ایک مسجد کے امام کا مسئلہ:
Question
ایک صاحب ایک مسجد میں امامت کراتے تھے، اس واقعہ کو کافی مدت گزر چکی ہے، ایک دو مرتبہ ایسا ہوا کہ نماز کے درمیان پیشاب کا قطرہ گرنے کا احتمال ہوا، یا غالب گمان ہوا، ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ رمضان کی پہلی رات چاند کا اعلان اب تک نہیں ہوا تھا اور امام نے اپنی وتر پڑھ لی پھر چاند کے اعلان کے بعد اس نے تراویح کے بعد دوبارہ لوگوں کو وتر پڑھا دی، جب کہ تراویح کسی اور صاحب نے پڑھائی تھی، اس وقت پیشاب کے قطرہ کی وجہ سے جو مشکوک یا مظنون تھا، امام نے نماز کے اعادہ کا اعلان نہیں کیا، اب اس مقام کے ساتھ امام کا کوئی رابطہ نہیں ہے، اور اس وقت کے اکثر مصلی یا وفات پا چکے ہوں گے یا کسی اور جگہ منتقل ہو چکے ہیں، یہ واقعہ
۳۰
سال پہلے کا ہے، اب اطلاع کا کوئی فائدہ بھی نہیں ہے، اب امام کی گلو خلاصی کی کیا صورت ہو سکتی ہے؟
Answer
بصورتِ مسئولہ جب امام کے وضو کا ٹوٹنا قطرہ کی وجہ سے مشکوک یا مظنون تھا، تو امام کو اس وقت اعلان کرنا چاہیے تھا، تاکہ نماز کا اعادہ ہو جاتا، احناف کا اصل مذہب تو یہ ہے کہ امام کی نماز مقتدی کی نماز کو متضمن ہے، اس کی تشریح دوسری جلد ص
۲۳٤
، پر گزر چکی ہے، لیکن مذکورہ صورت حال میں مشکلات کے پیش نظر فقہاء کے ہاں ایک جزئیہ ملتا ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ اعلان ضروری نہیں ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں تحفۃ الملوک میں ہے:
ولو ظهر حدث الإمام أعاد المأموم لقوله ﷺ: أيما رجل صلي بقوم ثم تذكر جنابة أعاد، وأعادوا. (فصل في الجماعة: ۱/۸٤٦)
اس کی شرح میں محمد بن عبد اللطیف بن عبد العزیز بن ملک لکھتے ہیں:
هذا إذا علم المأموم حدث إمامه وإن لم يعلموا لا يجب عليهم الإعادة ولا على الإمام الإعلام بأنه صلي على غير طهارة ولا يأثم بتركه الإعلام. (شرح تحفة الملوك: ۱/۸٤۷. بتعليق عبد المجيد الدرويش).
در مختار اور شامی نے بھی عدم اخبار کا قول بعض فقہاء سے نقل کیا ہے ۔
وصحح في مجمع الفتاوى عدمه أي الإخبار مطلقاً لكونه عن خطأ معفو عنه لأنه لم يتعمد ذلك. (ص: ۵۹۱/۱).
متن میں جس حدیث کا حوالہ دیا گیا "
أيما رجل صلي بقوم ثم تذكر جنابة أعاد، وأعادوا"
۔ اس کے متعلق صاحب تعلیق الدکتور عبد المجید الدرویش نے نصب الرایہ سے نقل کیا کہ یہ روایت غریب ہے اور ابن حجر نے لم اجدہ مرفوعاً فرمایا ۔
ہاں سعید بن مسیب سے مرسلاً مروی ہے:
"أن رسول الله ﷺ صلي بالناس وهو جنب وأعاد وأعادوا"
یہ روایت مرسل ہے اور اس کی سند میں ابو جابر البیاض متروک ہے، یحیی بن معین نے ان کو کذاب کہا، اس کے بالمقابل دار قطنی میں براء بن عازب رضي الله عنه سے مروی ہے:
قال رسول الله ﷺ: أيما إمام سها فصلى بالقوم وهو جنب فقد مضت صلاتهم ثم ليغتسل هو ثم ليعد صلاته الخ
۔
مگر یہ روایت بھی ضعیف ہے اس میں جویبر متروک ہے ۔ (
تعليق عبد المجيد الدرويش على شرح تحفة الملوك: ۱/۸٤٦).
شرح تحفۃ الملوک کے مصنف محمد بن عبد اللطیف المتوفی
۸۵٤
، جو ابن ملک کے نام سے معروف ہیں، سائد بکداش مد ظلہ العالی منیۃ الصیادین کے مقدمہ میں ان کے حالات لکھتے ہوے فرماتے ہیں:
"هو الإمام المحدث الفقيه الحنفي المعتبر محمد بن عز الدين عبد اللطيف بن عبد العزيز بن أمين الدين بن فرشته الرومي".
جو صاحبِ تصانیف عالم تھے، جن کی چند تصانیف یہ ہیں: (
۱) شرح مصابيح السنة للبغوي، (۲) شرح الوقاية، (۳) شرح تحفة الملوك للرازي، (٤) منية الصيادين في تعلم الاصطياد وأحكامه، (۵) روضة المتقين في مصنوعات رب العلمين في المواعظ والعبادات.
ان کے حالات کا حوالہ منیۃ الصیادین کی تعلیقات میں درج ذیل کتابوں سے دیا ہے ۔ (
۱) كتائب اعلام الأخيار من فقهاء مذهب النعمان المختار للكفوي رحمه الله، (۲) الشقائق النعمانية في علماء الدولة العثمانية، (۳) كشف الظنون لحاجي خليفة، (٤) الفوائد البهية في تراجم الحنفية لعبد الحي اللكنوي رحمه الله، السعاية، وعمدة الرعاية، (۵) هدية العارفين لا سماعيل باشا البغدادي، (٦) الأعلام للزركلي، (۷) معجم المؤلفين لعمر رضا كحالة وغيره. (مقدمة منية الصيادين لسائد بكداش، ص ۱۱).
ان کے والد عز الدین عبد اللطیف بھی صاحب تصانیف محقق عالم گزرے ہیں شرح تحفۃ الملوک کے مقدمہ میں بھی محقق نے ان کے حالات قلم بند کیے ہیں ۔
یہ تعارف اس لیے لکھا گیا کہ ایک دفعہ ایک فتویٰ میں بندہ نے شرح تحفۃ الملوک کا حوالہ دیا تو بعض مفتیوں نے اشکال کیا کہ یہ غیر معروف کتاب حوالہ کے لیے کہاں سے آ گئی، مصنف رحمه الله کی بعض تصانیف جیسے منیۃ الصیادین تو شاہ کار تصنیف سمجھی جاتی ہے، یاد رہے کہ متن تحفۃ الملوک محمد بن ابی بکر الرازی المتوفی
٦٦٦
، کی کتاب ہے ۔
حاصل یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو مصلیوں کو خبر دے دے اگر بالکل مشکل ہو تو اس قول پر عمل ہو سکتا ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.