نمونہ کے مطابق نہ بنانے پر واپس کرنے کا حکم:
Question
اگر کسی شخص نے ایک کمپنی کو مال بنوانے آرڈر دیا اور اس نے وہ مال نمونے کے مطابق نہیں بنایا، تو کیا اس کو واپس کر سکتے ہیں یا نہیں؟
Answer
آرڈر دے کر مال بنوانے کو شریعت کی اصطلاح میں استصناع کہا جاتا ہے، اور عقدِ استصناع میں جب نمونہ کے مطابق نہیں بنایا تو واپس کرنا درست ہے ۔ ہاں نمونے کے مطابق ہو تو پھر واپس نہیں کر سکتا ۔
ملاحظہ فرمائیں شرح مجلہ میں ہے:
إذا انعقد الاستصناع فليس لأحد العاقدين الرجوع وإذا لم يكن المصنوع على الأوصاف المطلوبة المبينة كان المستصنع مخيراً. (شرح المجلة لمحمد خالد الأتاسي،
۲
/
٤۰٦
).
وفي شرح المجلة لسليم رستم باز اللبناني: قال: كان المستصنع مخيراً لفوات الوصف المرغوب فيه. (شرح المجلة، المادة: ۷۹۲: ۱/۲۲۱).
وفي الموسوعة الفقهية: وذهب أبو يوسف رحمه الله إلى أنه إن تم صنعه، وكان مطابقاً للأوصاف المتفق عليها، يكون عقداً لا زماً، وأما إن كان غير مطابق لها فهو غير لازم عند الجميع لثبوت خيار فوات الوصف
واللجنة ترجح (أي قول أبي يوسف رحمه الله كما اختاره صاحب المجلة) وتري لزوم عقد الاستصناع، لما يترتب على استقلال أحد الطرفين بفسخه من المضار إلا إذا جاء على خلاف الوصف المتفق عليه. (الموسوعة الفقهية: ۳/۳۲۹).
مالی معاملات پر غرر کے اثرات میں مولانا اعجاز احمد صاحب لکھتے ہیں:
تیسرا قول امام ابو یوسف رحمه الله کا ہے وہ فرماتے ہیں کہ مطلوبہ صفات کے مطابق سامان تیار ہونے کے بعد کسی کو فسخ کرنے کا اختیار نہیں ان کی دلیل یہ ہے کہ مطلوبہ صفات کے مطابق سامان تیار ہونے کے بعد کسی فریق کو عقد فسخ کرنے کا اختیار دینے سے دوسرے کا نقصان ہے عصر حاضر کے حالات و واقعات کی روشنی میں امام ابو یوسف رحمه الله کا قول زیادہ قابل عمل معلوم ہوتا ہے ۔ متعدد معاصر علمائے کرام نے بھی امام ابو یوسف رحمه الله کے قول کو ترجیح دی ہے، چنانچہ ڈاکٹر صدیق محمد الامین الضریر فرماتے ہیں:
والعمل برأي أبي يوسف رحمه الله أولى من العمل بالرأيين الصحيحين في المذهب في نظري لأنه لا ضرر فيه على المتعاقدين وهو أبعد عن الغرر
(الغرر وأثره في العقود، ص ٤٦۷).
شیخ مصطفی احمد زرقا فرماتے ہیں:
لزم اختيار قول أبي يوسف رحمه الله في هذا مراعاة لمصلحة الوقت. (مجلة مجمع الفقه الإسلامي).
مجمع الفقہ الاسلامی (اسلامی فقہ اکیڈمی جدہ) کی طے شدہ قرادداد میں بھی امام ابو یوسف رحمه الله کے قول کو اختیار کیا گیا ہے ۔ (مالی معاملات پر غرر کے اثرات، ص
٦۷
۔
۷۱
) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.