غرر اور مبیع کی جہالت کے مابین فرق:
Question
فقہاء نے بعض بیوع اور معاملات کو غرر کی وجہ سے ناجائز فرمایا ہے، آپ بتلا دیں کہ غرر اور مبیع کی جہالت میں کیا فرق ہے؟
Answer
بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ غرر میں مبیع کا وجود ہی مشکوک ہوتا ہے کہ مبیع موجود ہے یا نہیں، ہاتھ میں آئے گی یا نہیں، اور جہالت میں مبیع تو موجود ہے لیکن اس کی کسی صفت میں جہالت ہے یا تعیین میں جہالت ہے، مثلاً بیع السمک فی الماء میں غرر ہے کہ معلوم نہیں سمک پر دسترس حاصل ہو گی یا نہیں اور بیع واحد من عبدین میں جہالت ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں در مختار مع فتاوی شامی میں ہے:
وبيع الحمل أي الجنين
لنهيه ﷺ عن المضامين والملاقيح وحبل الحبلة ولما فيه من الغرر
وهو الشك في وجوده
ولؤلؤ في صدف للغرر لأنه لا يعلم وجوده. (الدر المختار مع فتاوى الشامي: ۵/٦۲، باب البيع الفاسد، سعيد).
وفي الدر المختار: وبيع ثوب من ثوبين أو عبد من عبدين لجهالة المبيع. (الدر المختار: ۵/٦٦، سعيد).
شرح العنایہ میں ہے:
ولا يجوز بيع الحبل
لأن فيه غرراً وهو ما طوي عنك علمه، قال المغرب: في الحديث: "نهى النبي ﷺ عن بيع الغرر" وهو الخطر الذي لا يدري أيكون أم لا كبيع السمك في الماء والطير في الهواء. (شرح العناية: ٦/٤۱۱، دار الفكر).
بدائع الصنائع میں ہے:
الغرر هو الخطر الذي استوى فيه طرف الوجود والعدم بمنزلة الشك. (بدائع الصنائع: ۵/۱٦۳، سعيد).
جمہرۃ القواعد الفقیہ میں ہے:
كل بيع كان المقصود منه مجهولاً غير معلوم، ومعجوزاً عنه غير مقدور عليه فهو غرر، وذلك مثل أن يبيعه سمكاً في الماء، أو طيراً في الهواء، أو لؤلؤاً في البحر، أو عبداً آبقاً، أو جملاً شارداً، أو ثوباً في جراب لم يره ولم ينشره، أو طعاماً في بيت لم يفتحه، أو ولد بهيمة لم يولد، أو ثمر شجرة لم تثمر في نحوها من الأمور التي لا تعلم، ولا يدري هل تكون أم لا، فإن البيع مفسوخ فيها. (جمهرة القواعد الفقهية: ۱/۳۰۹).
مفتی ولی حسن صاحب رحمه الله فرماتے ہیں:
جانور کے تھنوں میں جو دودھ ہے اسے نکالنے سے پہلے نہیں بیچ سکتا، اس میں غرر ہے کیوں کہ بعض دفعہ ہوا بھری ہوتی ہے اور دودھ نکالنے پر بائع اور مشتری کا نزاع ہو سکتا ہے، جوئے کی وجہ حرمت بھی یہی ہے کہ اس میں غرر ہوتا ہے جس کو خطر کہتے ہیں کہ جس کے وجود یا عدم کا تعین نہ ہو ۔
(درس الهداية: ۱٦۹، باب البيع الفاسد).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.