غیر مطعومات میں بیع قبل القبض کی تحقیق:

4 min readFatwa Vol 5 #36Urdu
Vol. 5كتاب البيوعباب (۱، ۲، ۳): جائز اور ناجائز خرید و فروخت کے احکام

Question

بعض مرتبہ تاجر حضرات بعض چیزیں باہر سے منگواتے ہیں اور پہنچنے سے پہلے ان کو فروخت کر دیتے ہیں، کیا اس طرح کرنا جائز ہے یا نہیں؟

Answer

امام ابو حنیفہ رحمه الله کے نزدیک منقولی چیزوں کی بیع قبضہ سے پہلے ناجائز ہے، ہاں اگر مشتری کے ساتھ وعدہ کر لیا جائے اور پہنچنے کے بعد فروخت کر لے تو درست ہے یا مال منگوانے والا دوسرے ملک میں کسی کو وکیل بالقبض بنا دے تو وکیل کے قبضہ کے بعد اس کو آگے فروخت کر سکتا ہے، لیکن مشتری کے لیے خیارِ رؤیت ہوگا ۔
البتہ امام مالک رحمه الله و امام احمد رحمه الله کے نزدیک غیر مطعومات میں بیع قبل القبض جائز اور درست ہے، اگر ابتلائے عام ہو تو اس قول پر فتوی دینے کی گنجائش معلوم ہوتی ہے ۔
محدث العصر حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمه الله تحریر فرماتے ہیں:
ہمارے عصر حاضر کے اکابر رحمه الله نے فسخ نکاح کی مشکلات کو اسی طرح حل کیا ہے اور متأخرین حنفیہ نے مسئلہ مفقود الخبر میں بھی ایسا ہی کیا ہے البتہ تلفیق سے احتراز کرنا ضروری ہوگا اور تتبع رخص کو مقصد نہ بنایا جائے گا مثلاً مسائل معاملات میں بیع قبل القبض ہے کہ آج کل تمام تاجر طبقہ اس میں مبتلا ہے اب اس کی صورت حال پر غور کر کے پوری طرح جائزہ لیا جائے کہ یہ ابتلاء اگر واقعی ہے اور موجود ہ معاشرہ مضطر ہے اور بغیر اس کے چارۂ کار نہیں تو مذہب مالکیہ پر فتوی دیا جائے گا، کہ عدم جواز بیع قبل القبض مطعومات کے ساتھ مخصوص ہے اس مسئلہ میں مذہب حنبلی بھی مذہب مالکی جیسا ہے اور حدیث میں صراحۃً طعام ہی کا ذکر ہے
"نهي رسول الله ﷺ عن بيع الطعام قبل أن يستوفيه". (سنن)
۔ امام ابو حنیفہ رحمه الله و امام شافعی رحمه الله نے طعام پر بقیہ چیزوں کو قیاس کر کے منع کر دیا ۔ (بینات، ربیع الثانی ۱۳۸۳؁ ھ /ستمبر۱۹٦۳؁ء، بعنوان فکر و نظر، ص ٤، ۵ ۔ بحوالہ غیر سودی بینکاری از حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب، ص۲۹۱) ۔
جدید فقہی مسائل میں ہے:
بیع فاسد کے سلسلہ میں یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر بیع میں فساد حق شرع کی بنا پر پیدا ہوا ہو اور وہ کسی کار گناہ پر مشتمل ہو تو یہ بہرحال باعث گناہ ہے، اگر نزاع کے اندیشہ سے ہوا ہوا اور عملاً نزاع نہ پیدا ہو تو گو قضاء ً بیع فاسد ہو گی، لیکن دیانۃً درست و صحیح ہو جائے گی، اس سلسلہ میں مولانا انور شاہ صاحب کی یہ تحریر چشم کشا ہے:

إن من البيوع الفاسدة ما لو أتي بها أحد جازت ديانة وإن كانت فاسدة قضاءً وذلك لأن الفساد قد يكون لحق الشرع بأن اشتمل العقد على مآثم فلا يجوز بحال وقد يكون الفساد لمخالفة التنازع ولا يكون فيه شيء آخر يوجب الإثم فذلك إن لم يقع فيه التنازع جاز عندي ديانة وإن بقي فاسداً قضاءً لارتفاع علة الفساد وهي المنازعة ويدل عليه مسائلهم في باب المضاربة والشركة فإنها ربما تكون فاسدة مع أن الربح يكون طيباً وراجع "الهداية" ونبه الحافظ ابن تيمية رحمه الله في رسالته على أن من البيوع ما لا يقع فيه النزاع فتكون تلك جائزة فإذا أدخلتها في الفقه وجدتها محظورة لأن أكثر أحكام الفقه تكون من باب القضاء والديانات فيها قليلة وإنما يصار إلى القضاء بعد النزاع فإذا لم يقع النزاع ولم يرفع الأمر الي القاضي نزل حكم الديانة لا محالة فيبقي الجواز. (فيض الباري: ۳/۲۵۸).

اس لیے راقم الحروف کا خیال ہے کہ "بیع قبل القبض" کی ممانعت حق عبد کی بنا پر ہے نہ کہ حق شرع کی بنا پر اور اس کا فساد قضاء ً ہے نہ کہ دیانۃً ۔ (جدید فقہی مسائل: ٤/۲۱۳ ۔ ۲۱٤) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.