دار الحرب میں سود کے بارے میں قولِ راجح:

15 min readFatwa Vol 5 #153Urdu
Vol. 5كتاب البيوعباب: سود کے احکام کا بیان

Question

دار الحرب میں سود لینے کے بارے میں احناف کے نزدیک قولِ راجح کیا ہے؟ اور طرفین رحمه الله ایک حدیث
"لا ربا بين المسلم والحربي في دار الحرب"
سے استدلال فرماتے ہیں، کیا یہ حدیث صحیح ہے، اور اس کا کیا جواب ہے؟

Answer

امام ابو یوسف رحمه الله اور جمہور فقہاء کا قول دلائل کے اعتبار سے زیادہ قوی ہے اور اوفق بالزمان بھی ہے، پھر چونکہ اس زمانے میں اکثر ممالک میں مسلمان آرام سے رہتے ہیں اور اپنی عبادات وغیرہ بسہولت ادا کرتے ہیں ان کو سود لینے کی اجازت نہیں، پھر ائمہ ثلاثہ کے نزدیک سود کی اجازت دار الحرب میں بھی نہیں ان کے مذہب کی رعایت اور دلائل کو دیکھتے ہوئے سود لینے کی اجازت بالکل نہیں دی جائے گی۔ لہذا مذہبِ احناف میں اسی قول کو فتوی کے لیے راجح قرار دیا جاتا ہے۔
ملاحظہ فرمائیں ابن قدامہ فرماتے ہیں:

ويحرم الربا في دار الحرب كتحريمه في دار الإسلام وبه قال مالك رحمه الله والأوزاعي وأبو يوسف رحمه الله والشافعي رحمه الله وإسحاق، وقال أبو حنيفة: لا يجري الربا بين مسلم وحربي في دار الحرب. (المغني: ٤/۱٦۲، فصل حرمة الربا في دار الحرب).

عدم جواز والوں کے دلائل ملاحظہ فرمائیں:
(۱) قرآن اور احادیث میں مطلقاً سود کی حرمت وارد ہوئی ہے، اور سخت و عیدین بھی موجود ہیں:۔

(
۱
) قال الله تعالى: ﴿أحل الله البيع وحرم الربا﴾. (سورة البقرة، الآية: ۲۷۵).
(
۲
) قال الله تعالى: ﴿الذين يأكلون الربا لا يقومون إلا كما يقوم الذي يتخبطه الشيطان من المس﴾. (سورة البقرة، الآية: ۲۷۵).
(
۳
) وقال تعالى: ﴿يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله وذروا ما بقي من الربا إن كنتم مؤمنين، فإن لم تفعلوا فأذنوا بحرب من الله ورسوله﴾. (سورة البقرة: ۲۷۸، ۲۷۹).

صحیح مسلم شریف میں روایت ہے:

عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله ﷺ: آكل الربا وموكله، الخ. (رواه مسلم: ۲/۲۸، باب الربا، قديمي).
عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه عن النبي ﷺ قال: الربا ثلاثة وسبعون باباً أيسرها مثل أن ينكح أمه، وإن أربي الربا عرض الرجل المسلم. (المستدرك للحاكم: ۲/٤۸، كتاب البيوع، دار ابن حزم).
وأخرج ابن أبي حاتم في تفسيره (۲/۵۵۱) والشافعي عن عمر وبن الأحوص أن رسول الله ﷺ، قال: "ألا إن كل رباً كان في الجاهلية موضوع عنكم كله.

جس طرح شراب نوشی اور زنا کی حرمت کی نصوص مطلق ہیں اور وہ بلا تفریق دار الاسلام اور دار الحرب میں یکساں ہیں اسی طرح سود کی حرمت کا حکم بھی عام اور یکساں ہونا چاہیے ہونا چاہیے۔
(۲) حربی امان لے کر دار الاسلام میں آئے تو جس طرح اس کے مال کو اس عہد کی وجہ سے معصوم تسلیم کیا جاتا ہے اور اس سے سود حاصل کرنا جائز نہیں، اسی طرح جب مسلمان امان لے کر دار الحرب میں داخل ہو تو اس عہد کی وجہ سے اس کے حق میں اس کا مال معصوم اور محفوظ ہو جائے گا۔
(۳) حضرت ابو بکر صدیق رضي الله عنه نے ایک مشہور واقعہ کے مطابق قمار کے ذریعہ اونٹ حاصل کیے تھے، حضور ﷺ کے پاس یہ اونٹ لائے تو آپ ﷺ نے ان کو صدقہ کر دینے کا حکم فرمایا، "
فجاء به إلى رسول الله ﷺ، قال: تصدق به". (تفسير ابن كثير، سورة الروم، بحواله ابن أبي حاتم).
اس واقعہ میں آپ ﷺ نے بلا تفریق دار الاسلام و دار الحرب صدقہ کر دینے کا حکم فرمایا، حالانکہ مکہ مکرمہ اس وقت دار الحرب تھا۔ لیکن حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ مدینہ منورہ میں تھے، اور اونٹ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس مدینہ منورہ بھیج دیے گئے تھے۔
(٤) آپ ﷺ نے حضرت رکانہ رضي الله عنه سے کشتی کی ہار جیت میں بکریوں کی شرط لگائی تھی، جب آپ نے تین بار شکست دے دی اور بکریاں آپ کو دے دی گئیں تو آپ نے واپس فرما دیں۔ "
فقام عنه ورد عليه غنمه". (الإصابة، تحت ذكر يزيد بن ركانة: ٦/۵۱٤).

اگر چہ حضرت رکانہ رضي الله عنه اس وقت مسلمان نہیں تھے۔
مجوزین کے دلائل پر ایک نظر:
(۱) پہلی دلیل حدیث ہے۔ مکحول نے رسول اللہ ﷺ سے مرسلاً نقل کیا ہے: "
لا ربا بين المسلم والحربي في دار الحرب". (معرفة السنن والآثار: ۷/٤۷، بيروت).

الجواب: یہ حدیث مرسل ہے اور جمہور علماء نے اس کو رد کر دیا ہے۔ بطورِ "مشتے نمونہ از خروارے" چند ملاحظہ فرمائیں:

قال المحقق ابن همام رحمه الله في فتح القدير: وهذا الحديث غريب، ونقل ما روي مكحول عن النبي ﷺ أنه قال: ذلك. قال الشافعي رحمه الله: قال أبو يوسف رحمه الله: إنما قال أبو حنيفة رحمه الله هذا لأن بعض المشيخة حدثنا عن مكحول عن رسول الله ﷺ أنه قال: "لا ربا بين أهل الحرب" أظنه قال: "وأهل الإسلام" قال الشافعي رحمه الله: وهذا الحديث ليس بثابت ولا حجة فيه، أسنده عنه البيهقي

وهذا لا يفيد لمعارضة إطلاق النصوص إلا بعد ثبوت حجية حديث مكحول، وقد يقال: لو سلم حجيته فالزيادة بخبر الواحد لا تجوز. (فتح القدير: ۷/۳۹، باب الربا، دار الفكر).

حاشیہ میں محقق سعدی چلپی فرماتے ہیں:

أقول: قال ابن العز: قال في المغني: هذا خبر مجهول لم يرو في صحيح ولا مسند ولا كتاب موثوق به، وهو مع ذلك مرسل. ويحتمل أن المراد بقوله: لا ربا النهي عن الربا كقوله تعالى: فلا رفث ولا فسوق ولا جدال في الحج. انتهى. وعلي تقدير صحته لا يصلح مقيداً للمطلقات مثل لا تأكل الربا، إذ لا يزاد بخبر الواحد على الكتاب. (حاشية فتح القدير: ۷/۳۹، دار الفكر).
وقال العلامة العيني رحمه الله: هذا حديث غريب ليس له أصل. (البناية في شرح الهداية: ۳/۱٦۵).
وفي معرفة السنن والآثار: قال الأوزاعي: الربا عليه حرام في دار الحرب وغيرها

وقال أبو يوسف رحمه الله: القول ما قال الأوزاعي. وإنما أحل أبو حنيفة رحمه الله هذا لأن بعض المشيخة حدثنا عن مكحول عن رسول الله ﷺ أنه قال: لا ربا بين أهل الحرب أظنه قال: "وأهل الإسلام" قال الشافعي رحمه الله: القول كما قال الأوزاعي وأبو يوسف رحمه الله وما احتج به أبو يوسف رحمه الله لا بي حنيفة رحمه الله ليس بثابت ولا حجة فيه. (معرفة السنن والآثار للإمام البيهقي، ۷/٤۷، باب بيع الدرهم بالدرهمين في ارض الحرب، كتاب السير، بيروت).
وكذا في الأم للإمام الشافعي رحمه الله: ٤/۳۷۹، بيع الدرهم بالدرهمين في ارض الحرب، دار الفكر. وفي نصب الراية لأحاديث الهداية: ٤/٤٤).
وقال الإمام النووي: والجواب عن حديث مكحول أنه مرسل ضعيف فلا حجة فيه ولو صح لتأولناه على أن معناه لا يباح الربا في دار الحرب جمعاً بين الأدلة. (المجموع شرح المهذب: ۹/۳۹۲، باب الربا، دار الفكر).
وقال المحقق ابن قدامة الحنبلي رحمه الله: وخبرهم مرسل لا نعرف صحته ويحتمل أنه أراد النهي عن ذلك، ولا يجوز ترك ما ورد بتحريمه القرآن وتظافرت به السنة وانعقد الإجماع على تحريمه بخبر مجهول لم يرد في صحيح ولا مسند ولا كتاب موثوق به وهو مع ذلك مرسل محتمل. (المغني: ٤/۱٦۳، باب الربا والصرف، بيروت).
وفي حاشية الروض المربع شرح زاد المستقنع: وما روي "ولا ربا بين المسلم وأهل الحرب" خبر مجهول، لا يترك له تحريم ما دل عليه الكتاب والسنة. (حاشية الروض لعبد الرحمن الحنبلي، ص ۱۳۹۲).
وفي مطالب أولي النهي: وحديث مكحول

رد بأنه خبر مجهول، لا تترك له تحريم ما دل عليه القرآن والسنة الصحيحة. (مطالب أولي النهي لمصطفي السيوطي الحنبلي: ۳/۱۸۹، دمشق).
وفي الموسوعة الفقهية الكويتية: ذهب جمهور الفقهاء إلى أن الربا حرام في دار الحرب كحرمته في دار الإسلام، وقالوا: إن النصوص في تحريم الربا عامة، ولم يفرق بين دار ودار، ولا بين مسلم وغيره. (الموسوعة: ۲۰/۲۰۸، الربا في دار الحرب).

(۲) حضرت عباس رضي الله عنه غزوۂ بدر یا اس کے بعد مشرف بہ اسلام ہو چکے تھے، مگر آپ نے ہجرت نہیں فرمائی تھی، پھر ۱۰ ھ ؁میں حجۃ الوداع کے موقع پر آپ ﷺ نے اعلان فرمایا:

ربا الجاهلية موضوع وأول ربا أضعه ربانا ربا عباس بن عبد المطلب رضي الله عنه فإنه موضوع كله. (رواه أبو داود: ۱/۲٦۳، كتاب البيوع).
گویا حجۃ الوداع کے واقعہ تک آپ ﷺ نے حضرت عباس رضي الله عنه کے سودی کاروبار پر امتناع عائد نہیں فرمایا یا اس لیے کہ مکہ دار الحرب تھا اور دار الحرب کے حربیوں سے سود لینا جائز تھا ۔
الجواب: علماء نے اس حدیث کے مختلف جوابات دیے ہیں:
(الف) ممکن ہے کہ حضرت عباس رضي الله عنه کو خصوصی طور پر اس کی اجازت دی گئی ہو ۔
(باء) امام سبکی رحمه الله نے یہ توجیہ فرمائی ہے کہ قبولِ اسلام کے بعد بھی حضرت عباس رضي الله عنه کے سودی معاملہ جاری رکھنے پر کوئی دلیل موجود نہیں ہے، اور اگر قبولِ اسلام کے بعد بھی جاری رکھا ہو تو ممکن ہے کہ لاعلمی اور نا واقفیت کی بنا پر ہو ۔ یا ممکن ہے کہ یہ حدیث باقی ماندہ سود سے متعلق ہو جو حضرت عباس رضي الله عنه کے قبولِ اسلام سے پہلے کا ہو ۔
(ج) ممکن ہے کہ حضرت عباس رضي الله عنه نے حرمت کے بعد ربا النسیئہ کو چھوڑ دیا ہو اور ربا الفضل کو جائز سمجھتے ہو ۔
(د) یہ بھی ممکن ہے کہ اس وقت تک سود کی حرمت نازل نہیں ہوئی تھی ۔ کیوں کہ سود کی قطعی حرمت ۹ ؁ میں آیتِ کریمہ:
﴿يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله وذروا ما بقي من الربا إن كنتم مؤمنين﴾
کے نزول کے بعد ہوئی ۔
اس قول کی تائید دو واقعات سے ہوتی ہے:
(۱) بنو ثقیف نے قبولِ اسلام کے وقت چند شرطیں لگائیں ان میں سے ایک شرط یہ تھی کہ لوگوں کے ذمہ ان کی سودی رقوم باقی ہیں ان کو اس کے وصول کرنے کا حق حاصل ہوگا، آپ ﷺ نے اس شرط کو منظور فرما لیا تھا ۔
(۲) فتح مکہ کے بعد آپ ﷺ نے حضرت عتاب بن اسید رضي الله عنه کو مکہ مکرمہ کا گورنر مقرر فرمایا تھا اس وقت بنو عمرو بن عمیر بن عوف کی سودی رقوم بنو مغیرہ کے ذمہ باقی تھیں، تو بنو مغیرہ نے جو کہ مسلمان ہو چکے تھے ادا کرنے سے انکار کر دیا، حضرت عتاب رضي الله عنه نے آپ ﷺ کو اس قضیہ کی بابت خط لکھا، اسی موقع پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ۔
﴿يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله وذروا ما بقي من الربا إن كنتم مؤمنين﴾.

اگر ان تاویلات کو ہم قبول نہ کریں تو پھر یہ واقعہ خود احناف کی رائے کے لیے بھی مفید نہ ہوگا کیوں کہ رمضان ۸ھ؁میں فتح مکہ کے بعد مکہ مکرمہ دار الاسلام بن چکا تھا تو گویا حضرت عباس رضي الله عنه نے دار الاسلام بننے کے بعد بھی سودی کاروبار جاری رکھا، حالانکہ یہ بالاتفاق حرام ہے ۔
مذکورہ بالا توجیہات کو ڈاکٹر نزیہ حماد (جامعہ ام القری مکہ مکرمہ) نے "
أحكام التعامل بالربا بين المسلمين وغير المسلمين"
میں جمع کیا ہے، جس کا خلاصہ مولانا خالد سیف اللہ صاحب نے جدید فقہی مسائل میں نقل فرمایا ہے، اسی سے استفادہ کیا گیا ہے ۔ ملاحظہ ہو: (جدید فقہی مسائل: ٤/۵۸ ۔ ٦۲) ۔
(۳) طرفین رحمه الله کی تیسری دلیل یہ ہے کہ حربی کا مال معصوم اور قابل احترام نہیں اور حرمت مال معصوم کے لینے کی ہے، اس لیے حربی سے سود لینا جائز ہے ۔
الجواب: عہدو امان کا منجملہ اسبابِ عصمتِ اموال ہونا فقہاء کے ہاں مسلم ہے، اسی وجہ سے دار الاسلام میں مقیم ذمی سے سود لینا جائز نہیں ہے، اور دار الحرب سے امان لے کر آنے والے حربی مستامن سے بھی سود لینا ناجائز ہے، پس دار الحرب میں امان لے کر جانے والے مسلمان کا چونکہ دار الحرب کے تمام باشندوں سے بحیثیتِ اجتماعی عہد ہو چکا ہے اس لیے اس کے حق میں ان کے اموال کو بھی معصوم قرار دیا جائے گا ۔
خلاصہ یہ ہے کہ اس طرح سود کی اجازت دینے سے قوی احتمال ہے کہ حدودِ شرعیہ کی حرمت اور شناعت کا تصور مسلمانوں کے دلوں سے بتدریج ختم ہو جائے، اور یہ اتنا بڑا مفسدہ ہے کہ تنہا اس کی حرمت کے لیے کافی ہے ۔ لہذا اس مسئلہ میں مذہب احناف میں امام ابو یوسف رحمه الله کا قول زیادہ قوی اور احوالِ زمانہ کے مناسب ہے، اس لیے امام ابو یوسف رحمه الله کے قول پر فتوی دیا جاتا ہے ۔ (مستفاد از جدید فقہی مسائل: ٤/٦۲) ۔
علامہ شامی رحمه الله نے فرمایا ہے کہ امام ابو یوسف رحمه الله قاضی القضاۃ کے منصب پر فائز تھے، لہذا زیادہ تجربہ کی وجہ سے معاملات میں امام ابو یوسف رحمه الله کے قول پر فتوی دیا جائے گا ۔
ملاحظہ ہو شرح عقود رسم المفتی میں ہے:

وكل فرع بالقضا تعلقاً
٭
قول أبي يوسف رحمه الله فيه ينتقى
وفي القنية من باب المفتي: الفتوى على قول أبي يوسف رحمه الله فيما يتعلق بالقضاء لزيادة تجربته وكذا في البزازية، من القضاء، أي لحصول زيادة العلم بتجربته ولهذا رجع أبو حنيفة رحمه الله عن القول بأن الصدقة أفضل من حج التطوع لما حج وعرف مشقته. (شرح عقود رسم المفتي، ص ۲۸، ۲۹).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.