بائع کی جانب سے بیع میں شرائط لگانے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 5 #2Urdu
Vol. 5كتاب البيوعباب (۱، ۲، ۳): جائز اور ناجائز خرید و فروخت کے احکام

Question

کیا بائع کے لیے مندرجہ ذیل شرائط لگانا جائز ہے یا نہیں؟
(۱) کپڑا کاٹ لینے کے بعد کوئی دعوی قابل قبول نہ ہوگا ۔
(۲) اگر واپس کرنا ہو تو انوائس نمبر ذکر کرنا ضروری ہوگا ۔
(۳) کپڑا خریدنے کے بعد صرف سات دن تک واپسی کا اختیار ہوگا ۔
(٤) سامان بائع ہی کی ملکیت میں رہے گا جب تک مشتری پورا ثمن ادا نہ کر دے ۔

Answer

(۱) شرطِ اول صحیح ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ کپڑا کاٹ لینے کے بعد ہر عیب سے بری الذمہ ہے ۔ اور ہر عیب سے براء ت کی شرط لگانا صحیح اور درست ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں ہدایہ میں ہے:

ومن باع عبداً وشرط البراءة من كل عيب فليس له أن يرده بعيب وإن لم يسم العيوب بعددها. (الهداية، كتاب البيوع، باب خيار العيب، ۳/٤۸، وكذا في المبسوط للإمام السرخسي رحمه الله: ۱۲/۹۱).

شرح المجلہ میں ہے:

إذا باع ماله بشرط براءة ذمته من دعوي كل عيب فلا يكون للمشتري خيار عيب. (شرح المجلة لمحمد خالد الأتاسي، البيوع، الفصل السادس في خيار العيب، ۲/۳۰۵، رشيدية).

(۲) آج کل زمانہ رو بہ ترقی ہے ہر چیز کو اس کے خاص نمبر کے ساتھ قیمت لگا کر کمپیوٹر میں محفوظ کر لیا جاتا ہے، جس کو بارکوڈ کہتے ہیں، جب مشتری خریدتا ہے تو قیمت ادا کرتے وقت وہ خاص نمبر کی رسید (بل، انوائس) اس کو دی جاتی ہے، اس کو محفوظ رکھنا ضروری ہے، کیوں کہ سامان واپس کرنے کے لیے اس رسید کا ہونا ضروری ہے، اور یہ عرف میں رائج ہے آسانی کی خاطر اس طرح کرتے ہیں، لہذا یہ صحیح اور درست ہے عدم جواز کی کوئی وجہ نہیں ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں علامہ ابن نجیم مصری رحمه الله "الاشباہ" میں فرماتے ہیں:

العادة المطردة هل تنزل منزلة الشرط قال في إجارة الظهيرية: والمعروف عرفاً كالمشروط شرطاً. انتهى. (الأشباه والنظائر: القاعدة السادسة، العادة محكمة، ۱/۲۷۸).

(۳) تیسری شرط بعینہٖ شرط اول کی طرح ہے کہ سات دن کے بعد بائع ہر قسم کے عیب سے بری الذمہ ہوگا، اور یہ صحیح اور درست ہے، کما مر آنفاً ۔
(٤) عقد مکمل ہونے پر مشتری مبیع کا مالک بن جاتا ہے، لہذا بائع کی ملکیت کی شرط بیع بالتقسیط میں صحیح نہیں ہے، ہاں عقدِ معجل میں اس طرح شرط لگا سکتے ہیں کہ جب تک مشتری پورا ثمن ادا نہیں کرے گا وہاں تک مبیع بائع کے قبضہ میں رہے گی ۔
شرح مجلہ میں محمد خالد اتاسی لکھتے ہیں:

لو باع بشرط أن يحبس المبيع إلى أن يقبض الثمن فهذا الشرط لا يضر بالبيع، بل هو بيان لمقتضي البيع، فإن للبائع حبس المبيع إلى أن يقبض الثمن ولو لم يشترط ذلك في العقد. (شرح المجلة للأتاسي، البيوع، الباب الاول في بيان المسائل المتعلقة بعقد البيع، الفصل الرابع في حق البيع بشرط: ۲/٦۱، رشيدية).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.