بیع قبل القبض کا حکم:

9 min readFatwa Vol 5 #35Urdu
Vol. 5كتاب البيوعباب (۱، ۲، ۳): جائز اور ناجائز خرید و فروخت کے احکام

Question

بعض تاجر سامان باہر سے منگواتے ہیں، باہر والوں کے ساتھ جب معاملہ طے ہو جاتا ہے تو وہ تاجر سامان کے آنے سے پہلے ہی دکانداروں کے پاس جاتے ہیں اور آرڈر لے کر پیسہ بھی وصول کرتے ہیں حالانکہ ابھی تک سامان ان کے قبضے میں نہیں آیا، اور بعض مرتبہ صرف آرڈر لیتے ہیں پیسہ وصول نہیں کرتے، تو اس طرح کرنا جائز ہے یا نہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ یہ معاملہ بیع قبل القبض کے قبیل سے ہے شریعتِ مطہرہ اس کی اجازت نہیں دیتی ۔ بیع قبل القبض میں احتمال غرر، ربح ما لم یضمن، احتمال ربا النسیئہ ہے ان بنیادی وجوہات کی بنا پر اس قسم کے معاملات سے احتراز لازم اور ضروری ہے ۔
البتہ اس قسم کے معاملہ کے جواز کی چند صورتیں مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمه الله نے احسن الفتاوی میں تحریر فرمائی ہے:
ملاحظہ ہو احسن الفتاوی میں ہے:
مال پر قبضہ کرنے سے قبل اس کی بیع جائز نہیں، لہذا یہ منافع بھی حلال نہیں اس کی تصحیح کی دو صورتیں ہیں:
(۱) جہاں مال خریدا ہے وہاں کسی کو یا مال بردار کمپنی کو وکیل بالقبض بنا دے، اس کے قبضہ کے بعد بیع جائز ہے ۔
(۲) مال پہنچنے سے قبل بیع نہ کرے بلکہ وعدۂ بیع کرے، بیع مال پہنچنے کے بعد کرے، اس صورت میں جانبین میں سے کوئی انکار کر دے تو صرف وعدہ خلافی کا گناہ ہوگا، بیع پر اسے مجبور نہیں کیا جا سکتا ۔ (ہاں اگر ہلاک ہو جائے تو مشتری کا مال ہلاک نہیں ہوگا بلکہ بائع کا مال ہلاک ہوگا) ۔
اگر مال پہنچانے کا کرایہ خریدار ادا کرتا ہے تو اس کے اذن سے بائع کا کسی بھی مال بردار کمپنی کی تحویل میں مال دے دینا مشتری کا قبضہ شمار ہوگا، اگر چہ مشتری نے کسی خاص کمپنی کی تعیین نہ کی ہو کمپنی کی تحویل میں آ جانے کے بعد بیع جائز ہے ۔ (اگر ہلاک ہوگا تو مشتری کا مال ہلاک ہوگا) ۔ (احسن الفتاوی: ٦/۵۲۵) ۔
ملاحظہ ہو حدیث شریف میں ہے:

عن ابن عباس رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ قال: من ابتاع طعاماً فلا يبعه حتى يستوفيه قال ابن عباس رضي الله عنه وأحسب كل شيء مثله. (رواه مسلم: ۲/۵، باب بطلان بيع المبيع قبل القبض).

ایک دوسری روایت میں ہے:

عن ابن عمر رضي الله عنه قال: كنا في زمان رسول الله ﷺ نبتاع الطعام فيبعث علينا من يأمرنا بانتقاله من المكان الذي ابتعناه فيه إلى مكان سواه قبل أن نبيعه. (رواه مسلم: ۲/۵، باب بطلان بيع المبيع قبل القبض).

احناف کے نزدیک ان احادیث میں ممانعت کی علت غررِ انفساخِ عقد ہے، علامہ ابن الہمام رحمه الله (۸٦۱ م) فتح القدیر میں فرماتے ہیں:

ومن اشتري شيئاً مما ينقل ويحول لم يجز له بيعه حتى يقبضه، لأنه عليه السلام نهي عن بيع مالم يقبض ولأن فيه غرر انفساخ العقد على اعتبار الهلاك

ثم علل الحديث (لأن فيه غرر انفساخ العقد) على اعتبار هلاك المبيع قبل القبض فيتبين حينئذٍ أنه باع ملك الغير بغير إذنه وذلك مفسد للعقد، وفي الصحاح أنه ﷺ نهي عن بيع الغرر. (فتح القدير: ٦/۵۱۰، ۵۱۲، دار الفكر).
تكمله فتح الملهم
میں ہے:

إن العلة في النهي عن بيع المبيع قبل القبض هي أنه يستلزم ربح مالم يضمن وإنما يضمن الإنسان ما يخاف فيه الهلاك وأما العقار فلا يخشى فيه ذلك إلا نادراً، حتى لو كان العقار على شط البحر أو كان المبيع علواً لا يجوز بيعه قبل القبض. (تكملة فتح الملهم: ۱/۳۵۳).

جدید فقہی مباحث میں ہے:
بیع قبل القبض کی ممانعت متعدد احادیث میں وارد ہوئی ہے، ائمہ مجتہدین نے ان احادیث کو معلول بالعلۃ قرار دیا ہے، اگر علت پائی جائے گی تو ممانعت کا حکم باقی رہے گا، ورنہ نہیں، ائمہ مجتہدین کے کلام میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قبل القبض بیع کی ممانعت کی تین علتیں ہیں: (۱) احتمال غرر ۔ (۲) ربح ما لم یضمن ۔ (۳) احتمال ربا النسیئہ ۔ (جدید فقہی مباحث: ۱۵/۱٤۱) ۔
اہم فقہی فیصلے میں مذکور ہے:
دورِ حاضر میں خرید و فروخت کی بہت سی ایسی صورتیں مروج ہیں جن میں فروخت شدہ شے پر قبضہ کے بغیر خریدار دوسروں کے ہاتھ فروخت کرتا ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے بیع قبل القبض سے منع فرمایا ہے، اسی پس منظر میں ایسے مروجہ معاملات کی بابت اسلامک فقہ اکیڈمی کے نویں سیمینار منعقدہ جامعۃ الہدایہ جے پور میں درج ذیل باتیں طے پائیں:
اصولی طور پر قبضہ سے پہلے کسی چیز کو فروخت کرنا جائز نہیں ہے، تاہم اگر قبضہ سے پہلے بیع کر دی جائے تو یہ بیع فاسد ہوگی نہ کہ باطل اور قبضہ کے بعد مفیدِ ملک ہو گی ۔ (اہم فقہی فیصلے، ص۱۰۰) ۔
نئے مسائل اور علمائے ہند کے فیصلے میں مذکور ہے:
بیع قبل القبض کی ممانعت "غررِ انفساخ" کی علت پر مبنی ہے، یعنی جب تک مبیع خریدارِ اول کے ہاتھ نہ آ جائے اس بات کا اندیشہ موجود ہے کہ مبیع اس کے قبضہ میں آ ہی نہ پائے اور وہ خریدارِ دوم کو مبیع کی حوالگی پر قادر نہ رہے ۔ (نئے مسائل اور علمائے ہند کے فیصلے، ص۱۰٦) ۔
فقہی مقالات میں ہے:
شرعی احکام کے لحاظ سے یہ ضروری ہے کہ جس چیز کو آپ فروخت کر رہے ہیں وہ وجود میں آ چکی ہو، اور وہ چیز آپ کی ملکیت میں ہو، اور آپ کے قبضہ میں بھی ہو، البتہ چاہے اس پر حقیقی قبضہ ہو یا حکمی و عرفی قبضہ ہو، اب مسئلہ یہ ہے کہ اگر ایک چیز ہمارے پاس موجود نہیں ہے، اور اس چیز کا آرڈر ہمارے پاس آیا ہے، تو اس صورت میں ہم اس آرڈر دینے والے کے ساتھ بیع کا معاملہ نہیں کریں گے، بلکہ وعدۂ بیع کا معاملہ کریں گے ۔ (فقہی مقالات: ۳/۷٦) ۔
جدید فقہی مسائل میں ہے:
بیع فاسد کے سلسلہ میں یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر بیع میں فساد حق شرع کی بنا پر پیدا ہوا ہو اور وہ کسی کار گناہ پر مشتمل ہو تو یہ بہرحال باعثِ گناہ ہے، اگر نزاع کے اندیشہ سے ہوا ہوا اور عملاً نزاع نہ پیدا ہو تو گو قضاء ً بیع فاسد ہو گی، لیکن دیانۃً درست و صحیح ہو جائے گی، اس سلسلہ میں مولانا انور شاہ صاحب رحمه الله کی یہ تحریر چشم کشا ہے:

إن من البيوع الفاسدة ما لو أتي بها أحد جازت ديانة وإن كانت فاسدة قضاءً وذلك لأن الفساد قد يكون لحق الشرع بأن اشتمل العقد على مآثم فلا يجوز بحال وقد يكون الفساد لمخالفة التنازع ولا يكون فيه شيء آخر يوجب الإثم فذلك إن لم يقع فيه التنازع جاز عندي ديانة وإن بقي فاسداً قضاءً لارتفاع علة الفساد وهي المنازعة ويدل عليه مسائلهم في باب المضاربة والشركة فإنها ربما تكون فاسدة مع أن الربح يكون طيباً وراجع "الهداية" ونبه الحافظ ابن تيمية رحمه الله (۷۲۸م) في رسالته على أن من البيوع ما لا يقع فيه النزاع فتكون تلك جائزة فإذا أدخلتها في الفقه وجدتها محظورة لأن أكثر أحكام الفقه تكون من باب القضاء والديانات فيها قليلة وإنما يصار إلى القضاء بعد النزاع فإذا لم يقع النزاع ولم يرفع الأمر الي القاضي نزل حكم الديانة لا محالة فيبقي الجواز. (فيض الباري: ۳/۲۵۸).

اس لیے راقم الحروف کا خیال ہے کہ "بیع قبل القبض" کی ممانعت حق عبد کی بنا پر ہے نہ کہ حق شرع کی بنا پر اور اس کا فساد قضاء ً ہے نہ کہ دیانۃً ۔ (جدید فقہی مسائل: ٤/۲۱۳ ۔ ۲۱٤) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.