حدیث "أنا أملح وأخي یوسف أصبح" کی تحقیق:

3 min readFatwa Vol 1 #196Urdu
Vol. 1كتاب الحديث والآثارآیاتِ قرآنی کی تفسیر و تشریح اور تجوید سے متعلق مسائل

Question

لوگوں میں ایک حدیث مشہور ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "
أنا أملح وأخي يوسف أصبح"
مجھے اللہ تعالی نے بہت ملاحت سے نوازا اور میرے بھائی یوسف علیہ السلام بہت خوبصورت ہیں ۔ یہ حدیث ہے یا نہیں؟ اور اگر رسول اللہ ﷺ یوسف علیہ السلام سے زیادہ خوبصورت تھے تو پھر انگلیوں کے کاٹنے کا واقعہ یوسف علیہ السلام کے ساتھ پیش آیا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کیوں پیش نہیں آیا؟

Answer

اس روایت کو حضرت شاہ ولی اللہ نے اپنے رسالہ
"الدر الثمين في مبشرات النبي الأمين"
میں تحریر فرمایا ہے ۔ حضرت شاہ صاحب رحمہ اللہ نے اپنے والد سے اور انہوں نے "
بلغني"
کے ساتھ ذکر فرمایا ہے، اور آگے رسول اللہ ﷺ سے منامی تصدیق نقل فرمائی ہے ۔ الفاظ ملاحظہ فرمائیں:

أخبرني سيدي الوالد قال: بلغني أن النبي ﷺ قال: أنا أملح وأخي يوسف أصبح فتحيرت في معناه لأن الملاحة توجب قلق العشاق أكثر من الصباحة وقد روي في قصة سيدنا يوسف عليه الصلاة والسلام أن النساء قطعن أيديهن حين رأينه وأن الناس ماتوا عند رؤيته ولم يرو عن نبينا ﷺ من هذا الباب شيء، فرأيت النبي ﷺ في المنام فسألته عن ذلك فقال: جمالي مستور عن أعين الناس غيرة من الله عز وجل ولو ظهر لفعل الناس أكثر مما فعلوا حين رأوا يوسف. (الدر الثمين، ص: ۱٦۱، الحديث العشرون).

(۱) جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے میرے جمال اور خوبصورتی کو لوگوں کی آنکھوں سے چھپایا ہے اگر پورا جمال ظاہر ہوتا تو لوگ وہی کچھ کرتے جو یوسف علیہ السلام کو دیکھ کر کیا تھا ۔ (۲) دوسرا جواب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یوسف علیہ السلام کے ساتھ یہ واقعہ ہمیشہ پیش نہیں آیابلکہ خاص وقت میں خاص عورتوں کے ساتھ ہوا یہ نہیں ہوا کہ جب بھی یوسف علیہ السلام کو لوگ دیکھتے تو بے ہوش ہو کر گر جاتے یا مر جاتے ۔ رسول اللہ ﷺ کے جمال کو اللہ تعالی نے ایسی ناتواں اور کمزور لوگوں کی نظر سے بچایا ۔ خلاصہ یہ ہے کہ عورتوں کی کمزوری تھی ۔
(۳) تیسرا جواب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے جمال باکمال کی محبت میں کتنے صحابہ کرام نے اپنی گردنیں کٹوائیں، گردنیں کٹوانا رسول اللہ ﷺ کے دین اور آپ کی محبت میں تھا، الغرض شہادت کے واقعات سب جمالِ نبوی پر سرفروشی کی مثالیں بن سکتی ہے ۔

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.