تین دن سے زائد خیار شرط کا حکم:

2 min readFatwa Vol 5 #9Urdu
Vol. 5كتاب البيوعباب (۱، ۲، ۳): جائز اور ناجائز خرید و فروخت کے احکام

Question

اگر بائع نے ایجاب فیکس (Fax) کے ذریعہ ارسال کیا اور لکھا کہ فیکس بھیجنے کے وقت سے پانچ دن تک میرے لیے خیار رہے گا، اگر مشتری نے پڑھا تو کیا پانچ دن تک اختیار رہے گا یا صرف مشتری تک پہنچنے کی مجلس تک؟ بینوا توجروا۔

Answer

بصورت مسئولہ بائع نے مشتری کو فیکس بھیجا اور اپنے لیے خیار شرط رکھا تو مشتری کو جب وصول ہو جائے اور مشتری قبول کر لے تو بائع کو اپنے خیار شرط کی بنا پر تین دن تک عقد فسخ کرنے کا اختیار رہے گا، ہاں اگر ضرورت کی وجہ سے ۵ دن کا خیار رکھ لے تو عام کتابوں میں تین دن سے زائد خیار شرط کو فاسد قرار دیا ہے، البتہ شرح نقایہ میں ملا علی قاری رحمه الله (۹۳۰ ھ-۱۰۱٤ ھ) نے ان اشیاء میں تین دن سے زائد کو جائز قرار دیا ہے جن کی صفات کا علم تین دن میں نہیں ہو سکتا ۔
ملاحظہ فرمائیں شرح نقایہ میں ہے:

وإن كان فيه صفة لا يمكن الوقوف عليها في ثلاثة أيام يجوز أن يشترط فيه أكثر من ثلاثة أيام لأنه شرع للحاجة إلى التأمل وهي تندفع بذلك. (شرح النقاية: ۲/۱۲، كتاب البيوع).

مجلۃ الاحکام العدلیہ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ تین دن سے زائد بھی خیار رکھ سکتے ہیں ۔
ملاحظہ فرمائیں مجلہ اور شرح مجلہ میں ہے:

المادة: ۳۰۰: يجوز أن يشترط الخيار بفسخ البيع أو إجازته مدة معلومة لكل من البائع والمشتري

قوله مدة معلومة أعم من أن تكون مدة الخيار ثلاثة أيام أو أكثر وهذا اختيار من المجلة لقول الإمامين، وبه قال أحمد رحمه الله، لأنه شرع نظراً للمتعاقدين للاحتراز عن الغبن وقد لا يحصل ذلك في الثلاث فيكون مفوضاً إليهما. (عيني على الكنز: ۲/۱۱). (شرح المجلة لمحمد خالد الأتاسي، ۲/۲۳٤).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.