه الله أن التعزير والزجر من السلطان بأخذ المال جائز

وفي الفتاوى الخلاصة: التعزير بأخذ المال إن رأي القاضي أو الولي جاز، ومن جملة ذلك الرجل لا يحضر الجماعة يجوز تعزيره بأخذ المال. (الفتاوى التاتارخانية: ۵/۱۴۰، كتاب الحدود، التعزير، إدارة القرآن).

(۵) خلاصۃ الفتاوی میں ہے:

الجنس السادس في السعاية: ــ وفي نسخة القاضي الإمام أبي اليسر رحمه الله من المبسوط في كتاب اللقيط: "من سعي رجلاً إلى السلطان حتى غرمه لا يخلو من وجوه ثلاثة:

الثالث: ــ إذا وقع في قلبه أن فلاناً يجيء إلى امرأته أو جاريته، فرفع إلى السلطان، فغرمه السلطان، ثم ظهر كذبه، عندهما لا يضمن الساعي، وعند محمد رحمه الله يضمن قال: والفتوي على قول محمد رحمه الله لغلبة السعاية في زماننا. (خلاصة الفتاوى: ٤/۲۶۰).

عبارتِ بالا کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر کسی شخص نے یہ سوچ کر کہ فلان آدمی میری بیوی یا باندی سے ناجائز تعلقات رکھتا ہے حاکم سے اس کی شکایت کر دی، چنانچہ بادشاہ نے فلان پر تاوان عائد کر دیا، پھر معلوم ہوا کہ جھوٹی شکایت تھی، تو امام محمد رحمه الله کے قول کے مطابق شکایت کرنے والے پر تاوان آئے گا، اور یہ ہی مفتی بہ قول ہے ۔
خلاصہ کی عبارت سے معلوم ہوا کہ مالی جرمانہ عائد کرنے کی گنجائش ہے ۔
(٦) حضرت مولانا شمس الحق افغانی رحمه الله سابق مدرس دار العلوم دیوبند، سابق شیخ الحدیث جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین ڈابھیل، ہندو وزیر معارف ولایتِ متحدہ بلوچستان نے بھی معین القضاۃ والمفتین میں معین الحکام کے حوالہ سے تعزیر بالمال کا جواز نقل فرمایا ہے اور منسوخ ہونے کی بات سے اتفاق نہیں فرمایا ۔ (
معين القضاة والمفتين: ص ۷۰).

(۷) حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمه الله نے فرمایا کہ اگر کافر حکومت کافر کے مال پر استیلاء قبضہ کر کے قانوناً مسلمان وارث کو مال دے دے تو مسلمان اس مال کا مالک بن جائے گا، کیوں کہ استیلاءِ کافر ہمارے نزدیک سببِ ملک ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ حکومت تعزیراً کسی کے مال پر قبضہ کر لے تو وارث اس مال کولے سکتا ہے، اگر تعزیر بالمال ناجائز ہوتا تو وارث کا مال لینا کہاں صحیح ہوتا؟
ملاحظہ ہو امداد الاحکام میں ہے:

يجوز للمسلم أن يرث من الكافر بسبب استيلاء الحكومة الكافرة على مال الكافر أولاً ثم دفعها إلى المسلم بقانونها واستيلاء الكافر سبب للملك عندنا والله أعلم. (إمداد الأحكام: ٤/۶۲۸، الفرائض).

(۸) مفتی تقی عثمانی صاحب مد ظلہ تقریر ترمذی میں فرماتے ہیں:
اکثر فقہاء کا کہنا ہے کہ تعزیر بالمال جائز نہیں ہے، صرف جسمانی سزا کے ذریعہ تعزیر کرنا جائز ہے، البتہ امام احمد بن حنبل رحمه الله نے تعزیر بالمال کو جائز قرار دیا ہے، حنفیہ میں امام ابو یوسف رحمه الله کی ایک روایت ہے کہ تعزیر بالمال جائز ہے لیکن تعزیر بالمال کے عدم جواز پر کوئی صریح دلیل مجھے نہیں ملی چنانچہ بعض متأخرین حنفیہ نے امام ابو یوسف رحمه الله کے قول کو راجح قرار دیتے ہوے فرمایا کہ تعزیر بالمال جائز ہے ۔ (تقریر ترمذی: ۲/۱۱۸) ۔
(۹) مولانا مجیب اللہ ندوی صاحب "اسلامی فقہ" میں فرماتے ہیں:
امام ابو حنیفہ رحمه الله اور امام محمد رحمه الله اسے ناجائز کہتے ہیں، طرفین کے برخلاف امام ابو یوسف رحمه الله کہتے ہیں کہ مصلحت متقاضی ہو تو جائز ہے، راقم الحروف کے خیال میں امام ابو یوسف رحمه الله اور جو فقہاء مالی جرمانہ یا اتلاف کے ذریعہ تعزیر کے قائل ہیں ان کی رائے قابل ترجیح ہے، جیسا کہ حدیث و آثار میں ان کی متعدد مثالیں موجود ہیں ۔ (اسلامی فقہ: ۳/۲۸۰، تعزیراتی جرائم) ۔
(۱۰) مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب "قاموس الفقہ میں فرماتے ہیں:
اس وقت اسلام کے قانون حدود و تعزیرات کے فقدان کی وجہ سے مسائل جو سماجی طور پر حل کیے جاتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی وحدتیں بعض منکرات کا مقابلہ کر رہی ہیں، ان کے لیے اس کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں کہ مالی جرمانوں کے ذریعہ وہ ان جرائم کی روک تھام کی سعی کریں، یوں بھی عملاً اس زمانہ میں مالی تعزیر کی بڑی کثرت ہو گئی ہے، اور ریلوے، بس، ٹریفک وغیرہ میں کثرت سے اس کا تعامل ہے، راقم الحروف کا رجحان ہے کہ اس کی اجازت دی جانی چاہیے ۔ (قاموس الفقہ: جلد دوم، ص ۴۷۹) ۔
مولانا خالد سیف اللہ صاحب نے جدید فقہی مسائل میں چند نظائر بھی پیش کیے ہیں، ملاحظہ فرمائیں:
(۱) حقوق اللہ میں تعدی اور زیادتی پر مالی تعزیر کی نظیر "کفارات" ہیں جو قصداً روزہ توڑنے، قسم کھا کر پوری نہ کرنے اور قتل خطا کی صورت میں واجب ہوتے ہیں اور جن میں ایک غلام آزاد کرنا یا مسکین کی ایک خاص تعداد کو کھانا کھلانا "مالی سزا" شمار کی جا سکتی ہے ۔
(۲) کسی انسان کی ایسی تعدی پر جس کا تعلق جسم سے ہو، تعزیر مالی کی نظیر دیت ہے، جو ایسی تمام صورتوں میں واجب ہوتی ہے جب فریقین باہمی رضامندی سے اس پر آمادہ ہو جائیں یا جب قصاص کا اجراء ممکن نہ ہو ۔
(۳) غیر مادی حقوق میں تعدی پر "مالی تعزیر" کی نظیر کفارۂ ظہار ہے کہ جس میں غلام کو آزاد کرنا یا مسکینوں کو کھانا کھلانا بھی شامل ہے ۔
(٤) مالی حقوق میں تعدی کی بنا پر مالی سرزنش کی نظیر یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کا سامان چرا لے اور وہ اس کے پاس محفوظ بھی نہ رہ سکے، تو فقہاء کا اتفاق ہے کہ اصل سزا تو یہ ہے کہ ہاتھ کاٹے جائیں، لیکن اگر کسی وجہ سے ایسا نہ ہو سکے تو اس سے سرقہ شدہ سامان کا تاوان وصول کیا جائے گا،
"والغرم إذا لم يجب القطع"
۔
(۵) آبرو ریزی اور ہتک حرمت پر تاوان مالی کی نظیر یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی عورت سے جبراً زنا کر لے تو اس سے عورت کو مہر کی رقم دلائی جائے گی ۔ (ملخص از جدید فقہی مسائل: ۳/۲۴۶) ۔
حافظ ابن قیم حنبلی رحمه الله نے بھی مالی جرمانہ کو جائز قرار دیا ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں "اعلام الموقعین" میں فرماتے ہیں:

وأما تغريم المال وهو العقوبة المالية فشرعها في مواضع منها: ــ تحريق متاع الغال من الغنيمة، ومنها: ــ حرمان سهمه، ومنها: ــ إضعاف الغرم على سارق الثمار المعلقة، ومنها: ــ إضعافه على كاتم الضالة الملتقطة، ومنها: أخذ شطر مال مانع الزكاة، ومنها: ــ عزمه ﷺ على تحريق دورمن لا يصلي في الجماعة لو لا ما منعه من إنفاذه ما عزم عليه من كون الذرية والنساء فيها فتتعدي العقوبة إلى غير الجاني وذلك لا يجوز كما لا يجوز عقوبة الحامل، ومنها: ــ عقوبة من أساء على الأمير في الغزو بحرمان سلب القتيل لمن قتله حيث شفع فيه هذا المسيء وأمر الأمير بإعطائه فحرم المشفوع له عقوبة للشافع الآمر، التغريم نوعان: مقدر وغير مقدر،

وأما النوع الثاني غير المقدر فهذا الذي يدخله اجتهاد الأئمة بحسب المصالح ولذلك لم تأت فيه الشريعة بأمر عام وقدر لا يزاد فيه ولا ينقص كالحدود ولهذا اختلف الفقهاء فيه هل حكمه منسوخ أو ثابت والصواب أنه يختلف باختلاف المصالح ويرجع فيه إلى اجتهاد الأئمة في كل زمان ومكان بحسب المصلحة إذ لا دليل على النسخ وقد فعله الخلفاء الراشدون ومن بعدهم من الأئمة

وأما التعزير ففي كل معصية لا حدَّ فيها ولا كفارة. (اعلام الموقعين: ۲/۱۱۷، فصل في تغريم المال، بيروت).

عدم جواز والوں کے دلائل پر ایک نظر:
تعزیر بالمال کو ناجائز کہنے والے حضرات عام طور پر تین دلائل سے استدلال کرتے ہیں:
(۱) مالی جرمانہ ابتدائے اسلام میں جائز تھا بعد میں منسوخ ہو گیا ۔
(۲) حدیث شریف میں ہے: "
لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيب نفسه". (رواه مسلم).
مالی جرمانہ اس حدیث کے بالکل خلاف ہے، لہذا جائز نہیں ہے ۔
(۳) مالی جرمانہ کو جائز رکھنے میں ظالموں کے لیے ظلماً مال لینے کا دروازہ کھل جائے گا، لہذا خلاف شریعت ہونا ظاہر ہے ۔
دلائل کے جوابات:
پہلی دلیل کا جواب: (۱) علامہ علاء الدین طرابلسی حنفی رحمه الله (م ۸۴۴) نے معین الحکام میں دعوائے نسخ کو غلط قرار دیا ہے، ملاحظہ فرمائیں:
ومن قال: إن العقوبة المالية منسوخة فقد غلط على مذهب الأئمة نقلاً واستدلالاً وليس بسهل دعوي نسخها، فعل الخلفاء الراشدين وأكابر الصحابة لها بعد موته ﷺ مبطل لدعوي نسخها، والمدعون للنسخ ليس معهم سنة ولا إجماع يصحح دعواهم

(معين الحكام فيما يتردد بين الخصمين من الأحكام: ۱۹۵، فصل في التعزير، دار الفكر).

نیز حافظ ابن تیمیہ اور ان کے شاگردِ رشید حافظ ابن القیم اور دکتور وہبہ زحیلی نے فرمایا کہ دعوائے نسخ بلا دلیل ہے جب کہ آپ علیہ السلام کے بعد خلفاء راشدین اور ائمہ نے اس پر عمل فرمایا، لہذا نسخ کا دعوی صحیح نہیں ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں حافظ ابن تیمیہ حنبلی رحمه الله فرماتے ہیں:

ومن قال: إن العقوبات المالية منسوخة وأطلق عن أصحاب مالك رحمه الله وأحمد رحمه الله فقد غلط على مذهبهما، ومن قاله مطلقاً من أي مذهب كان: فقد قال قولاً بلا دليل، ولم يجيء عن النبي ﷺ شيء قط يقتضي أنه حرم جميع العقوبات المالية، بل أخذ الخلفاء الراشدين وأكابر أصحابه بذلك بعد موته دليل على أن ذلك محكم غير منسوخ. (مجموع فتاوى شيخ الإسلام ابن تيمية: ۲۸/۱۱۱، فصل في التعزير بالعقوبات المالية).

دکتور وہبہ زحیلی شافعی "الفقہ الاسلامی و ادلتہ" میں رقم طراز ہیں:

وقد اختلف الفقهاء فيه هل حكمه منسوخ أو ثابت والصواب أنه يختلف باختلاف المصالح ويرجع فيه إلى اجتهاد الأئمة في كل زمان ومكان بحسب المصلحة إذ لا دليل على النسخ وقد فعله الخلفاء الراشدون ومن بعدهم من الأئمة. (الفقه الإسلامي وأدلته: ٦/۲۰۵، التعزير بالمال، دار الفكر).

دوسری دلیل کا جواب: (۲) حضرت مفتی محمد تقی صاحب مد ظلہ حدیث شریف کا جواب دیتے ہوے فرماتے ہیں: کہ اس میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيب نفس منه"
یعنی کسی مسلمان کا مال اس کی طیب نفس کے بغیر حلال نہیں، اس حدیث میں اس مسلمان کا ذکر ہے جو کسی گناہ اور جرم کا مرتکب نہ ہو، لیکن اگر کوئی مسلمان کسی جرم کا مرتکب ہوا ہے، تو اس پر جس طرح جسمانی سزا عائد کی جا سکتی ہے اسی طرح مالی سزا بھی عائد کی جا سکتی ہے، اس لیے کہ مسلمان کا مال تو طیب نفس سے حلال ہو جاتا ہے، لیکن جان تو طیب نفس سے بھی حلال نہیں ہوتی، لہذا جب کسی مسلمان نے کوئی جرم کیا ہے پھر سزا کے طور پر اس کی جان کو کوئی نقصان پہنچایا جا رہا ہے تو یہ سب کے نزدیک جائز ہے، تو پھر مال جو طیب نفس سے حلال ہو جاتا ہے، وہ جرم کے ارتکاب کی صورت میں بطریق اولیٰ حلال ہونا چاہیے ہونا چاہیے؟ (تقریر ترمذی: ۲/۱۱۸، ۱۱۹) ۔
نیز اگر جان پر کوئی مصیبت آ جائے تو مال کے ذریعہ اس کا دفاع کرنے کا حکم دیا گیا نہ کہ مال بچانے کے لیے جان کھپا دے ۔
ملاحظہ ہو روایتِ موقوفہ میں ہے:

فإن عرض بلاء فقدم مالك دون نفسك فإن تجاوز البلاء فقدم مالك ونفسك دون دينك

، هذا إسناد رواته ثقات وهو موقوف. (إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة للعلامة البوصيري: ۸/۲۳۹/۷۹۷۳، باب فضل القرآن، مكتبة الرشد، الرياض).

اس روایت سے معلوم ہوا کہ جسم و قالب کی حرمت مال کی حرمت سے بڑھ کر ہے، جب جسم پر تعزیر باتفاقِ فقہاء جائز ہے تو تعزیر بالمال کیوں ناجائز ہے؟
تیسری دلیل کا جواب: (۳) جن فقہاء نے اس کو ناجائز کہا ہے اور اس کی علت حکام کے ظلم کو قرار دیا ہے تو یہ رائے انہوں نے مصلحت کی بنیاد پر قائم کی ہے لہذا اگر ظلم کا پہلو نہ ہو بلکہ کسی مصلحت کی وجہ سے یا کسی جرم میں مال پر قبضہ کر لیا جائے تو ان کے نزدیک بھی جائز ہوگا، جیسا کہ مولانا مجیب اللہ ندوی صاحب نے اسلامی فقہ میں تحریر فرمایا ہے ۔
ملاحظہ ہو اسلامی فقہ میں ہے:
جن فقہاء نے اس کو ناجائز کہا ہے اس کی وجہ انہوں نے حکام کے ظلم کو قرار دیا ہے انہوں نے یہ رائے مصلحت کی بنیاد پر دی ہے اگر ظلم کا پہلو نہ ہو تو ان کی رائے بھی یہی ہو گی ۔ (اسلامی فقہ: ۳/۲۸۱) ۔
نیز تعزیر بالمال کا حکم خلافِ شریعت نہیں ہے بلکہ سیاسۃً مصلحت و فائدہ کی وجہ سے قائم کیا گیا ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں علامہ علاء الدین طرابلسی حنفی رحمه الله فرماتے ہیں:

قال القرافي: واعلم أن التوسعة على الحكام في الأحكام السياسية ليس مخالفاً للشرع، بل تشهد له الأدلة المتقدمة. (معين الحكام فيما يتردد بين الخصمين من الأحكام: ۱۷٦، دار الفكر).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.