کپڑوں میں استصناع کا حکم:

5 min readFatwa Vol 5 #118Urdu
Vol. 5كتاب البيوعباب (۵): بیع سلم اور استصناع کا بیان

Question

ایک شخص نے چین میں ایک فیکٹری کو کپڑے بنانے کا آرڈر دے دیا، لیکن اس میں اجل مقرر نہیں کی، تو اگر یہ بیع استصناع ہے تو بقولِ فقہاء کپڑوں میں استصناع جائز نہیں ہے، اور اگر بیع سلم ہو تو اجل کا ذکر نہیں ہے تو یہ کون سا عقد ہے اور اس کا کیا حکم ہے؟

Answer

بصورتِ مسئولہ یہ عقد استصناع ہے، اور فقہاء کے ناجائز کہنے کا مدار عرف ہے ان کے زمانے میں کپڑوں میں استصناع کا عرف نہیں تھا، جب کہ فی زمانہ کپڑوں کو آرڈر دے کر تیار کرانے کا عرفِ عام ہے، اس وجہ سے اس کی گنجائش ہونی چاہیے، نیز علامہ فتح محمد صاحب لکھنوی رحمه الله نے تکملہ عمدۃ الرعایہ میں تحریر فرمایا ہے کہ ہر چیز میں استصناع جائز اور درست ہے چاہے اس کا عرف ہو یا نہ ہو ۔
ملاحظہ ہو تکملہ عمدۃ الرعایہ میں ہے:

قول مشايخنا إن الاستصناع فيما يتعامل الناس فيه كان في زمانهم أما في زماننا لا كفاية لنا عليه بل لا حاجة إليه، لكن المحتاج إليه أمر لا يعتاد الناس به بل لا يعرفه كما ترى في كثير من الآلات والأشياء التي يخترع ويؤمر به الصناعون وإن نهيناهم عنه يختل الأمر ويفضي إلى مالا يسمع فوقها أحد من السامعين فضلاً عن الجاهلين ولذلك إشارة في ما ذكرناها لأن الآية ساكتة (أي آية المداينة) فصارت مطلقة والحديث (أي حديث صناعة المنبر) دال على ما هو حاجتي لأن العرب لا يعرفون المنبر حتى قالت امرأة: أجعل لك شيئاً تقعد عليه ووصفته وما ذكرته باسمه المنبر لأنه كان غير المعروف وأيضاً الخاتم المستصنع إن كانت مما يتعامل الناس فيه لكن النقش باسمه الشريف كان أمراً جديداً فهذا صريح مما لا يتعامل الناس فيه فينبغي أن يجوز في كل ما يمكن ضبطها ووضعها. (تكملة عمدة الرعاية حاشية شرح الوقاية: ۳/۸۳، فصل في الاستصناع، سعيد).

العرف و العادۃ میں ہے:

فالفقه أن ما جري العرف به صح استصناعه كالخفاف الأحذية والأواني وأثاث المنزل وعدد الحرب والثياب. وأما تصريح فقهائنا بأنه لا يجوز استصناع الثياب فذلك مبني على عرفهم، لأن الناس ما كانوا يتعاملون هذا النوع، وأما الآن فقد فشا هذا التعامل بين التجار والصناع في البلدان. (العرف والعادة في راي الفقهاء للدكتور احمد فهمي أبو سنة، ص ۱۷٦).

شرح مجلہ میں ہے:

كل شيء تعومل استصناعه يصح فيه الاستصناع على الإطلاق. (شرح المجلة: ۲/٤۰۳، لمحمد الأتاسي).
وفي الفقه الإسلامي: اشترط الحنفية لجواز الاستصناع شروطاً ثلاثة إذا فاتت أو فات واحد منها فسد العقد

(
۱
) بيان جنس المصنوع ونوعه وقدره وصفته

(
۲
) أن يكون المصنوع مما يجري فيه تعامل الناس كالمصنوعات والأحذية

ويصح في عصرنا الحاضر الاستصناع في الثياب لجريان التعامل فيه، والتعامل يختلف بحسب الأزمنة والأمكنة. (الفقه الإسلامي وأدلته: ۵/۳۰۸، الشروط التي تلحقه، دار الفكر، الطبعة الرابعة).

علامہ شامی رحمه الله نے فرمایا اجارہ فی الثیاب کو مشایخِ بلخ رحمه الله نے عرف کی وجہ سے جائز قرار دیا ہے ۔ ملاحظہ ہو شامی میں ہے:

بخلاف الاستصناع كان التعامل به جري في كل البلاد، وبمثله يترك القياس ويخص الأثر، وفي العناية: فإن قيل لا نتركه بل يخص عن الدلالة بعض ما في معني قفيز الطحان بالعرف كما فعل بعض مشايخ بلخ رحمه الله في الثياب لجريان عرفهم بذلك. (فتاوى الشامي: ٦/۵۹، مطلب يخص القياس والأثر بالعرف العام، سعيد).

محیط برہانی میں ہے:

ومشايخ بلخ رحمه الله كنصير بن يحيى ومحمد بن سلمة وغيرهما كانوا يفتون بجواز هذه الإجارة في الثياب لتعامل أهل بلدهم في الثياب والتعامل حجة يترك به القياس ويخص به الأثر. (المحيط البرهاني: ۹/۱۷۹، رشيدية).

عطر ہدایہ میں ہے:
امام ابو یوسف رحمه الله کے نزدیک جب استصناع سے بیع لازم ہو جاتی ہے تو اس شے کے متعارف ہونے کی شرط بے ضرورت ہے بلکہ استصناع سے مانع ہے کیوں کہ عام طور پر وہی چیز بنوائی جاتی ہے جو جدید قسم کی یا خاص وضع کی ہوتی ہے اگر ایسی چیزیں استصناع سے خارج ہو جائے تو استصناع کی ضرورت ہی نہیں رہے گی، امام ابو یوسف رحمه الله کے قول کی تائید اس روایت سے ہوتی ہے کہ جناب نبی کریم ﷺ نے مسجد نبوی ﷺ کے لیے لکڑی کا منبر بنوایا حالانکہ اس سے پہلے نہ منبر متعارف تھا نہ مستعمل ۔ (عطر ہدایہ، ص
۲۰۷
) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.