مبیع پر قبضہ کے بارے میں اختلاف کا حکم:

3 min readFatwa Vol 5 #69Urdu
Vol. 5كتاب البيوعباب (۱، ۲، ۳): جائز اور ناجائز خرید و فروخت کے احکام

Question

ایک آدمی نے درخت خریدا اب مشتری اس کو اکھاڑنا چاہتا ہے اور بائع زمین کے اوپر کاٹنے کو کہتا ہے، کس کی بات مانی جائے گی؟

Answer

بوقتِ شراء درخت کا سودا بلا کسی شرط کے ہوا تھا تو مشتری جڑ سے کاٹ سکتا ہے، اور اس صورت میں قریبی کنویں یا دیوار وغیرہ کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ نہ ہو، ورنہ سطح زمین سے کاٹنا ہی لازم ہوگا، اور اگر سطح زمین سے کاٹنے کی شرط کے ساتھ خریدا ہے تواسی کے مطابق عمل کرنا ضروری ہوگا ۔ اور اگر کوئی شرط نہ ہو تو عرف پر مدار ہوگا ۔
ملاحظہ ہو البحر الرائق میں ہے:

وفيها إذا اشترى شجرة للقلع فإنه يؤمر بقلعها بعروقها وليس له حفر الأرض إلى انتهاء العروق بل يقلعها على العادة إلا إن شرط للبائع القلع على وجه الأرض أو يكون في القلع من الأصل مضرة على البائع كما إذا كانت بقرب حائط أو بئر لأنه فإنه يقطعها على وجه الأرض. (البحر الرائق: ۵/۲۹٤، كتاب البيع، فصل يدخل البناء والمفاتيح في بيع الدار).

رد المحتار میں ہے:

اشترى شجرة للقلع يؤمر بقلعها بعروقها وليس له حفر الأرض إلى انتهاء العروق بل يقلعها على العادة إلا إن شرط البائع القطع على وجه الأرض أو يكون في القلع من الأصل مضرة للبائع ككونها بقرب حائط أو بئر فيقطعها على وجه الأرض. (رد المحتار: ٤/۵۵٤، كتاب البيوع، مطلب في بيع الثمر والزرع والشجر مقصودا، سعيد).

خلاصۃ الفتاوی میں ہے:

ولو اشترى الشجر مطلقاً له أن يقطع من الأصل. (خلاصة الفتاوى: ۳/۲۸، كتاب البيوع، الفصل الثالث فيما يجوز بيعه وفيما لا يجوز).

قاضيخان میں ہے:

رجل اشتري شجرة بشرط أن يقلعها تكلموا في جوازه والصحيح أنه يجوز وللمشتري أن يقلعها من أصلها، وإن اشتري بشرط القلع

وله أن يقطعها من وجه الأرض فأما عروقها في الأرض لا تكون له إلا بالشرط. (فتاوى قاضيخان على هامش الهندية: ۲/۲٤۵، كتاب البيوع).
وللاستزادة: انظر: (الفتاوى الهندية: ۳/۳۵، كتاب البيوع، باب ما يجوز بيعه ومالا يجوز. فتاوى حقانية: ٦/٦۰، كتاب البيوع، باب ما يجوز بيعه ومالا يجوز).

عطر ہدایہ میں ہے:
اگر اس علاقہ کا عرف درختوں کو اوپر سے کاٹ لینے کا ہویا ایک گز تک کھود کر تنہ نکالنے کا ہو تو عرف کے مطابق ہی عمل کیا جائے گا، اطراف و جوانب سے جڑیں نہیں نکالی جائیں گی، مگر یہ عقد کے وقت صراحت کے ساتھ طے ہو جائے کہ دائیں بائیں سے بھی جڑیں نکالی جائیں گی ۔
مسئلہ: جب جڑوں کے قریب کھودنے سے بائع کا نقصان ظاہر ہوتا ہو تو مشتری کو کھودنے سے روکا جائے گا جیسے کوئی دیوار یا کنواں ۔ (عطر ہدایہ، ص۱۸٦) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.