Kisee muhtaaj aur dharoorat mand ko gaaliya aur dhamkiya dena
Question
کال سینٹر کی نوکری میں کال سینٹر میں بطور منیجر کام کر رہا ہوں (قرض کی وصولی کیلئے) جس کمپنی میں نوکری کر رھا ہوں یں کمپنی پاکستان رجسترڈ ہے یں کمپنی دوسری قرض کمپنیوں سے ٹینڈر لے رہی ہے چائنہ میں ۔ دوسری قرض دینے والی تمام کمپنیاں چائینز کے ہے جو کے سود پر کام کرتھے ہے۔ بہت سے مختلف ممالک میں جیسے کے(جنوبی افریقہ)، (نیپال)، (ہندوستان)… وغیرہ ممالک ۔ کمپنی ہمیں رقم کی وصولی کیلئے تمام اختیار دیتی ہے، کمپنی کھتے ہے پھلے ارام سے بات چیت کریں اگر نہے بھجتے سب کچھ کرو (گالیاں دینا، دھمکیاں دینا، غیر اخلاقی تصویروں میں ترمیم کرنا….) جب تک کہ وہ پیسے واپس نہ بھیجیں، تو میرا سوال یہ ہے کہ ایا مجھے یہ نوکری جاری رکھنی چاہیے؟ کیا یہ کام اسلام میں جائز ہے؟ یا یہ کام اسلام میں حرام ہے؟ براہِ کرم ہمیں صحیح راستے پر گائڈ کریں۔ شکریہ
Answer
Kisee muhtaaj aur dharoorat mand ko gaaliya aur dhamkiya dena ye ghalat he. Ye to musalmaano ka tareeqah nahi he.
And Allah Ta'ala (الله تعالى) knows best.
- Answered by
- Mufti Ebrahim Salejee (Isipingo Beach)
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Mufti Online — Madrasah Ta'leemuddeen. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.