مال پہنچنے سے قبل ضائع ہونے پر تاوان کا حکم:
Question
زید نے عمر و سے کافی سارا مال خریدا اور عمر و سے کہا کہ کسی ٹرک کے حوالہ کر دو، عمر و نے ایسا ہی کیا، راستہ میں چوروں نے مال لوٹ لیا، تو تاوان بائع پر لازم ہو گا یا مشتری اس کا ذمہ دار ہے؟
Answer
شریعت اسلامیہ میں صرف بیع ہو جانے اور ملکیت ثابت ہو جانے سے ضمان منتقل نہیں ہوتا، جب تک خریدار کا اس پر قبضہ نہ ہو جائے، اور قبضہ کی حقیقت اور خاص صورت قرآن و حدیث میں مقرر نہیں لہذا اس کا مدار عرف پر ہو گا، بنا بریں جب تک مشتری کو عرفاً قبضہ حاصل نہ ہو جائے بائع ہی کی ملکیت قرار دی جائے گی اور ہلاک ہونے کی صورت میں بائع ذمہ دار ہو گا، ہاں اگر عرفاً قبضہ حاصل ہو گیا تھا پھر ہلاک ہوا تو مشتری اس کا ذمہ دار ہے ۔
چنانچہ صورتِ مسئولہ میں ترسیل کا عمل مشتری کے حکم سے ہوا اور اس کا خرچہ بھی مشتری نے ادا کیا تو یہ عرفی قبضہ سمجھا جائے گا اور ضائع ہونے کی صورت میں مشتری اس کا ذمہ ہو گا، اور اگر ترسیل اور روانہ کرنے کا حکم تو مشتری نے دیا تھا لیکن خرچہ وغیرہ بائع نے ادا کیا تو اس صورت میں بھی قبضہ متحقق ہو جائے گا اور ہلاک ہونے پر مشتری ہی ذمہ دار ہو گا، اور اگر بائع نے از خود ارسال کیا نہ مشتری نے حکم دیا اور نہ مشتری نے خرچہ وغیرہ ادا کیا، اس صورت میں ہلاک ہونے پر بائع ذمہ دار ہو گا، کیوں کہ قبضہ متحقق نہیں ہوا ۔
ملاحظہ ہو رد المحتار میں ہے:
وحاصله أن التخلية قبض حكماً لو مع القدرة عليه بلا كلفة لكن ذلك يختلف بحسب حال المبيع،
قال أجمعوا على أن التخلية في البيع الجائز تكون قبضاً
اشتري وعاء لبن خاثر في السوق فأمر البائع بنقله إلى منزله فسقط في الطريق فعلي البائع إن لم يقبضه المشتري،
إلا أن يقول (المشتري): ادفعه إلى الغلام لأنه توكيل للغلام والدفع إليه كالدفع إلى المشتري. (رد المحتار: ٤/۵٦۲، ۵٦۳، مطلب في شروط التخلية، سعيد. وكذا في الفتاوى البزازية على هامش الهندية: ٤/٤۹۹. والفتاوى الهندية: ۳/۱۹).
بدائع الصنائع میں ہے:
ولا يشترط القبض بالبراجم، لأن معني القبض هو التمكين والتخلي وارتفاع الموانع عرفاً وعادة حقيقة. (بدائع الصنائع: ۵/۱٤۸، سعيد).
وفيه أيضاً: وكذلك لو فعل البائع شيئاً من ذلك بأمر المشتري لأن فعله بأمر المشتري بمنزلة فعل المشتري بنفسه. (بدائع الصنائع: ۵/۲٤٦).
المغنی میں ہے:
لأن القبض مطلق في الشرع فيجب الرجوع فيه إلى العرف. (المغني لا بن قدامة الحنبلي، ٤/۲۲۰).
عطر ہدایہ میں ہے:
جو مال ریل یا ڈاک وغیرہ کے ذریعہ بھیجا جائے تو وہ روانہ کرتے ہی مشتری کے قبضہ میں سمجھا جائے گا، جس نے منگوایا ہے، اگر خریدار نے لکھا ہے کہ فلاں مال ریل یا ڈاک کے ذریعہ پارسل کر دو، اور مالک نے اس کے مطابق روانہ کیا اگر راستہ میں ضائع ہو گیا تو بائع ذمہ دار نہیں کیوں کہ بائع نے مشتری کے وکیل (یعنی ریل یا ڈاک) کے حوالہ کر دیا اور اگر مشتری نے نہیں منگوایا بلکہ بائع نے خود بھیجا تو یہ پارسل کرنا مشتری کا قبضہ نہیں ہے اب اگر مشتری تک پہنچنے سے پہلے ضائع ہو گیا تو مشتری اس کا ذمہ دار نہیں ہے ۔ (عطر ہدایہ، ص۱۸۷، پارسل کے احکام) ۔
وللاستزادة انظر: (شرح المجلة لمحمد خالد الأتاسي: ۲/۲۰۲، ۲۰٤.
واسلام اور جديد معاشي مسائل: ۳/۲۰۰، ۲۰٤. وجديد فقهي مسائل: ٤/۱۹٦، ۲۰۰. وجديد فقهي مباحث: ۱۵/۱۲. ۱٦، ۸۷، ۱۰۹، ۱۲۱، ۲۵٤).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.