ساؤتھ افریقہ اور استرالیا وغیرہ ممالک میں عشر کا حکم:
Question
ساؤتھ افریقہ اور استر الیا جیسے ممالک میں کیا عشر واجب ہے یا نہیں؟
Answer
جن ممالک میں مسلمان دار الاسلام کی طرح آرام سے رہتے ہوں اور ان کی ملکیت میں زمین ہو اس میں عشر واجب ہے ۔
مبسوط کی عبارت کا یہی مطلب معلوم ہوتا ہے ۔
أرأيت قوماً من أهل الحرب أسلموا علي دارهم أتكون أرضهم من أرض العشر؟ قال: نعم.
اسی طرح ساؤتھ افریقہ کی جو زمین مسلمان کی ملکیت میں آ جائے اس میں عشر یا نصفِ عشر ہوگا ۔
اگر وہ زمین غیر مسلم سے خرید لے تو پھر بھی عشر ہے، جیسے کہ ابتداء ہی سے اس کی ملکیت میں آ چکی ہو، کیوں کہ پہلے سے یہ زمین نہ عشری تھی نہ خراجی، کیوں کہ وہاں خراج کا نظام اور ترتیب نہیں ہے، جیسے حضرت تھانوی رحمه الله نے لکھا ہے ۔
(۲) مبسوط میں جہاں یہ لکھا ہے کہ کوئی شخص دار الحرب میں داخل ہوا اور وہاں کے پہاڑوں میں اس کو کچھ مل گیا اس میں عشر نہیں، یہ ایک الگ مسئلہ ہے اس صورت میں اس نے پہاڑوں میں کاشت نہیں کیا، بلکہ وہاں امان لے کر گیا اور اس کو ایک چیز مل گئی ۔
ہدایہ میں ہے:
ومن دخل دار الحرب بأمان فوجد في دار بعضهم ركازاً رده عليهم
. وإن وجده في الصحراء فهو له لأنه ليس في يد أحد على الخصوص فلا يعد غدراً ولا شيء فيه. (الهداية: ۱/۲۰۰، باب في المعادن والركاز. وكذا في المبسوط: ۲/۲۱۵، باب المعادن، إدارة القرآن).
اس میں خمس وغیرہ بھی نہیں، کیوں کہ مالِ غنیمت کے حکم میں نہیں ہے ۔
کتاب الخراج میں ہے:
قال أبو يوسف رحمه الله: فأما ما سألت عنه يا أمير المؤمنين من حد أرض العشر من حد أرض الخراج فكل أرض أسلم أهلها عليها وهي من أرض العرب أو أرض العجم فهي لهم وهي أرض العشر، بمنزلة المدينة حين أسلم عليها أهلها وبمنزلة اليمن، وكذلك كل من لا تقبل منه الجزية ولا يقبل منه إلا الإسلام أو القتل ومن عبدة الأوثان من العرب فأرضهم أرض عشر، وإن ظهر عليها الإمام لأن رسول الله ﷺ قد ظهر علي أرضين من أرض العرب وتركها فهي أرض عشر حتى الساعة، وأيما دار من دور الأعاجم قد ظهر عليها الإمام وتركها في أيدي أهلها فهي أرض خراج، وإن قسمها بين الذين غنموها فهي أرض عشر
(كتاب الخراج: ٦۹، فصل حد أرض العشر من أرض الخراج، إدارة القرآن).
نیز ملاحظہ ہو: شامی: ٤/۱۷۸، سعید ۔ و فتاوی قاضی خان: ۱/۲۷۰ ۔ و جواہر الفقہ: ۲/۲۸۱) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.