دار الاسلام و دار الحرب و دار الامن کے مابین فرق:

2 min readFatwa Vol 5 #154Urdu
Vol. 5كتاب البيوعباب: سود کے احکام کا بیان

Question

دار الاسلام، دار الحرب اور دار الامن میں کیا فرق ہے؟ اور کیا آج کل دار الحرب پایا جاتا ہے یا نہیں؟ کیا امریکہ اور یورپ کے ممالک کو دار الحرب کہہ سکتے ہیں یا نہیں؟

Answer

دار الاسلام: وہ مملکت ہے جہاں مسلمانوں کو ایسی سیاسی فوقیت حاصل ہو کہ وہ تمام احکامِ اسلامی کے نفاذ پر قادر ہوں ۔
دار الحرب: وہ مملکتِ کافرہ ہے جہاں کافروں کو امن حاصل ہو اور مسلمان شہری امن سے محروم ہوں، نیز وہاں مسلمان مذہبی حقوق و عبادات اور جمعہ و عیدین وغیرہ کی علانیہ انجام دہی سے قاصر ہوں ۔
دار الامن: وہ ملک ہے جہاں کلیدِ اقتدار غیر مسلموں کے ہاتھ میں لیکن مسلمان مامون ہوں، مسلمان دعوتِ دین کا فریضہ انجام دے سکتے ہوں، اور ان اسلامی احکام پر، جن کے نفاذ کے لیے اقتدار ضروری نہ ہو، عمل کر سکتے ہوں ۔
مذکورہ بالا تعریفات پر مدِ نظر رکھتے ہوئے آج کل کے غیر مسلم ممالک کو دار الحرب کہنا مشکل معلوم ہوتا ہے، بنا بریں اکثر غیر مسلم ممالک دار الامن کے زمرہ میں شامل ہوں گے ۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (
قاموس الفقه: ۳/۳۹۵. ۳۹۹. جديد فقهي مسائل: ٤/٦۲. ۸۲. والجهاد في الإسلام للدكتور محمد سعيد رمضان البوطي، ۸۰. وأحسن الفتاوى: ۳/۲۱. بدائع الصنائع: ۷/۱۳۰، سعيد. والفتاوى الهندية: ۲/۲۳۲. ورد المحتار: ٤/۱۷۵، سعيد).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.