نا سمجھ بچوں کو مسجد میں لانے کا حکم:
Question
بعض لوگ کہتے ہیں کہ نا سمجھ بچوں کو مسجد میں لانا درست ہے اس لیے کہ حضراتِ حسنین مسجد میں آتے تھے اور اچھی طرح چل بھی نہیں سکتے تھے؟
Answer
بچوں کے شور و غل اور پیشاب پا خانہ کا اندیشہ نہ ہو تو ان کو مسجد میں لانے کی اجازت ہے، ورنہ اجتناب کرنا چاہیے ۔
حدیث شریف میں ہے:
عن واثلة بن الأسقع أن النبي ﷺ قال: جنبوا مساجدكم صبيانكم ومجانينكم وشراء كم وبيعكم وخصوماتكم ورفع أصواتكم وإقامة حدودكم وسل سيوفكم واتخذوا على أبوابها المطاهر وجمروها في الجمع. (رواه ابن ماجة: ۵٤).
مذکورہ بالا چیزوں کا اندیشہ نہ ہو تو نفس جواز میں کلام نہیں ہے، حدیث شریف میں ہے:
أن النبي ﷺ قال: إني لا قوم في الصلاة أريد أن أطول فيها فأسمع بكاء الصبي فأتجوز في صلا تي كراهية أن أشق على أمه. (صحيح البخاري: ۱/۹۸).
در مختار میں ہے:
ويحرم إدخال صبيان ومجانين حيث غلب تنجيسهم وإلا فيكره. وفي الشامية: والمراد بالحرمة كراهة التحريم لظنية الدليل
وإلا فيكره أي تنزيهاً. (الدر المختار مع فتاوى الشامي: ۱/٦۵٦، مطلب في أحكام المسجد، سعيد).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.