متعین وزن والی اشیاء کو بلا وزن فروخت کرنے کا حکم:
Question
اگر مشتری ثانی مشتری اول سے ۱۰ کلو چاول خرید لے تو فقہاء کے قول کی روشنی میں دو مرتبہ اس کو تولنا ضروری ہے، مشتری اول اس کو اپنے لیے تولے پھر جب مشتری ثانی کے ہاتھ فروخت کرے تو مشتری
ثانی دوبارہ تولے، ہاں اگر مشتری اول نے مشتری ثانی کو فروخت کرنے کے بعد مشتری ثانی کی موجود گی میں اپنے لیے تولا ہے تو یہ ایک تول کافی ہے، سوال یہ ہے کہ ہم دکانوں سے وزنی اشیاء کے بند ڈبے یا پیکٹ خریدتے ہیں، ان کو نہ مشتری اول (دکاندار) تولتا ہے اور نہ مشتری ثانی تولتا ہے تو کیا لاکھوں آدمیوں کی خرید و فروخت ناجائز ہو گی؟ بینوا توجروا ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ متعین وزن والی اشیاء جن کا وزن متعین و معلوم ہے ان میں دوبارہ وزن کی ضرورت نہیں ہے، بلا وزن فروخت کرنا جائز اور درست ہے ۔ کیوں کہ ہر ظرف اصطلاحی وزن کا آلہ ہے ۔
نیز متعین وزن والی اشیاء عددِ متقاربہ کے درجہ میں آ گئی ہیں، اور وزن کے بارے میں دھوکہ کا امکان بہت کم ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ فی زمانہ ناپ تول مشینی آلات کے ذریعہ فیکٹریوں میں ہوتا ہے اس میں کمی بیشی کی گنجائش نہیں ہوتی، اور موجود ہ دور میں مشینی آلات پر لوگوں کا اعتماد بھی بہت زیادہ ہے، لہذا کسی وجہ سے بھی معاملہ مشکوک نہیں ہوتا ۔
اصل اس مسئلہ کی بنیاد ابن ماجہ کی ایک حدیث ہے ۔ ملاحظہ فرمائیں:
عن جابر رضي الله عنه قال نهي رسول الله ﷺ عن بيع الطعام حتى يجري فيه الصاعان صاع البائع وصاع المشتري. (رواه ابن ماجة: ۱/۱٦۱).
صاحبِ ہدایہ نے حدیث شریف میں ممانعت کی علت یہ بیان فرمائی ہے کہ زیادتی کا احتمال ہے اور زیادتی بائع کی ہے اور غیر کے مال میں تصرف کرنا حرام ہے ۔
قال في الهداية: ولأنه يحتمل أن يزيد على المشروط وذلك للبائع والتصرف في مال الغير حرام فيجب التحرز عنه. (الهداية: ۳/۷۵، باب المرابحة والتولية).
جیسا کہ بیہقی سنن کبری کی روایت میں مذکور ہے:
"فيكون للبائع الزيادة وعليه النقصان". (السنن الكبرى: ۵/۳۱٦، دار المعرفة، بيروت).
لیکن فی زمانہ یہ احتمال مشکل ہے اس لیے کہ عام طور پر لکھے ہوے وزن سے کم یا زیادہ نہیں ہوتا، بعض شراح نے فرمایا کہ کیل و وزن کے اعادہ کی ضرورت اس وجہ سے ہے کہ مبیع مجہول نہ رہے ۔
قال في الكفاية: وإنما شرط ذلك لان المبيع يتناول ما يحويه الكيل أو الوزن وهو مجهول فربما يزيد وينقص فما لم يكل لنفسه أو لم يزن لا يمتاز المبيع عن غيره فكان المبيع مجهولاً. (الكفاية شرح الهداية على هامش فتح القدير: ٦/۱٤۱، رشيدية).
وفي شرح العناية: ومعناه أن المانع من التصرف هو احتمال الزيادة
وأنه معلول باحتمال الزيادة على المشروط وذلك بما يتصور إذا بيع مكايلة فلم يتناول ما عداه
وفيه ذكر جريان الصاعين وليس ذلك إلا لتعيين المقدار وتعيين المقدار إنما يحتاج إليه عند توهم زيادة أو نقصان فكان في النص ما يدل على أنه معلول بذلك. (شرح العناية على هامش فتح القدير: ٦/۵۱٦، ۵۱۷، دار الفكر).
وفي فتح القدير: قال عامتهم كفاه ذلك حتى يحل للمشتري التصرف فيه قبل كيله ووزنه إذا قبضه، وعند البعض لا بد من الكيل أو الوزن مرتين احتجاجاً بظاهر الحديث، والصحيح قول العامة لأن الغرض من الكيل والوزن صيرورة المبيع معلوماً وقد حصل بذلك الكيل واتصل به القبض، ومحمل ظاهر الحديث إذا وجد عقدان بشرط الكيل بأن يشتري المسلم إليه من رجل كراً لا جل رب السلم وأمر رب السلم بقبضه اقتضاء عن سلمه فإن في ذلك يشترط صاعان: صاع للمسلم إليه، وصاع لرب السلم فيكيله للمسلم إليه، ثم يكيله لنفسه. (فتح القدير: ٦/۵۱۷، دار الفكر).
اعلاء السنن میں ہے:
نقول إن البائع إذا كال الطعام بعد البيع بحضرة المشتري يكون ذلك الصاع هو صاع المشتري
فعندنا قوله "حتى يجري فيه الصاعان" أعم من أن يكون جريان الصاعين حقيقة أو حكماً ويرشد إليه قوله:
"فيكون لصاحبه الزيادة وعليه النقصان" لأنه يدل أن العلة في النهي
إنما هو امتياز حق البائع عن حق المشتري. (إعلاء السنن: ۱٤/۲۳۹).
مذکورہ بالا تمام عباراتِ فقہیہ سے یہی مترشح ہوتا ہے کہ حدیث شریف میں اصل ممانعت کی علت مبیع کا مجہول ہونا اور غیر کے حق کے ساتھ مختلط ہونا ہے، جب کہ موجود ہ زمانہ میں متعین وزن مبیع کے اوپر لکھ دیا جاتا ہے جو کہ بعد والوں کے لیے حکمی وزن کا درجہ رکھتا ہے جس کی وجہ سے جہالتِ مبیع کا کوئی شبہ نہیں، اور حدیث کا منشا و مقصود حاصل ہو جاتا ہے ۔
حضرت مولانا مفتی ولی حسن صاحب رحمه الله فرماتے ہیں:
باقی رہا ظاہر حدیث پر عمل کرنے والوں کے لیے جواب وہ یہ ہے کہ اصل بیع میں یہ ہے کہ مبیع مجہول نہ ہو لیکن مشتری کی موجود گی میں کیل بائع سے جہالت رفع ہو گئی اور اس کو علم ہو گیا، باقی حدیث کا محمل کتاب السلم میں آئے گا ۔ (درس الہدایۃ: ۲۵۲) ۔
تبیین الحقائق کے حاشیہ میں ہے:
قال الإتقاني: وصورة المسألة في الجامع الصغير محمد عن يعقوب عن أبي حنيفة رحمه الله قال إذا اشتريت شيئاً مما يكال أو يوزن أو يعد فاشتريت ما يكال كيلاً أو ما يوزن وزناً أو ما يعد عداً فلا تبعه حتى تكيله أو تزنه أو تعده فإن بعته قبل أن تفعل وقد قبضته فالبيع فاسد
وإن كاله أو وزنه بعد العقد بحضرة المشتري مرة فيه اختلاف المشايخ قال عامتهم كفاه ذلك حتى يحل للمشتري التصرف فيه قبل الكيل والوزن ثانياً
والصحيح قول العامة لأن الغرض من الكيل أو الوزن إعلام المبيع وإفرازه وذلك يحصل بالواحد فلا حاجة إلى الإعادة قالوا: الحديث ورد فيما إذا وجد عقدان بشرط الكيل. (حاشية الشيخ الشلبي على تبيين الحقائق: ٤/۸۱، إمدادية ملتان).
علامہ رافعی فرماتے ہیں:
ثم لما كانت الدراهم والدنانير لا زيادة فيها عن مقدارها المعلوم بين الناس جوزوا التصرف فيها بعد القبض قبل الوزن لعدم احتمال الزيادة في وزنها المانع من التصرف في غيرها. (تقريرات الرافعي على هامش الفتاوى الشامي: ۵/۱۵۸، سعيد).
معلوم ہوا کہ لوگوں کے عرف میں وزن معلوم و متعین ہو تو پھر وزن کیے بغیر اس میں تصرف کرنے کی گنجائش ہے جیسے دراہم و دنانیر اس زمانہ میں لوگوں کے درمیان معروف و متعین مقدار والے تھے اس لیے وزن کی شرط نہیں لگائی ۔ فی زمانہ کمپنی کی پیکینگ لوگوں کے درمیان معروف و مشہور ہے اس وجہ سے وزن کی شرط کو ترک کر دیا گیا ۔
اشکال اور جواب:
اشکال: بعض فقہاء نے فرمایا کہ اعادۂ وزن و کیل تمام قبضہ میں سے ہے اس لیے ضروری ہے ۔ ملاحظہ ہو، اعلاء السنن میں ہے:
والدليل على أن الكيل والوزن
من تمام القبض أن القدر في المكيل والموزون معقود عليه
ولا يعرف القدر فيهما إلا بالكيل أو الوزن. (إعلاء السنن: ۱٤/۲٤۳).
الجواب: اس کا جواب یہ ہے کہ لکھے ہوے وزن سے مقدار معلوم ہو جاتی ہے جس سے تمام قبضہ حاصل ہو جاتا ہے ۔ اور یہ جمہور کا مذہب ہے ۔
البتہ حضرت شاہ صاحب رحمه الله کے بارے میں تکملہ فتح الملہم میں مذکور ہے کہ حضرت شاہ صاحب رحمه الله نے ابن ماجہ کی روایت کو استحباب پر محمول کیا ہے ۔ (تکملہ فتح الملہم: ۱/۳۵۹) ۔
چنانچہ حضرت شاہ صاحب رحمه الله کے نزدیک نہ ایک صفقہ میں تعدد کیل ضروری ہے اور نہ دو صفقوں میں ۔ ملاحظہ ہو فیض الباری میں فرماتے ہیں:
لو اعتبرنا مثل هذه الاحتمالات لزم أن لا يجوز التصرف فيما إذا كان بحضرته أيضاً فإن الاحتمال لا ينقطع
فالذي تبين أن المشتري إن اعتمد على كيل البائع جاز له أكله بدون إعادة الكيل سواء كان بحضرته أو بغيبته
إذا كان هناك ثالث يشاهد الكيل (يعني كيل البائع الأول) فاشتراه كفاه عن إعادة الكيل عندي لأن المطلوب كون المبيع معلوماً وقد حصل نعم إن كاله يستحب له ذلك فلا حاجة إلى تعدد الكيل في الصفقتين أيضاً. (فيض الباري: ۳/۲۲۰).
پس حضرت شاہ صاحب رحمه الله کا قول لیا جائے تب تو بظاہر ہمارے زمانے کے معاملات میں کوئی خلجان ہی باقی نہیں رہتا کیونکہ کمپنی کے وزن پر تمام لوگوں کا اعتماد ہوتا ہے، اور حضرت شاہ صاحب کے نزدیک مشتری کا وزن کے وقت حاضر ہونا بھی ضروری نہیں ہے نیز حضرت کے نزدیک تعدد صفقہ میں بھی جب مبیع معلوم ہو وزن و کیل ضروری نہیں، اور اس قول کی تائید صاحب عنایہ علامہ اکمل الدین بابرتی کی درج ذیل عبارت سے ہوتی ہے:
قال: وإذا نظرنا إلى التعليل وهو قوله ولأنه يحتمل أن يزيد على المشروط وذلك للبائع يقتضي أن يكتفي بالكيل الواحد في أول المسألة أيضاً كما ذكرنا ولو ثبت أن وجوب الكيلين عزيمة والاكتفاء بالكيل الواحد رخصة أو قياس أو استحسان لكان ذلك مدفعاً جارياً على القوانين لكن لم أظفر بذلك. (شرح العناية: ٦/۵۱۸).
اور حضرت عطاء بن رباح رحمه الله کا بھی یہی قول تھا کہ اعادۂ کیل کی مطلق ضرورت نہیں ہے ۔ اعلاء السنن میں ہے:
وقال عطاء يجوز بيعه بالكيل الأول مطلقاً. (إعلاء السنن: ۱٤/۲۳۸، إدارة القرآن).
نیز ان تمام تشریحات کا مدار اس پر ہے کہ جب ہم یہ تسلیم کر لیں کہ موجود ہ دور میں معاملات وزن و کیل کی شرط کے ساتھ وقوع پذیر ہوتے ہیں، حالانکہ یہ بات مشاہدہ کے خلاف ہے ۔
وفسر إمام الحرمين البيع مكايلة بأن يقول بعتك هذه الصبرة كل صاع بدرهم
ومنها أن يقول بعتكها على أنها عشرة آصع ومنها أن يقول بعتك عشرة آصع. (إعلاء السنن: ۱٤/۲٤۵).
لیکن آج کل مقدار کی شرط کے ساتھ معاملات وقوع پذیر نہیں ہوتے، بلکہ جو مبیع پر لکھا ہوا وزن ہے وہ صفت کا درجہ رکھتا ہے
"كالذرع في الثوب". وقال في الهداية: وبخلاف ما إذا باع مزارعة لأن الزيادة له إذ الزرع وصف في الثوب. (الهداية: ۳/۷۵).
قال في العناية: ولو اشتري المعدود عداً فهو كالمذروع فيما يروي عن أبي يوسف رحمه الله ومحمد رحمه الله وهو رواية عن أبي حنيفة رحمه الله لأنه ليس بمال الربا، ولهذا جاز بيع الواحد بالاثنين فكان كالمذروع، وحكمه أنه لا يحتاج إلى إعادة الذرع إذا باع مذارعة. (شرح العناية: ٦/۵۱۸).
الغرض فی زمانہ عموم بلوی اور ضرورت کی بنا پر اس روایت پر فتوی دیا جا سکتا ہے ۔
احسن الفتاوی میں ہے:
بائع و مشتری دونوں کا مقصد وہ خاص ڈبا اور لفافہ ہوتا ہے اس پر لکھا ہوا وزن بیع میں مشروط نہیں ہوتا، اس لیے بدون وزن کیے اس میں تصرف جائز ہے ۔ (احسن الفتاوی: ٦/۴۹۹) ۔
مولانا فتح محمد صاحب لکھنوی رحمه الله نے عطر ہدایہ میں لکھا ہے:
ایسے برتن یا بوریاں (ڈبے) جن کا وزن متعین اور معلوم ہے ان میں دوبارہ وزن کی ضرورت نہیں ہے کیوں کہ ہر ظرف (برتن) اصطلاحی کیل ہے ۔
یعنی ہزار من گندم کو دو لاکھ روپے میں خریدا اور فی بوری دو من گندم ہے تو پانچ سو بوریاں گن لینا کافی ہے یوں سمجھ آ جائے گا کہ فی بوری کی قیمت ٤۰۰ روپے ہے ۔ (عطر ہدایہ: ۱۷۹) ۔
نیز فی زمانہ اکثر خرید و فروخت بالتعاطی ہوتی ہے، ایجاب و قبول کا نام و نشان نہیں ہوتا ۔
در مختار میں ہے: (
غير الدراهم والدنانير) لجواز التصرف فيهما بعد القبض قبل الوزن كبيع التعاطي فإنه لا يحتاج في الموزونات إلى وزن المشتري ثانياً لأنه صار بيعاً بالقبض بعد الوزن، قنية. وقال ابن عابدين رحمه الله: عبارة البحر وهذا كله في غير بيع التعاطي
وظاهر قوله وهذا كله أنه لا يتقيد بالموزونات بل التعاطي في المكيلات والمعدودات كذلك. (الدر المختار مع رد المحتار: ۵/۱۵۰).
احسن الفتاوی میں ہے:
سوال: ایک دودھ والے سے ہمیشہ دودھ متعین مقدار میں لیا جاتا ہے مگر ہمارے روبرو وزن نہیں کرتا بلکہ وزن کر کے لاتا ہے اور ہمارے برتن میں ڈال جاتا ہے ہمیں اس کے وزن پر اعتماد ہے دوسرا سوال: آج کل شہری لوگوں نے یہ وتیرہ اختیار کیا ہے کہ دکاندار کو فون پر کہہ دیا کہ فلاں فلاں اشیاء اتنی اتنی مقدار میں تول کر رکھو پھر کسی ذریعہ سے وہ تلی ہوئی اشیاء منگواتے ہیں ؟
الجواب: ان دونوں صورتوں میں بیع بالتعاطی ہے اس لیے خریدار پر دوبارہ وزن کرنا ضروری نہیں (احسن الفتاوی: ٦/۴۹۸) ۔
خلاصہ یہ ہے کہ متعین وزن والی اشیاء کو بلا وزن فروخت کرنا درج ذیل وجوہات کی بنا پر جائز اور درست ہے:
٭مشینی آلات سے ناپ تول ہونے کی وجہ سے جہالت اور کمی بیشی کا امکان بہت کم ہے ۔
٭موجود ہ دور میں اکثر معاملات بلا شرطِ وزن وقوع پذیر ہوتے ہیں ۔
٭بیع تعاطی کی وجہ سے گنجائش ہے ۔
٭حضرت شاہ صاحب رحمه الله کے نزدیک اعادۂ وزن فقط مستحب ہے ۔
٭ہر پیکٹ و ظرف اصطلاحی وزن کا آلہ ہے ۔
٭متعین وزن والی اشیاء تقریباً عددِ متقارب کے درجہ میں آ گئی ہیں ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.