فلیٹ بنانے کا آرڈر لینے کے بعد نہ بنانے پر مثل دینے کا حکم:
Question
ایک بلڈر نے کسی جگہ پلاٹ خریدا اور اس پر ۱۵ منزلہ بلڈنگ تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا، زید نے بلڈر سے اسی عمارت کے دسویں منزلہ پر فلیٹ کا سودا کیا، فلیٹ کی سائز وغیرہ تفصیلات کے موافق ۸۰ لاکھ ثمن طے ہوا، زید نے پورا ثمن ادا کر دیا اور تین سال میں بلڈنگ تیار ہونے کا معاہدہ طے پایا، لیکن تین سال گزرنے پر بھی تعمیر کا کام شروع نہیں ہوا،، بلڈر نے مزید دو سال کی مہلت طلب کی، زید نے منظور کر لی، اب پانچ سال کے بعد بلڈر کا کہنا ہے کہ بلڈنگ نہیں بنے گی، لہذا آپ اپنے ۸۰ لاکھ واپس لے لے، زید راضی نہیں ہے، کیوں کہ زمین کی قیمتوں میں آئے دن اضافے ہوتے رہتے ہیں، اب آج کی تاریخ میں اتنی قیمت میں ایسا فلیٹ ملنا مشکل ہے، بلڈر نے کہا آج کی قیمت کے اعتبار سے پیسے لے لو، اس کے باوجود زید اس بات پر مصر رہا کہ مجھے فلیٹ ہی چاہیے، بلڈر نے کہا آپ خود تلاش کر لے میں پوری رقم ادا کر دوں گا چنانچہ زید نے ایک فلیٹ تلاش کیا اس کی قیمت دو کروڑ تھی بلڈر نے کہا میں صرف ایک کروڑ ادا کروں گا اس سے زائد نہیں ۔
اب دریافت طلب امور یہ ہیں: (۱) کیا زید کا بلڈر سے دو کروڑ کا مطالبہ کرنا اور لینا درست ہے؟
(۲) کیا زید کا اس طرح اصرار کرنا درست ہے؟ اور اگر بلڈر ایسا فلیٹ فراہم کر دے تو لینا درست ہے؟ اور بلڈر کو مطالبہ کے موافق ایسا فلیٹ دینا شرعاً لازم ہے یا نہیں؟
اکثر حضرات کا خیال ہے یہ عقد استصناع ہے، اور فلیٹ تیار ہونے سے پہلے زید نہ بلڈر کو فروخت کر سکتا ہے نہ کسی اور کو، یہ رقم کی واپسی فسخ و اقالہ ہے جو ثمن اول ہی پر درست ہے ۔ لہذا زید کے لیے دو کروڑ کی رقم لینا جائز نہیں فقط ۸۰ لاکھ ہی لے سکتا ہے ۔ اور بلڈر اس قسم کا فتوی لوگوں کو دکھاتا پھرتا ہے ۔
اس مسئلہ میں حضرت والا کی رہنمائی کی ضرورت ہے برائے کرم حکمِ شرعی سے مطلع فرما کر اجر عظیم کے مستحق ہوں ۔
Answer
جب کوئی شخص مثلاً: زید کسی کمپنی کو رقم دے کر مکان یا فلیٹ بنوانے کے لیے کہ دے اور مکان یا فلیٹ بُک کرا کر معاملہ طے کر لے تو اس معاملہ کو زمانہ حال کے فقہاء نے استصناع میں داخل فرمایا ہے، پھر اس میں تاریخ متعین ہو یا نہ ہو، مختار قول کے مطابق اس سے استصناع میں کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔
شرح مجلہ میں شیخ محمد خالد الاتاسی رقم طراز ہیں:
ثم ما ورد التعامل في استصناعه سواء كان مؤجلاً إلى شهر أو أزيد أو لم يكن مؤجلاً فالتأجيل يحمل على الاستعجال ولا يخرجه عن كونه استصناعاً، وهو قول الإمامين (أي الصاحبين) وعليه مشت هذه المادة لكونه أرفق. (شرح المجلة: ۱/٤۰۳، مكتبة رشيدية، كوئته).
پھر جب مدت گزرنے کے بعد صانع نے خاص جگہ پر فلیٹ بنانے سے معذرت کر لی اور روپے واپس لینے کے لیے کہا اور مستصنع روپیوں کے لینے سے انکاری ہے کیوں کہ اس کو زبردست نقصان ہے تو مستصنع نے عقد کو فسخ نہیں کیا اور صانع کو یک طرفہ عقد فسخ کرنے کا اختیار نہیں، اب صانع بلڈر اس فلیٹ کا مثل مستصنع کو دے دے ۔
بیع سلم کے بارے میں شرح مجلہ میں لکھا ہے:
ولو انقطع عن أيدي الناس بعد الحلول قبل أن يوفي المسلم فيه فرب السلم بالخيار إن شاء فسخ العقد وأخذ رأس ماله وإن شاء انتظر وجوده أي المسلم فيه. (شرح المجلة: ۲/۳۹۸، مكتبة رشيدية).
سلم اور استصناع اکثر احکام میں یکساں ہیں ۔ یہاں بھی جب مکان موعود پر وہ فلیٹ نہیں مل سکتا تو صانع اس کو مثل دے دے، اور اس لائن کے ماہرین مثل کو اچھی طرح جانتے ہیں ۔
پس ہماری ناقص رائے یہ ہے کہ آرڈر دیا ہوا شخص جو بلڈر کہلاتا ہے فلیٹ موعود کا مثل مستصنع زید کو دے دے ۔
بلڈر جو لوگوں کو فتوی دکھاتا ہے کہ میں زید کو اس جمع کی ہوئی رقم واپس کروں گا یہ اس وقت صحیح ہے جب زید عقد کو فسخ کر دے اور اگر زید فلیٹ یا اس کا مثل مانگتا ہے تو پھر بلڈر کو مثل دینا پڑے گا، پھر در حقیقت بلڈر ہی یہ فلیٹ زید کو حسب وعدہ دیگا، اگر قانونی مجبوری کی وجہ سے روپے زید کے اکاؤنٹ میں جمع ہو جائیں تو اس میں کوئی حرج نہیں فلیٹ کے مثل دینے کی صورت میں بلڈر فلیٹ خرید لے گا اور شرا کی تکمیل کے بعد فلیٹ زید کو حسبِ وعدہ دینے کا پابند ہو گا ۔ واللہ سبحانہ و تعالی اعلم ۔
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.