بیعت طریقت کی حقیقت، کیا پیری مریدی جوگیانہ طریقہ ہے؟

5 min readFatwa Vol 1 #197Urdu
Vol. 1كتاب السلوك والطريقةباب ١: بیعتِ طریقت کی حقیقت کا بیان

Question

بندہ ایک بزرگ سے مرید ہے پہلے یہ حال تھا کہ کبھی نماز پڑھی اور کبھی نہیں ۔ زبان کو گالی کی عادت تھی، جھوٹ کثرت سے بولتا تھا جھوٹی قسمیں کھایا کرتا تھا، قرآن مجید کی تلاوت صرف رمضان میں کبھی کر لیا کرتا تھا آمدنی میں حرام حلال کی تمیز بالکل نہیں کرتا تھا ۔ بڑوں بوڑھوں کا ادب بالکل نہیں کرتا تھا ۔ پڑوسیوں سے اکثر لڑائی اور بدسلوکی ہوتی تھی بیعت کے بعد ان سب گناہوں اور خطاؤں کی آہستہ آہستہ اصلاح ہوئی جس کا احساس میرے ملنے والوں کو بھی ہے نماز کی پابندی نصیب ہوئی اور الحمد للہ ایسا دل لگتا ہے جیسے بالکل اللہ تعالی کے سامنے حاضر ہے اور اپنے پیر صاحب کی خدمت میں حاضری کے وقت گزشتہ گناہ یاد آ کر رونا آتا ہے اور توبہ کی توفیق نصیب ہوتی ہے ۔ بندہ سمجھتا ہے کہ یہ سب بیعت کی برکت ہے ۔ لیکن ایک صاحب نے کہا کہ یہ پیری مریدی تو جوگیوں اور بدھ مذہب کا طریقہ ہے وہ ایجابی کام کم کراتے ہیں اور سلبی کام زیادہ کراتے ہیں ۔ بلکہ ان کے ہاں سب سلبی ہی سلبی تعلیم ہے ۔ کہ فلاں کام نہ کرو فلاں کام نہیں کرنا ۔ بس آدمی کو عضو معطل اور مفلوج بنا کر رکھ دیتے ہیں غرض اس طریقہ میں کوئی خوبی نہیں اور یہ کتاب و سنت سے ثابت بھی نہیں ہے حضور اکرم ﷺ سے تو اسلام کی بیعت ثابت ہے کہ وہ کافروں کو مسلمان بناتے تھے نہ یہ کہ وہ مسلمانوں کو بیعت کیا کرتے تھے ۔ بندہ ان صاحب کو جواب نہیں دے سکا مرید ہونے کا فائدہ خود کو تو محسوس ہو رہا ہے لیکن ان صاحب کو جواب دینے کے لیے اپنے پاس سامان نہیں ہے آپ سے گزارش ہے کہ اس کا جواب عنایت فرمائیں ۔

Answer

ان صاحب سے یہ عرض کریں کہ وہ سورۃ الفتح پڑھیں اس میں ارشاد ہے ۔

﴿إن الذين يبايعونك إنما يبايعون الله﴾
الآیۃ پھر چند آیات کے بعد یعنی تیسرے رکوع کے شروع میں ہے
﴿لقد رضي الله عن المؤمنين اذ يبايعونك تحت الشجرة﴾
الآیۃ یہاں مؤمنین بلکہ اعلی درجہ کے صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم سے بیعت لی گئی جن میں وہ حضرات بھی ہیں جو مکہ مکرمہ میں ایمان لا چ کے تھے اور دین اسلام کی خاطر بڑی تکلیفیں برداشت کر چ کے تھے اور ان کا شمار مہاجرین اولین میں ہے ۔ اور غزوات میں حضرت رسول مقبول ﷺ کے ساتھ برابر شریک رہتے تھے یہ بیعت اسلام قبول کرنے کے لیے نہیں تھی اسلام تو ان کو بہت پہلے سے حاصل تھا جو کہ بہت قوی تھا ۔
اور سورۂ ممتحنہ پڑھیں جس میں ارشاد ہے:

﴿يا أيها النبي إذا جاء ك المؤمنات يبايعنك على إن لا يشركن بالله شيئاً ولا يسرقن ولا يزنين ولا يقتلن أولادهن ولا يأتين ببهتان يفترينه بين أيهديهن وأرجلهن ولا يعصينك في معروف فبايعهن﴾. (الآية: ۱۲).

اس آیتِ شریفہ میں اللہ تعالی نے چھ چیزوں پر بیعت لینے کا حکم فرمایا ہے اور سب سلبی ہیں اگر غور کریں تو سمجھ میں آئے گا کہ چھٹی چیز تمام ایجابات کو حاوی ہے یعنی حضور ﷺ کی کسی معروف میں نا فرمانی نہ کریں جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر فرمان میں اطاعت کریں یہ صورۃً تو سلب ہے اور حقیقتاً سب سے بڑا ایجاب ہے اس کے علاوہ بعض صحابہ سے بھی اور بھی کسی خاص چیز پر بیعت لینا ثابت ہے ۔ بزرگانِ دین جو بیعت لیتے ہیں وہ جوگیوں اور بدھ مذہب والوں کی پیروی نہیں کرتے بلکہ حضرت رسول اکرم ﷺ کی پیروی کرتے ہیں کہ چند کبائر سے صراحتاً توبہ کراتے ہیں اور ہر نا فرمانی سے روک کر طاعت رسول اللہ ﷺ پر آمادہ کرتے ہیں جیسا کہ حدیث شریف میں صاف صاف موجود ہے:

. رضي الله عنه. ﷺ. متفق عليه مشكاة المصابيح ۱۳، كتاب الإيمان)

مشائخ تصوف چشتی، قادری، نقشبندی، سہروردی سب کے یہاں بیعت کا طریقہ یہی ہے اور بہت بڑی مخلوق کو اس کے ذریعہ تزکیۂ باطن ہو کر نسبت سلسلہ حاصل ہوتی ہے اخلاقِ رذیلہ دور ہو کر اخلاقِ فاضلہ نصیب ہوتے ہیں ۔ (
والله الموفق لما يحب ويرضى) والله أعلم
(از حضرت مفتی محمود حسن گنگوہی نور اللہ مرقدہ) ۔

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.